الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
مسند الحميدي کل احادیث 1337 :حدیث نمبر
مسند الحميدي
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
حدیث نمبر: 428
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
428 - حدثنا الحميدي قال: ثنا سفيان قال: ثنا صالح بن كيسان قال: سمعت ابا محمد يقول: سمعت ابا قتادة يقول: خرجنا مع رسول الله صلي الله عليه وسلم حتي إذا كنا بالقاحة ومنا المحرم وغير المحرم إذ بصرت باصحابي يتراءون شيئا فنظرت فإذا انا بحمار وحش فاسرجت فرسي فركبت فاخذت رمحي فسقط سوطي، فقلت لاصحابي ناولوني وكانوا محرمين، فقالوا: لا والله لا نعينك عليه بشيء فتناولت سوطي ثم اتيت الحمار من خلفه وهو وراء اكمة فطعنت برمحي فعقرته فاتيت به اصحابي فقال بعضهم كلوه وقال بعضهم لا تاكلوه وكان النبي صلي الله عليه وسلم امامنا فحركت فرسي فادركته فقال «هو حلال فكلوه» 428 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّي إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأصْحَابِي يَتَرَاءَونَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِي فَسَقَطَ سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي نَاوِلُونِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِي ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَأْكُلُوهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ «هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ»
428- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب تک قاحہ (نامی جگہ) پر پہنچے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا، اور کچھ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ اس دوران میں نظر اپنے ساتھیوں پر پڑی، تو وہ ایک دوسرے کو کوئی اشارہ کر رہے تھے۔ میں نے غور سے جائزہ لیا تو وہاں ایک نیل گائے تھی، میں نے اپنے گھوڑے پر زین رکھی اس پر سوار ہوا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا تو میری چھڑی گرگئی، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم مجھے اسے پکڑاؤ، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم کسی بھی حوالے سے تمہاری مدد نہیں کریں گے تو میں نے اپنی چھڑی خود ہی پکڑلی پھر میں پیچھے کی طرف سے نیل گائے کے پاس آیا، وہ اس وقت ایک ٹیلے کے پیچھے تھی، میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے زخمی کردیا، میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، تو ان میں سے بعض نے کہا: تم اسے کھالو، اور بعض نے کہا: تم لوگ اسے نہ کھاؤ۔ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے جارہے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال ہے تم لوگ اسے کھالو۔

تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 1821، 1822، 1823، 1824، 2570، 2854، 2914، 4149، 5406، 5407، 5490، 5491 م، 5492، ومسلم برقم: 1196، ومالك فى "الموطأ"، برقم: 1278 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2635، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3966، 3974، 3975، 3977 والنسائي فى «الكبرى» برقم: 3784، 3793، 3794، 3795، 4838، وأبو داود فى «سننه» ، برقم: 1852، والترمذي فى «‏‏‏‏جامعه» برقم: 847، 848، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1867، 1869، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3093، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22962»

   صحيح البخاري5492حارث بن ربعيطعم أطعمكموها الله
   صحيح البخاري5490حارث بن ربعيطعمة أطعمكموها الله
   صحيح مسلم2852حارث بن ربعيطعمة أطعمكموها الله
   جامع الترمذي847حارث بن ربعيطعمة أطعمكموها الله
   سنن أبي داود1852حارث بن ربعيطعمة أطعمكموها الله
   سنن النسائى الصغرى2818حارث بن ربعيطعمة أطعمكموها الله
   صحيح البخاري5491حارث بن ربعي إلا انه قال: هل معكم من لحمه شيء
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم406حارث بن ربعيهل معكم من لحمه شيء
   صحيح البخاري1824حارث بن ربعيخرج حاجا فخرجوا معه، فصرف طائفة منهم فيهم ابو قتادة
   مسندالحميدي428حارث بن ربعيهو حلال فكلوه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:428  
428- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب تک قاحہ (نامی جگہ) پر پہنچے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا، اور کچھ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ اس دوران میں نظر اپنے ساتھیوں پر پڑی، تو وہ ایک دوسرے کو کوئی اشارہ کر رہے تھے۔ میں نے غور سے جائزہ لیا تو وہاں ایک نیل گائے تھی، میں نے اپنے گھوڑے پر زین رکھی اس پر سوار ہوا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا تو میری چھڑی گرگئی، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم مجھے اسے پکڑاؤ، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم کسی بھی حوالے سے تمہاری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:428]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حالت احرام میں تمام ممنوع کام سے کلی اجتناب کرنا چاہیے تا کہ حج وعمرے کا ثواب حاصل ہو، اگر ان شرائط کی پابندی نہ کی تو حج و عمرہ بے فائدہ رہے گا۔ نیز اس حدیث میں اتباع قرآن و حدیث کو لازم پکڑنے پر زبردست دلیل ہے۔ مومن کو نہ صرف سفر حج یا سفر عمرہ میں اتباع قرآن و حدیث کرنی چاہیے، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن و حدیث کوملحوظ رکھنا چاہیے۔
   مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث\صفحہ نمبر: 428   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.