الادب المفرد کل احادیث 1322 :حدیث نمبر
الادب المفرد
كتاب الوالدين
5. بَابُ لِيْنِ الْكَلاَمِ لِوَالِدَيْهِ
5. والدین سے نرمی سے بات کرنا
حدیث نمبر: 8
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا مسدد، قال‏:‏ حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، قال‏:‏ حدثنا زياد بن مخراق قال‏:‏ حدثني طيسلة بن مياس قال‏:‏ كنت مع النجدات، فاصبت ذنوبا لا اراها إلا من الكبائر، فذكرت ذلك لابن عمر قال‏:‏ ما هي‏؟‏ قلت‏:‏ كذا وكذا، قال‏:‏ ليست هذه من الكبائر، هن تسع‏:‏ الإشراك بالله، وقتل نسمة، والفرار من الزحف، وقذف المحصنة، واكل الربا، واكل مال اليتيم، وإلحاد في المسجد، والذي يستسخر، وبكاء الوالدين من العقوق‏.‏ قال لي ابن عمر‏:‏ اتفرق النار، وتحب ان تدخل الجنة‏؟‏ قلت‏:‏ إي والله، قال‏:‏ احي والدك‏؟‏ قلت‏:‏ عندي امي، قال‏:‏ فوالله لو النت لها الكلام، واطعمتها الطعام، لتدخلن الجنة ما اجتنبت الكبائر‏.‏حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي طَيْسَلَةُ بْنُ مَيَّاسٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ، فَأَصَبْتُ ذُنُوبًا لاَ أَرَاهَا إِلاَّ مِنَ الْكَبَائِرِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ مَا هِيَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ كَذَا وَكَذَا، قَالَ‏:‏ لَيْسَتْ هَذِهِ مِنَ الْكَبَائِرِ، هُنَّ تِسْعٌ‏:‏ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ نَسَمَةٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِلْحَادٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَالَّذِي يَسْتَسْخِرُ، وَبُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْعُقُوقِ‏.‏ قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ‏:‏ أَتَفْرَقُ النَّارَ، وَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ إِي وَاللَّهِ، قَالَ‏:‏ أَحَيٌّ وَالِدُكَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ عِنْدِي أُمِّي، قَالَ‏:‏ فَوَاللَّهِ لَوْ أَلَنْتَ لَهَا الْكَلاَمَ، وَأَطْعَمْتَهَا الطَّعَامَ، لَتَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَا اجْتَنَبْتَ الْكَبَائِرَ‏.‏
طیسلہ بن میاس کہتے ہیں کہ میں خارجیوں کے ساتھ تھا، مجھ سے کچھ گناہ سرزد ہو گئے جنہیں میں کبیرہ گناہ سمجھتا تھا۔ میں نے ان کا ذکر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: فلاں فلاں۔ انہوں نے فرمایا: یہ کبیرہ نہیں ہیں، کبیرہ تو صرف نو ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، (ناحق) کسی جان کو قتل کرنا، میدان جنگ سے بھاگنا، کسی پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ہتھیانا، مسجد میں خلاف شرع کام کرنا، کسی سے ٹھٹھا مذاق کرنا، والدین کی نافرمانی کر کے انہیں رلانا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا تو آگ سے ڈرتا اور جنت میں داخل ہونا پسند کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! انہوں نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ میں نے کہا: میری ماں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو اس سے نرمی سے گفتگو کرے گا، اور اسے کھانا کھلائے گا، اور کبیرہ گناہوں سے بھی پچھتا رہے گا تو ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
50585 - D 8 - U 0

تخریج الحدیث: «صحيح: الصحيحة: 2898»

قال الشيخ الألباني: صحیح