الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند احمد کل احادیث 27647 :حدیث نمبر
مسند احمد
1245. حَدِيثُ ابْنِ الْمُنْتَفِقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 27153
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عفان , حدثنا همام ، قال: حدثنا محمد بن جحادة ، قال: حدثني المغيرة بن عبد الله اليشكري ، عن ابيه ، قال: انطلقت إلى الكوفة لاجلب بغالا، قال: فاتيت السوق ولم تقم، قال: قلت: لصاحب لي: لو دخلنا المسجد وموضعه يومئذ في اصحاب التمر، فإذا فيه رجل من قيس، يقال له: ابن المنتفق ، وهو يقول: وصف لي رسول الله صلى الله عليه وسلم وحلي، فطلبته بمكة فقيل لي: هو بمنى فطلبته بمنى، فقيل لي، هو بعرفات، فانتهيت إليه , فزاحمت عليه، فقيل لي: إليك عن طريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " دعوا الرجل ارب ما له"، قال: فزاحمت عليه حتى خلصت إليه، قال: فاخذت بخطام راحلة رسول الله صلى الله عليه وسلم او قال: زمامها هكذا حدث محمد , حتى اختلفت اعناق راحلتينا، قال: فما يزعني رسول الله صلى الله عليه وسلم او قال: ما غير علي , هكذا حدث محمد، قال: قلت: ثنتان اسالك عنهما: ما ينجيني من النار، وما يدخلني الجنة؟ قال: فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السماء، ثم نكس راسه، ثم اقبل علي بوجهه، قال:" لئن كنت اوجزت في المسالة، لقد اعظمت واطولت، فاعقل عني إذا: اعبد الله لا تشرك به شيئا، واقم الصلاة المكتوبة، واد الزكاة المفروضة، وصم رمضان، وما تحب ان يفعله بك الناس، فافعله بهم، وما تكره ان ياتي إليك الناس، فذر الناس منه"، ثم قال:" خل سبيل الراحلة" .حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا، قَالَ: فَأَتَيْتُ السُّوقَ وَلَمْ تُقَمْ، قَالَ: قُلْتُ: لِصَاحِبٍ لِي: لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ وَمَوْضِعُهُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ، فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْمُنْتَفِقِ ، وَهُوَ يَقُولُ: وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُلِّيَ، فَطَلَبْتُهُ بمكة فقيل لي: هو بمنى فطلبته بِمِنًى، فَقِيلَ لِي، هُوَ بِعَرَفَاتٍ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ , فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لِي: إِلَيْكَ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ"، قَالَ: فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: زِمَامِهَا هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ , حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا، قَالَ: فَمَا يَزَعُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: مَا غَيَّرَ عَلَيَّ , هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ، قَالَ: قُلْتُ: ثِنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا: مَا يُنَجِّينِي مِنَ النَّارِ، وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ، قَالَ:" لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ، لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ، فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا: اعْبُدْ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَأَقِمْ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَصُمْ رَمَضَانَ، وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ، فَافْعَلْهُ بِهِمْ، وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ، فَذَرْ النَّاسَ مِنْهُ"، ثُمَّ قَالَ:" خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ" .
عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب جن کا نام ابن منتفق تھا، یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا، کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آ گئے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ واہ! تم نے اگرچہ بہت مختصر لیکن بہت عمدہ سوال کیا، اگر تم سجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا، اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔

حكم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله اليشكري


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.