بلوغ المرام کل احادیث 1359 :حدیث نمبر
بلوغ المرام
حج کے مسائل
हज के नियम
4. باب الإحرام وما يتعلق به
4. احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان
४. “ एहराम के बारे में किया हुक्म हैं ”
حدیث نمبر: 606
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب Hindi
وعن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور» .‏‏‏‏ رواه مسلم.وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے عیر سے ثور کے درمیان۔ (مسلم)
हज़रत अली रज़िअल्लाहु अन्ह से रिवायत है कि रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने फ़रमाया ! “मदीना हरम है ऐर से सूर के बीच में ।” (मुस्लिम)

تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب فضل المدينة حديث:1370.»

’Ali bin Abi Talib (RAA) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Madinah is a Haram (Sanctuary) and its Sacred Precincts extend from ’Air to Thawr (the names of two mountains).” Related by Muslim.
USC-MSA web (English) Reference: 0


حكم دارالسلام: صحيح

   صحيح البخاري3179علي بن أبي طالبالمدينة حرام ما بين عائر إلى كذا من أحدث حدثا آوى محدثا عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم من أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل من والى قوم بغير إذن
   صحيح مسلم3794علي بن أبي طالبالمدينة حرم ما بين عير إلى ثور من أحدث فيها حدثا آوى محدثا عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم من ادعى إلى غير أبيه انتمى إلى غير مواليه عليه لعنة الله والم
   صحيح مسلم3327علي بن أبي طالبالمدينة حرم ما بين عير إلى ثور من أحدث فيها حدثا آوى محدثا عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم من ادعى إلى غير أبيه انتمى إلى غير مواليه عليه لعنة الله والملائكة
   جامع الترمذي2127علي بن أبي طالبالمدينة حرام ما بين عير إلى ثور من أحدث فيها حدثا آوى محدثا عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا من ادعى إلى غير أبيه تولى غير مواليه عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
   سنن أبي داود2034علي بن أبي طالبالمدينة حرام ما بين عائر إلى ثور من أحدث حدثا آوى محدثا عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم من أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف من تولى قوما بغير إذن
   بلوغ المرام606علي بن أبي طالب‏‏‏‏المدينة حرم ما بين عير إلى ثور

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2127  
´آزاد کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو مالک بنانے اور دوسرے کے باپ کی طرف نسبت کرنے والے کا بیان​۔`
یزید بن شریک تیمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: جو کہتا ہے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ - جس کے اندر اونٹوں کی عمر اور جراحات (زخموں) کے احکام ہیں - کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹ کہتا ہے ۱؎ علی رضی الله عنہ نے کہا: اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیر سے لے کر ثور تک مدینہ حرم ہے ۲؎ جو شخص اس کے اندر کوئی بدعت ایجاد کرے یا بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، اس کے فرشتے اور تمام لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الولاء والهبة/حدیث: 2127]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
علی رضی اللہ عنہ کی اس تصریح سے روافض اور شیعہ کے اس قول کی واضح طورپر تردید ہورہی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے علی رضی اللہ عنہ کو کچھ ایسی خاص باتوں کی وصیت کی تھی جن کا تعلق دین وشریعت کے اسرار و رموز سے ہے،
کیوں کہ صحیح حدیث میں یہ صراحت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (ما عندنا شئ إلا كتاب الله وهذه الصحيفة عن النبي ﷺ)

2؎:
عیر اور ثور دوپہاڑہیں:
ثور جبل احد کے پیچھے ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔
جب کہ عیرذوالحلیفہ (ابیارعلی) کے پاس ہے،
اور یہ دونوں پہاڑمدینہ کے شمالاً جنوباً ہیں،
اورمدینہ کے شرقاً غرباً کالے پتھروں والے دومیدان ہیں،
مملکت سعودیہ نے پوری نشان دہی کرکے مدینہ منورہ کے حرم کی حد بندی محراب نما بُرجیوں کے ذریعے کردی ہے،
 جزاهم الله خيراً۔

3؎:
یعنی اس کی دی ہوئی پناہ بھی قابل احترام ہوگی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2127   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2034  
´مدینہ کے حرم ہونے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک (عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں)، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت (نئی بات) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ (عہد) ایک ہے (مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی) اس (کو نبھانے) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2034]
فوائد ومسائل:
1- حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کوئی خاص باطنی علم یا وصیت نہ تھی۔
جو دیگر لوگوں سے مخفی آپ کو دی گئی ہو آپ کے پاس جو کچھ تھا آپ نے اس کا اظہار فرما دیا۔


مدینہ منورہ مذکورہ حدود میں اسی طرح حرم اور محترم ہے۔
جیسے کہ مکہ مکرمہ ہے۔
اور بدعت ہر اعتبار سے ضلالت ہے۔
اور بدعتی انسان کا اکرام بہت بڑا شرعی ظلم ہے۔
مدینہ منورہ میں اس عمل کی شناخت از حد زیادہ ہے۔
کیونکہ یہ دین اسلام کا منبع اور مرکز ہے۔


کفار کے مقابلے میں مسلمان ایک ہیں۔
ان کےادنیٰ فرد کی بھی وہی حیثیت ہے۔
جو ان کے اعلیٰ کی ہے۔


آذاد شدہ غلام (مولیٰ) اجازت لے کر بھی اپنی نسبت ولاء فروخت یا تبدیل نہیں کرسکتا۔
یہ عمل حرام ہے۔
حدیث میںز(بغير إذن مواليه) کا ذکر قید اتفاقی ہے۔
احترازی نہیں۔

   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2034   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.