مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1027. حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22689
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْكِتَابَةَ وَالْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ لِي بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنْ سَرَّكَ أَنْ تُطَوَّقَ بِهَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْهَا" .
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اہل صفہ میں سے کچھ لوگوں کو لکھنا اور قرآن کریم پڑھنا سکھایا تو ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان ہدیئے میں پیش کی میں نے سوچا کہ میرے پاس مال و دولت تو ہے نہیں میں اسی سے اللہ کے راستہ میں تیر اندازی کیا کروں گا پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں یہ پسند ہو کہ تمہاری گردن میں آگے کا طوق ڈالا جائے تو اسے ضرور قبول کرلو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22689]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الأسود بن ثعلبة مجهول، ومغيرة بن زياد فيه كلام، وقد خولف
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 22689 in Urdu
الأسود بن ثعلبة الكندي ← عبادة بن الصامت الأنصاري