سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : النهى عن إنشاد الضالة في المسجد
باب: مسجد میں گمشدہ چیز کے ڈھونڈنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: جَاءَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تو نہ پائے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے لگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تجھے نہ ملے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2742) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 718 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 718
718 ۔ اردو حاشیہ:
➊ بعض روایات میں ہے کہ وہ آدمی مسجد میں منہ اندر کر کے کہنے لگا: کسی نے میرا سرخ اونٹ دیکھا ہے؟ تو آپ نے یہ فرمایا۔ [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 569]
➋ مسجد کو ایسے اعلان کی جگہ بنانا درست نہیں۔ ہاں! اگر کوئی نمازی آدمی نماز پڑھنے آئے اور اپنی گم شدہ چیز کا تذکرہ ساتھیوں سے کر دے تو منع نہیں کیونکہ یہ عرفاً اعلان میں نہیں آتا۔
➌ حدیث میں صرف جانور کا ذکر ہے مگر اس کے علاوہ دیگر اشیاء جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ گم شدہ بچے کا اعلان اس میں نہیں آتا کیونکہ اس کو «ضالة» نہیں کہتے۔
➊ بعض روایات میں ہے کہ وہ آدمی مسجد میں منہ اندر کر کے کہنے لگا: کسی نے میرا سرخ اونٹ دیکھا ہے؟ تو آپ نے یہ فرمایا۔ [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 569]
➋ مسجد کو ایسے اعلان کی جگہ بنانا درست نہیں۔ ہاں! اگر کوئی نمازی آدمی نماز پڑھنے آئے اور اپنی گم شدہ چیز کا تذکرہ ساتھیوں سے کر دے تو منع نہیں کیونکہ یہ عرفاً اعلان میں نہیں آتا۔
➌ حدیث میں صرف جانور کا ذکر ہے مگر اس کے علاوہ دیگر اشیاء جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ گم شدہ بچے کا اعلان اس میں نہیں آتا کیونکہ اس کو «ضالة» نہیں کہتے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 718]
Sunan an-Nasa'i Hadith 718 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري