الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
امور حکومت کا بیان
The Book on Government
9. باب اَلْإمَامُ جُنَّةُ يُّقَاتَلُ مِنْ وَّرَاثِهِ وَيُتَّقٰي بِهِ
9. باب: امام مسلمانوں کی سپر ہے۔
Chapter: The ruler is a shield from behind whom they fight and by whom they are protected
حدیث نمبر: 4772
Save to word اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا شبابة ، حدثني ورقاء ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به، فإن امر بتقوى الله عز وجل، وعدل كان له بذلك اجر، وإن يامر بغيره كان عليه منه ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ، وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ ".
4772. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام (مسلمانوں کا حکمران) ڈھال ہے، اس کے پیچھے (اس کی اطاعت کرتے ہوئے) جنگ کی جاتی ہے، اس کے ذریعے سے تحفط حاصل کیا جاتا ہے، اگر امام اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دے اور عدل و انصاف سے کام لے تو اسے اس کا اجر ملے گا اور اگر اس نے اس کے خلاف کچھ کیا تو اس کا وبال اس پر ہو گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام تو ڈھال ہے، اس کی سرپرستی اور نگرانی میں جنگ لڑی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے، اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے گا اور عدل سے کام لے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور اگر اس کے سوا حکم دے گا، تو اس کا گناہ اس پر ہو گا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1841

   سنن النسائى الصغرى4201عبد الرحمن بن صخرالإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن أمر بغيره فإن عليه وزرا
   صحيح مسلم4772عبد الرحمن بن صخرالإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل كان له بذلك أجر وإن يأمر بغيره كان عليه منه
   سنن أبي داود2757عبد الرحمن بن صخرالإمام جنة يقاتل به
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4772 کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4772  
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
جُنَّة:
ڈھال،
سپر۔
(2)
يُقَاتَلُ مَن وَّرَائِه:
اس کی پشت پناہی اور سرپرستی میں جنگ لڑی جاتی ہے۔
(3)
يُتَّقٰي بِهِ:
اس کے ذریعہ ظلم وستم سے امان اور بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاکم اعلیٰ اور امام اپنی رعایا کے مفادات کا محافظ و نگران ہے،
ان کو ہر قسم کے بیرونی اور اندرونی خطرات اور نقصانات سے بچاتا ہے،
دشمن کے حملہ سے بچاؤ اور حفاظت کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے اور دفاعی انتظامات کرتا ہے،
سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے اور اندرونی فتنہ و فساد اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ظلم و ستم سے بچاتا ہے،
اس کی ہیبت و دبدبہ کی بنا پر لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہیں ڈھاتے اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی حدود کی پابندی کا حکم دے اور عدل و انصاف سے کام لے تاکہ وہ اللہ کے ہاں سرخرو ہو اور ثواب حاصل کرے،
اگر وہ اس کے خلاف ورزی کرتا ہے،
خود اسلامی حدود کو توڑتا ہے اور ظلم و ستم سے کام لیتا ہے،
تو اس سے اس کا مواخذہ ہو گا،
لیکن اس کے خلاف بغاوت نہیں کی جائے گی۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4772   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4201  
´امام اور حاکم کے حقوق و واجبات اور ذمہ داریوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام ایک ڈھال ہے جس کے زیر سایہ ۱؎ سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے جان بچائی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر وہ اللہ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور اگر وہ اس کے علاوہ کا حکم دے تو اس کا وبال اسی پر ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4201]
اردو حاشہ:
(1) امیر و امام کے حقوق و فرائض کی تعیین و تبیین کے بعد جو بھی اس سے عدول اور تجاوز کرے گا، گناہ گار ہو گا۔ امام اپنے فرائض عدل و انصاف سے ادا کرے گا تو وہ اجر عظیم کا مستحق ہو گا اور اگر ظلم و بے انصافی کرے گا تو اللہ کے ہاں گناہ گار ٹھہرے گا۔
(2) حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ امام کو ڈھال بنایا جائے، شر اور فتنہ و فساد سے امام کے ذریعے سے بچا جائے۔ تمام معاملات میں اس کے مبنی بر انصاف فیصلے تسلیم کیے جائیں، اور اس کی اطاعت کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں اپنے تعاون سے محروم نہ کیا جائے اور نہ اسے کسی حالت میں بے یار و مددگار چھوڑا جائے۔ اپنی ہلاکت کے ڈر سے اسے تنہا نہ چھوڑا جائے وغیرہ۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ شرعی امیر و حاکم لوگوں کے لیے اس طرح ڈھال ہوتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی شخص دوسرے پر ظلم نہیں کرتا، نیز دشمن بھی اس سے خوف زدہ رہتا ہے، لہٰذا اس ڈھال کی حفاظت کرنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی آڑ میں لڑا جائے کے معنیٰ ہیں کہ امام کو محفوظ جگہ رکھا جائے، دوسرے معنیٰ یہ ہیں کہ امام خود مجاہدین کی اگلی صفوں میں ہو اور بہادری سے دشمن کے ساتھ قتال کرے۔ دونوں معانی درست ہیں کیونکہ بعض مقامات پر نبی ﷺ کے لیے محفوظ جگہ بنائی گی۔ جہاں سے آپ میدان جنگ کا مشاہدہ کرتے اور اس کے مطابق اوامر جاری فرماتے اور بعض مقامات میں نبی ﷺ کا اگلی صفوں میں رہ کر قتال کرنا بھی ثابت ہے، جب جنگ کی شدت ہوتی تو صحابہ آپ کو اپنے لیے ڈھال بناتے۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4201   

  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2757  
´عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے (تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2757]
فوائد ومسائل:
امام یعنی ریئس۔
اور قائد اسلام او ر مسلمانوں کی شان وشوکت کی ایک علامت ہوتا ہے۔
دشمنوں سے انھیں محفوظ رکھنے کی تدبیرکرتا۔
اور خود ان کے مابین بھی امن وامان قائم رکھتا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ کفار سے جو عہد وپیمان کے گئے ہوں تمام لوگ اس کا پاس کریں۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2757   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.