صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب من فضائل عثمان بن عفان رضي الله عنه:
باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6215
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ هَاهُنَا، وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَى مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ أَبُو مُوسَى: خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَكَ فِي الْأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ حَسَّانَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ.
سعید بن عفیر نے کہا: مجھے سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس جگہ (اور سلیمان نے سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کی جانب اشارہ کیا) حدیث سنائی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے نکلا۔ میں نے دیکھا کہ آپ (لوگوں کے) باغات کے اندر سے گزر کر گئے ہیں۔ میں آپ کے پیچھے ہو لیا، میں نے دیکھا کہ آپ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ہیں، کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر انہیں کنویں میں لٹکا لیا ہے، پھر یحییٰ بن حسان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور (اس میں) حضرت سعید بن مسیب کا قول: ”میں نے ان کی قبریں مراد لیں“ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6215]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ سے گھر سے نکلا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغات کی طرف نکل گئے ہیں، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا، سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ ایک باغ میں داخل ہو کر اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیاں ننگی کر کے انھیں کنویں میں لٹکا لیا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں حضرت سعید کا قبروں کی تعبیر والا قول بیان نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6215 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6215
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
سلك في الاموال:
باغوں کی راہ لی ہے،
باغات کے پھل چونکہ ذریعہ آمدن ہیں،
اس لیے باغ کو مال سے تعبیر کر دیا گیا ہے،
اس بنا پر اونٹوں کو مال کہہ دیا جاتا تھا۔
مفردات الحدیث:
سلك في الاموال:
باغوں کی راہ لی ہے،
باغات کے پھل چونکہ ذریعہ آمدن ہیں،
اس لیے باغ کو مال سے تعبیر کر دیا گیا ہے،
اس بنا پر اونٹوں کو مال کہہ دیا جاتا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6215]
Sahih Muslim Hadith 6215 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عبد الله بن قيس الأشعري