صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان
The Book of (The Wedlock)
9. بَابُ نِكَاحِ الأَبْكَارِ:
9. باب: کنواریوں سے نکاح کرنے کا بیان۔
(9) Chapter. To marry virgins.
حدیث نمبر: Q5077
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
وقال ابن ابي مليكة: قال ابن عباس لعائشة:" لم ينكح النبي صلى الله عليه وسلم بكرا غيرك".وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَائِشَةَ:" لَمْ يَنْكِحْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكْرًا غَيْرَكِ".
‏‏‏‏ اور ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔

حدیث نمبر: 5077
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني اخي، عن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قلت:" يا رسول الله، ارايت لو نزلت واديا وفيه شجرة قد اكل منها، ووجدت شجرا لم يؤكل منها، في ايها كنت ترتع بعيرك؟ قال: في الذي لم يرتع منها، تعني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتزوج بكرا غيرها".(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ نَزَلْتَ وَادِيًا وَفِيهِ شَجَرَةٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا، وَوَجَدْتَ شَجَرًا لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تُرْتِعُ بَعِيرَكَ؟ قَالَ: فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ مِنْهَا، تَعْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمائیے اگر آپ کسی وادی میں اتریں اور اس میں ایک درخت ایسا ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک درخت ایسا ہو جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ اپنا اونٹ ان درختوں میں سے کس درخت میں چرائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس درخت میں جس میں سے ابھی چرایا نہیں گیا ہو۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔

Narrated `Aisha: I said, "O Allah's Apostle! Suppose you landed in a valley where there is a tree of which something has been eaten and then you found trees of which nothing has been eaten, of which tree would you let your camel graze?" He said, "(I will let my camel graze) of the one of which nothing has been eaten before." (The sub-narrator added: `Aisha meant that Allah's Apostle had not married a virgin besides herself .)
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 62, Number 14


   صحيح البخاري5156عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي فأتتني أمي فأدخلتني الدار فإذا نسوة من الأنصار في البيت فقلن على الخير والبركة وعلى خير طائر
   صحيح البخاري5134عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست سنين بنى بها وهي بنت تسع سنين
   صحيح البخاري3894عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي وأنا بنت ست سنين فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن خزرج فوعكت فتمرق شعري فوفى جميمة فأتتني أمي أم رومان وإني لفي أرجوحة ومعي صواحب لي فصرخت بي فأتيتها لا أدري ما تريد بي فأخذت بيدي حتى أوقفتني على باب الدار وإني لأنهج
   صحيح البخاري5160عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي فأتتني أمي فأدخلتني الدار فلم يرعني إلا رسول الله ضحى
   صحيح البخاري5077عائشة بنت عبد اللهلم يرتع منها تعني أن رسول الله لم يتزوج بكرا غيرها
   صحيح البخاري5133عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست سنين أدخلت عليه وهي بنت تسع مكثت عنده تسعا
   صحيح مسلم3483عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال بنى بي في شوال أي نساء رسول الله كان أحظى عنده مني
   صحيح مسلم3479عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لست سنين بنى بي وأنا بنت تسع سنين
   صحيح مسلم3482عائشة بنت عبد اللهتزوجها رسول الله وهي بنت ست بنى بها وهي بنت تسع مات عنها وهي بنت ثمان عشرة
   صحيح مسلم3481عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت سبع سنين زفت إليه وهي بنت تسع سنين ولعبها معها مات عنها وهي بنت ثمان عشرة
   صحيح مسلم3480عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي وأنا بنت ست سنين بنى بي وأنا بنت تسع سنين
   جامع الترمذي1093عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال بنى بي في شوال
   سنن أبي داود2121عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وأنا بنت سبع أو ست دخل بي وأنا بنت تسع
   سنن أبي داود4935عائشة بنت عبد اللهلما قدمنا المدينة جاءني نسوة وأنا ألعب على أرجوحة وأنا مجممة فذهبن بي فهيأنني وصنعنني ثم أتين بي رسول الله بنى بي وأنا ابنة تسع سنين
   سنن أبي داود4933عائشة بنت عبد اللهتزوجني وأنا بنت سبع أو ست لما قدمنا المدينة أتين نسوة وقال بشر فأتتني أم رومان وأنا على أرجوحة فذهبن بي وهيأنني وصنعنني فأتي بي رسول الله بنى بي وأنا ابنة تسع فوقفت بي على الباب فقلت هيه هيه
   سنن النسائى الصغرى3259عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لتسع سنين صحبته تسعا
   سنن النسائى الصغرى3238عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال أدخلت عليه في شوال كانت عائشة تحب أن تدخل نساءها في شوال أي نسائه كانت أحظى عنده مني
   سنن النسائى الصغرى3381عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وهي بنت ست سنين بنى بها وهي بنت تسع
   سنن النسائى الصغرى3257عائشة بنت عبد اللهتزوجها وهي بنت ست بنى بها وهي بنت تسع
   سنن النسائى الصغرى3379عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله في شوال أدخلت عليه في شوال أي نسائه كان أحظى عنده مني
   سنن النسائى الصغرى3258عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله لسبع سنين دخل علي لتسع سنين
   سنن النسائى الصغرى3260عائشة بنت عبد اللهتزوجها رسول الله وهي بنت تسع مات عنها وهي بنت ثماني عشرة
   سنن ابن ماجه1990عائشة بنت عبد اللهتزوجني النبي في شوال وبنى بي في شوال أي نسائه كان أحظى عنده مني كانت عائشة تستحب أن تدخل نساءها في شوال
   سنن ابن ماجه1876عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله وأنا بنت ست سنين قدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن الخزرج فوعكت فتمرق شعري حتى وفى له جميمة فأتتني أمي أم رومان وإني لفي أرجوحة ومعي صواحبات لي فصرخت بي فأتيتها وما أدري ما تريد فأخذت بيدي فأوقفتني على باب الدار
   مسندالحميدي233عائشة بنت عبد اللهتزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا بنت ست سنين أو سبع سنين، وبنى بي وأنا بنت تسع

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1876  
´باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آ گیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1876]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نابالغ بچی کا نکاح درست ہے۔

(2) (اُرْجُوحَة)
جھولا ایک بڑی لکڑی ہوتی ہے جو درمیان سے اونچی جگہ رکھی ہوتی ہے۔
بچے اس پر دونوں طرف بیٹھ جاتے ہیں۔
جب وہ ایک طرف سے نیچے ہوتی ہے تو دوسری طرف سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔
اسے انگریزی میں (See Saw)
سی سا کہتے ہیں۔

(3)
رخصتی کے وقت دلھن کو آراستہ کرنا مسنون ہے۔

(4)
رخصتی کے وقت ہمسایہ خواتین کا جمع ہونا اور تیاری میں مدد دینا درست ہے تاہم آج کل جو بے جا تکلفات اور رسم و رواج اختیار کر لیے گئے ہیں یہ خواہ مخواہ کی تکلیف ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔

(5)
اسی طرح بیوٹی پارلروں میں بھیج کر دلھن کو آراستہ کروانا فضول خرچی بھی ہے، حیا باختہ اور بے پردہ عورتوں کی نقالی بھی اور تغییر لخلق اللہ بھی۔

(6)
اسلام میں برات کا کوئی تصور نہیں یہ ہندوانہ رسم ہے۔
اسی طرح مروجہ جہیز بھی غیر اسلامی رسم ہے۔

(7)
نوسال کی بچی بالغ ہو سکتی ہے اور بالغ ہونے پر اس کی رخصتی بھی ہو سکتی ہے۔
اس میں کسی خاص عمر کی شرعا کوئی شرط نہیں، اس لیے موجودہ عائلی قوانین میں مخصوص عمر کی شرط لگائی گئی ہے شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1876   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2121  
´کمسن بچیوں کے نکاح کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اس وقت سات سال کی تھی (سلیمان کی روایت میں ہے: چھ سال کی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے (شب زفاف منائی) اس وقت میں نو برس کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2121]
فوائد ومسائل:
والد کو بالخصوص حق حاصل ہے کی کسی مصلحت کے پیش نظر چھوٹی عمر کی بچی کا نکاح کردے، مگر صحبت ومباشرت کے لئے بلوغت کا شرط ہونا عقل، نقل اور اخلاق کا لازمی تقاضا ہے اور چھوٹی عمرکا ازواج کسی طرح بھی منافی عقل وشرع نہیں ہے۔
اگر کسی کے مزاج پر اپنا ذوق اور علاقائی خاندانی رواج غالب ہو تو، کیا کہا جا سکتا ہے! ان چیزوں کو اصول شریعت نہیں بنایا جا سکتا اور پھر رسول ﷺاور ابو بکر صدیق رضی اللہ کے تعلقات شروع دن سے صدیقیت پر مبنی تھے، نبیﷺ ان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکے تو ان کو اپنے اور قریب کر لیا۔
مزید برآں یہ نکاح بطور خاص وحی منام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔
جیسا کہ حدث میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
علمائے طب لکھتے ہیں کہ گرم علاقوں میں لڑکیاں نو سال کی عمر میں حائضہ ہو جاتی ہیں اور معتدل مناطق میں بارہ سال میں اور ٹھنڈے علاقوں میں سولہ سال میں بالغ ہوتی ہیں۔
دارقطنی اور بیہقی میں عباد بن عباد سے روایت ہے کہ ہماری ایک عورت اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔
امام بخاری ؒ نے اسی طرح ایک واقعہ اکیس سال عمر کا بیان کیا ہے۔
(ازحاشیہ بذل المجھود)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2121   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5077  
5077. سیدنا عاشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عرض کی: اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیں کہ اگر آپ کسی وادی میں پڑاؤ کریں، وہاں ایک درخت ہو جس میں اونٹ چر گئے ہوں اور ایک ایسا درخت سے اپنے اونٹ کو کھلائیں گے؟ آپ نے فرمایا: اس درخت سے جو کسی اونٹ کو نہ کھلایا گیا ہو۔ سیدنا عائشہ‬ ؓ ک‬ا اشارہ اس طرف تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے علاوہ کسی کنواری لڑکی سے نکاح نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5077]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے کنواری لڑکی سے نکاح کرنے کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ جب ایک بیوہ عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تونے کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟ وہ تیرے ساتھ دل لگی کرتی اور تو اس کے ساتھ دل لگی کرتا۔
(صحیح البخاري، الجھاد و السیر، حدیث: 2967)
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم کنواری لڑکیوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں۔
ان کا رحم شفاف ہوتا ہے اور وہ تھوڑی چیز پر راضی ہو جاتی ہیں۔
(سنن ابن ماجة، النکاح، حدیث: 1861) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ کسی خاص مقصد کے لیے بیوہ کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، عام طور پر نکاح کے لیے کنواری کو ترجیح دی جائے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 5077   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.