یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب وجوب الزكاة:
باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے۔
حدیث نمبر: 1399
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ , وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ , وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ.
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں ”مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا۔ سوا اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو عرب کے بعض لوگ کافر (مرتد) ہو گئے۔ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف قتال کا اقدام کیا) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ ان کے خلاف قتال کیوں کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے لوگوں سے قتال کا حکم اس وقت تک ہے جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ نہ پڑھ لیں، جب انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تو انہوں نے اپنے مال اور جان کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر اسلام کا حق ادا کرنا ہو گا اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكر أبو بكر الصديق ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← أبو بكر الصديق | صحابي | |
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة فقيه ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1399 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 1399
� لغوی توضیح:
«وَحِسَابُهُ عَلَي اللهِ» اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، یعنی اگر کسی کا باطن ظاہر کے خلاف ہو اور وہ اسلام ظاہر کرنے کے باوجود دل میں کفر چھپائے بیٹھا ہو تو اس کا حساب ہمارے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کے ذمہ ہے۔
«عَنَاقًا» بکری کا بچہ۔
فہم الحدیث:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم وقت زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جنگ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر رضی اللہ عنہ پر فضیلت و برتری بھی ثابت ہوتی ہے کہ جو بات عمر رضی اللہ عنہ کو بعد میں سمجھ آئی ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے پہلے ہی سمجھ چکے تھے۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اعتراض کرنا اور پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بطورِ دلیل محض قیاس پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں وہ حدیث یاد نہیں تھی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یاد تھی۔ دیکھئے: [حدیث 3435] اور نہوں نے اس میں صراحت کے ساتھ کلمہ شہادتین کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا ہے، یقیناً اگر ان بزرگوں کو اس حدیث کا علم ہوتا تو وہ کبھی بھی اختلاف نہ کرتے، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبار علماء کو بھی ہر چیز کا علم نہیں ہوتا اور یہ ممکن ہے کہ بڑے عالم یا امام کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور چھوٹے عالم کو اس کا علم ہو۔
«وَحِسَابُهُ عَلَي اللهِ» اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے، یعنی اگر کسی کا باطن ظاہر کے خلاف ہو اور وہ اسلام ظاہر کرنے کے باوجود دل میں کفر چھپائے بیٹھا ہو تو اس کا حساب ہمارے ذمہ نہیں بلکہ اللہ کے ذمہ ہے۔
«عَنَاقًا» بکری کا بچہ۔
فہم الحدیث:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم وقت زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جنگ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر رضی اللہ عنہ پر فضیلت و برتری بھی ثابت ہوتی ہے کہ جو بات عمر رضی اللہ عنہ کو بعد میں سمجھ آئی ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے پہلے ہی سمجھ چکے تھے۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اعتراض کرنا اور پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بطورِ دلیل محض قیاس پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں وہ حدیث یاد نہیں تھی جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یاد تھی۔ دیکھئے: [حدیث 3435] اور نہوں نے اس میں صراحت کے ساتھ کلمہ شہادتین کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا ہے، یقیناً اگر ان بزرگوں کو اس حدیث کا علم ہوتا تو وہ کبھی بھی اختلاف نہ کرتے، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کبار علماء کو بھی ہر چیز کا علم نہیں ہوتا اور یہ ممکن ہے کہ بڑے عالم یا امام کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور چھوٹے عالم کو اس کا علم ہو۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 13]
Sahih Bukhari Hadith 1399 in Urdu
أبو بكر الصديق ← عمر بن الخطاب العدوي