الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند احمد کل احادیث 27647 :حدیث نمبر
مسند احمد
34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 12730
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(حديث مرفوع) حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن ابي التياح ، قال: سمعت انس بن مالك ، قال: لما فتحت مكة قال:" قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم الغنائم في قريش، فقالت الانصار: إن هذا لهو العجب، إن سيوفنا تقطر من دمائهم، وإن غنائمنا ترد عليهم، فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجمعهم، فقال:" ما هذا الذي بلغني عنكم؟" فقالوا: هو الذي بلغك، وكانوا لا يكذبون، فقال:" اما ترضون ان يرجع الناس بالدنيا، وترجعون برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيوتكم، لو سلك الناس واديا او شعبا وسلكت الانصار واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار او شعب الانصار".(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ، إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جارہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے سے بنے ہوئے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی اور کو آنے کی اجازت نہ دی، جب وہ سب جمع ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ آپ کے حوالے سے مجھے کیا باتیں معلوم ہو رہی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ بات ٹھیک ہے اور انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، اگر سارے لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4330، م: 1059


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.