مسند الحميدي کل احادیث 1337 :حدیث نمبر
مسند الحميدي
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول متفرق روایات
حدیث نمبر: 1125
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
1125 - حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان، قال: ثنا الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: «إذا هلك كسري فلا كسري بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله عز وجل» 1125 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَي فَلَا كِسْرَي بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرٌ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهَمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
1125- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسریٰ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا، تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا۔ جب قیصر مرجائے گا، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آئے گا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرو گے۔


تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3027، 3029، 3120، 3618، 6630، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1740، 2918، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6689، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2216، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18521، 18674، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7305، 7388، 7596، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5881»

   صحيح البخاري6630عبد الرحمن بن صخرإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
   صحيح البخاري3027عبد الرحمن بن صخرهلك كسرى ثم لا يكون كسرى بعده وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده لتقسمن كنوزها في سبيل الله الحرب خدعة
   صحيح البخاري3618عبد الرحمن بن صخرإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
   صحيح البخاري3120عبد الرحمن بن صخرإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
   صحيح مسلم7327عبد الرحمن بن صخرلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
   جامع الترمذي2216عبد الرحمن بن صخرإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
   صحيفة همام بن منبه30عبد الرحمن بن صخريهلك كسرى ثم لا كسرى بعده وقيصر ليهلكن ثم لا يكون قيصر بعده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله وسمى الحرب خدعة
   المعجم الصغير للطبراني587عبد الرحمن بن صخر إذا هلك كسرى فلا كسرى ، وإذا هلك قيصر فلا قيصر ، والذي نفسي بيدي ، لتنفقن كنوزهما فى سبيل الله عز وجل
   مسندالحميدي1125عبد الرحمن بن صخرإذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله عز وجل

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1125  
1125- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسریٰ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا، تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا۔ جب قیصر مرجائے گا، تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آئے گا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرو گے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1125]
فائدہ:
اس حدیث میں اسلام کی حقانیت کی بہت بڑی دلیل ہے کہ جس طرح امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکل اسی طرح پورا ہوا اور قیصر و کسریٰ تباہ ہوئے، اور ان کے بعد کوئی قیصر و کسریٰ نہیں آیا اور نہ قیامت تک آئے گا۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسریٰ عراق میں اور قیصر شام میں نہیں ہوگا، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی بادشاہت کے ختم ہونے کی پیشینگوئی کی، تو ہوا بھی اسی طرح۔ اور کسریٰ کا معاملہ تو بالکل ختم ہو گیا اور اس کی بادشاہت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، اور قیصر شام کو چھوڑ کر اپنے شہر قسطنطنیہ داخل ہو گیا، اس کے شہر بھی فتح ہوئے اور اس کے تمام خزانے مسلمانوں کے قبضے میں آئے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔ (اكـمـال الـعـلـم 230/8)
قیصر کے متعلق تفصیل ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ والنھایۃ (71 / 4-73) میں ذکر کی ہے۔ نیز دیکھیں (تاریخ الاسلام سندھی: 511 / 2۔ 512)
   مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث\صفحہ نمبر: 1123   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.