الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن دارمي کل احادیث 3535 :حدیث نمبر
سنن دارمي
خرید و فروخت کے ابواب
17. باب لاَ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ:
17. بھائی کے سودے پر سودا جائز نہیں
حدیث نمبر: 2586
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(حديث مرفوع) اخبرنا محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا محمد هو: ابن إسحاق , عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الرحمن بن شماسة، عن عقبة بن عامر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , يقول: "لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر ان يبيع على بيع اخيه حتى يتركه".(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ: ابْنُ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَهُ".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی الله تعالیٰ پر ایمان اور روزِ قیامت پر یقین رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے سودے (بیع) پر سودا (بیع) کرے یہاں تک کہ وہ (دوسرا بھائی) اس سودے کو ترک کر دے۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح فقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند الموصلي، [مكتبه الشامله نمبر: 2592]»
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1414]، [أبويعلی 1762، وغيرهما]

وضاحت:
(تشریح حدیث 2585)
بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص مشتری (خریدنے والے) سے کہے: تو نے یہ چیز جو خریدی ہے اس کو واپس کر دے اس سے بہتر میں تجھ کو اسی قیمت پر دے دوں گا، اور یہ مدتِ خیار کے اندر ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے، ہاں اگر کوئی خریدنے والا از خود اس سامان اور سودے کو چھوڑ دے تو پھر اسے خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح شراء پر شراء بھی جائز نہیں ہے، وہ بایں صورت کہ فروخت کرنے والے (بائع) سے مدتِ خیار کے دوران یوں کہے کہ تو یہ بیع فسخ کر دے میں تجھ سے یہی چیز اس سے زیادہ قیمت پر خرید لوں گا، یہ بھی جائز نہیں۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ایسی بیع مسلمانوں کے درمیان جائز نہیں، لیکن جمہور علماء نے تمام انسانوں کے ساتھ عام رکھا ہے، کیونکہ یہ چیز اخلاق سے بعید ہے کہ کوئی شخص اپنا سامان بیچ رہا ہے اور بیچ میں مداخلت کر دیں اور اس کا فائدہ نہ ہونے دیں۔

قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح فقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند الموصلي

   صحيح البخاري2288عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم ومن أتبع على ملي فليتبع
   صحيح البخاري2400عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم
   صحيح البخاري2287عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع
   صحيح مسلم4002عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   جامع الترمذي1308عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع
   سنن أبي داود3345عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   سنن النسائى الصغرى4692عبد الرحمن بن صخرإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع والظلم مطل الغني
   سنن النسائى الصغرى4695عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   سنن ابن ماجه2403عبد الرحمن بن صخرالظلم مطل الغني وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   المعجم الصغير للطبراني927عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم
   صحيفة همام بن منبه63عبد الرحمن بن صخرمن الظلم مطل الغني وإن أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم526عبد الرحمن بن صخرمطل الغني ظلم، وإذا اتبع احدكم على مليء فليتبع
   بلوغ المرام738عبد الرحمن بن صخر مطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع
   مسندالحميدي1062عبد الرحمن بن صخرالظلم مطل الغني، فإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.