🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : النهى عن إنشاد الضالة في المسجد
باب: مسجد میں گمشدہ چیز کے ڈھونڈنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: جَاءَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَجَدْتَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تو نہ پائے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور مسجد میں گم شدہ جانور کا اعلان کرنے لگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2742) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥زيد بن أبي أنيسة الجزري، أبو أسامة
Newزيد بن أبي أنيسة الجزري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن أبي يزيد القرشي، أبو عبد الرحيم
Newخالد بن أبي يزيد القرشي ← زيد بن أبي أنيسة الجزري
ثقة
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← خالد بن أبي يزيد القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن وهب الحراني، أبو المعافي، أبو المعالي
Newمحمد بن وهب الحراني ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 718 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 718
718 ۔ اردو حاشیہ:
➊ بعض روایات میں ہے کہ وہ آدمی مسجد میں منہ اندر کر کے کہنے لگا: کسی نے میرا سرخ اونٹ دیکھا ہے؟ تو آپ نے یہ فرمایا۔ [صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 569]
➋ مسجد کو ایسے اعلان کی جگہ بنانا درست نہیں۔ ہاں! اگر کوئی نمازی آدمی نماز پڑھنے آئے اور اپنی گم شدہ چیز کا تذکرہ ساتھیوں سے کر دے تو منع نہیں کیونکہ یہ عرفاً اعلان میں نہیں آتا۔
➌ حدیث میں صرف جانور کا ذکر ہے مگر اس کے علاوہ دیگر اشیاء جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ گم شدہ بچے کا اعلان اس میں نہیں آتا کیونکہ اس کو «ضالة» نہیں کہتے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 718]

Sunan an-Nasa'i Hadith 718 in Urdu