الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام
The Book of Prayer - Travellers
29. باب اسْتِحْبَابِ صَلاَةِ النَّافِلَةِ فِي بَيْتِهِ وَجَوَازِهَا فِي الْمَسْجِدِ:
29. باب: نفل نماز کا گھر میں مستحب اور مسجد میں جائز ہونا۔
Chapter: It is recommended to offer voluntary prayers in one’s house although it is permissible to offer them in the masjid
حدیث نمبر: 1825
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا عبد الله بن سعيد ، حدثنا سالم ابو النضر مولى عمر بن عبيد الله، عن بسر بن سعيد ، عن زيد بن ثابت ، قال: احتجر رسول الله صلى الله عليه وسلم حجيرة بخصفة او حصير، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيها، قال: فتتبع إليه رجال وجاءوا يصلون بصلاته، قال: ثم جاءوا ليلة، فحضروا وابطا رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهم، قال: فلم يخرج إليهم، فرفعوا اصواتهم وحصبوا الباب، فخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما زال بكم صنيعكم، حتى ظننت انه سيكتب عليكم، فعليكم بالصلاة في بيوتكم، فإن خير صلاة المرء في بيته، إلا الصلاة المكتوبة ".وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا، قَالَ: فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَ: ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً، فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، قَالَ: فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ".
عبد اللہ سعید نے کہا: عمر بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو نضرنے ہمیں بسربن سعید سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر آکر اس میں نماز پڑھنے لگے لو گ اس (حجرے) تک آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور آکر آپ کی اقتدامیں نماز پڑھنے لگے، پھر ایک اور رات لو گ آئے اور (حجرےکے) پاس آگئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی۔کہا: آپ ان کے پاس تشریف نہ لا ئےصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں (تاکہ آپ آوازیں سن کر تشریف لے آئیں) اور دروازے پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف تشریف لا ئے اور ان سے فرمایا: تم مسلسل یہ عمل کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قراردے دی جا ئے گی، اس لیے تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ انسان کی فرض نماز کے سوا وہی بہتر ہےجو گھر میں پڑھے۔"
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی کا ایک چھوٹا سا حجرہ بنوایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لائے، لو گوں نے اس تک آپصلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور آ کر آپصلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے، پھر ایک اور رات آئے اور جمع ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس آنے میں تا خیر کر دی اور ان کے پاس تشریف نہ لائے، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی آوازیں بلند کیں، تاکہ آپصلی اللہ علیہ وسلم آوازیں سن کر تشریف لے آئیں، اور دروازے پر چ کنکر مارے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں ان کی طرف گھر سےنکلے اور انہیں فرما یا: تم مسلسل یہ کام کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے خیال ہوا کہ یہ نماز تم پر لازم قرار دے دی جا ئے گی، تم اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی وہی نماز بہتر ہےجو گھر میں پڑھے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 781
   صحيح البخاري6113زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   صحيح البخاري7290زيد بن ثابتصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   صحيح البخاري731زيد بن ثابتأفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة
   صحيح مسلم1825زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   جامع الترمذي450زيد بن ثابتأفضل صلاتكم في بيوتكم إلا المكتوبة
   سنن أبي داود1447زيد بن ثابتعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   سنن أبي داود1044زيد بن ثابتصلاة المرء في بيته أفضل من صلاته في مسجدي هذا إلا المكتوبة
   سنن النسائى الصغرى1600زيد بن ثابتصلوا أيها الناس في بيوتكم فإن أفضل صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
   بلوغ المرام322زيد بن ثابت أفضل صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة
   المعجم الصغير للطبراني254زيد بن ثابت صلاة المرء فى بيته أفضل من صلاته فى مسجدي هذا إلا المكتوبة

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل

Warning: mysqli_fetch_array() expects parameter 1 to be mysqli_result, bool given in /home4/islamicurdub/public_html/functions/tashreeh.php on line 66
    
   ، حدیث\صفحہ نمبر:    

Warning: mysqli_fetch_array() expects parameter 1 to be mysqli_result, bool given in /home4/islamicurdub/public_html/functions/tashreeh.php on line 66
    
   ، حدیث\صفحہ نمبر:    

Warning: mysqli_fetch_array() expects parameter 1 to be mysqli_result, bool given in /home4/islamicurdub/public_html/functions/tashreeh.php on line 66
    
   ، حدیث\صفحہ نمبر:    


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.