سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: سنتوں کا بیان
Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)
26. باب فِي الْحَوْضِ
26. باب: حوض کوثر کا بیان۔
Chapter: The Pond.
حدیث نمبر: 4744
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
(قدسي) حدثنا موسى بن إسماعيل، اخبرنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" لما خلق الله الجنة، قال لجبريل: اذهب فانظر إليها، فذهب فنظر إليها، ثم جاء، فقال: اي رب، وعزتك لا يسمع بها احد إلا دخلها، ثم حفها بالمكاره، ثم قال: يا جبريل اذهب فانظر إليها، فذهب فنظر إليها ثم جاء، فقال: اي رب، وعزتك لقد خشيت ان لا يدخلها احد، قال: فلما خلق الله النار، قال: يا جبريل، اذهب فانظر إليها، فذهب فنظر إليها، ثم جاء، فقال: اي رب، وعزتك لا يسمع بها احد فيدخلها، فحفها بالشهوات، ثم قال: يا جبريل، اذهب فانظر إليها، فذهب فنظر إليها، ثم جاء، فقال: اي رب، وعزتك لقد خشيت ان لا يبقى احد إلا دخلها".
(قدسي) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، قَالَ: فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ، قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا، فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہو گا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا: جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15015)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان والنذور 2 (3794)، مسند احمد (2/254، 332، 373) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: یہ باب معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کے رد و ابطال میں ہے، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جب کہ اہل حدیث و سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ دونوں پیدا کی جا چکی ہیں۔

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ said: When Allah created Paradise, He said to Gabriel: Go and look at it. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will fail to enter it. He then surrounded it with disagreeable things, and said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, I am afraid that no one will enter it. When Allah created Hell, He said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will enter it. He then surrounded it with desirable things and said: Go and look at it, Gabriel. He went, looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might and power, I am afraid that no one will remain who does not enter it.
USC-MSA web (English) Reference: Book 41 , Number 4726


قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5696)
أخرجه النسائي (3794 وسنده حسن) والترمذي (2560 وسنده حسن)

   سنن النسائى الصغرى3794عبد الرحمن بن صخرانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها فرجع فقال وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بها فحفت بالمكاره فقال اذهب إليها فانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها
   جامع الترمذي2560عبد الرحمن بن صخرانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها قال فجاءها ونظر إليها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها قال فرجع إليه قال فوعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بها فحفت بالمكاره فقال ارجع إليها
   سنن أبي داود4744عبد الرحمن بن صخرانظر إليها فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال أي رب وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها ثم حفها بالمكاره ثم قال يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال أي رب وعزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد انظر إليها فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال أي رب وعزتك لا يسمع بها

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4744  
´حوض کوثر کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4744]
فوائد ومسائل:
1: جنت اور اس کی نعمتیں، دوزخ اور اس کا عذاب فی الواقع پیدا کیے جاچکے ہیں۔

2: جنت کا داخلہ شرعی پابندیوں پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے اور ان کے بالمقابل نفسانی خواہشات کی پیروی اور شرعی پابندیوں سے آزادی جہنم میں جانے کا باعث ہیں، لہذا ضروری ہے کہ انسان نفسانی خواہشات کی پیروی سے دور رہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4744   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.