صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: عیدین کے مسائل کے بیان میں
The Book of The Two Eid (Prayers and Festivals).
10. بَابُ التَّبْكِيرِ إِلَى الْعِيدِ:
10. باب: عید کی نماز کے لیے سویرے جانا۔
(10) Chapter. To offer the Eid prayer early.
حدیث نمبر: Q968
پی ڈی ایف بنائیں اعراب English
وقال عبد الله بن بسر إن كنا فرغنا في هذه الساعة وذلك حين التسبيح.وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ إِنْ كُنَّا فَرَغْنَا فِي هَذِهِ السَّاعَةِ وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن بسر صحابی نے (ملک شام میں امام کے دیر سے نکلنے پر اعتراض کیا اور) فرمایا کہ ہم تو نماز سے اس وقت فارغ ہو جایا کرتے تھے۔ یعنی جس وقت نفل نماز پڑھنا درست ہوتا ہے۔

حدیث نمبر: 968
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا سليمان بن حرب، قال: حدثنا شعبة، عن زبيد، عن الشعبي، عن البراء، قال: خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر، قال:" إن اول ما نبدا به في يومنا هذا ان نصلي، ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد اصاب سنتنا ومن ذبح قبل ان يصلي فإنما هو لحم عجله لاهله ليس من النسك في شيء، فقام خالي ابو بردة بن نيار فقال: يا رسول الله انا ذبحت قبل ان اصلي وعندي جذعة خير من مسنة، قال: اجعلها مكانها او قال اذبحها، ولن تجزي جذعة عن احد بعدك".حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اجْعَلْهَا مَكَانَهَا أَوْ قَالَ اذْبَحْهَا، وَلَنْ تَجْزِيَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر (خطبہ کے بعد) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لو یا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔

Narrated Al-Bara': The Prophet delivered the Khutba on the day of Nahr (`Id-ul-Adha) and said, "The first thing we should do on this day of ours is to pray and then return and slaughter (our sacrifices). So anyone who does so he acted according to our Sunna; and whoever slaughtered before the prayer then it was just meat that he offered to his family and would not be considered as a sacrifice in any way. My uncle Abu Burda bin Niyyar got up and said, "O, Allah's Apostle! I slaughtered the sacrifice before the prayer but I have a young she-goat which is better than an older sheep." The Prophet said, "Slaughter it in lieu of the first and such a goat will not be considered as a sacrifice for anybody else after you."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 2, Book 15, Number 85

   صحيح البخاري5560براء بن عازبنصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل هذا فقد أصاب سنتنا ومن نحر فإنما هو لحم يقدمه لأهله ليس من النسك في شيء ذبحت قبل أن أصلي وعندي جذعة خير من مسنة فقال اجعلها مكانها ولن تجزي أو توفي عن أحد بعدك
   صحيح البخاري5556براء بن عازبمن ذبح قبل الصلاة فإنما يذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين
   صحيح البخاري955براء بن عازبمن صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد أصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فإنه قبل الصلاة ولا نسك له فقال أبو بردة بن نيار خال البراء يا رسول الله فإني نسكت شاتي قبل الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب وأحببت أن تكون شاتي أول ما يذبح في بيتي فذبحت شاتي وتغديت قبل أن آتي
   صحيح البخاري5563براء بن عازبمن صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا فلا يذبح حتى ينصرف عندي جذعة هي خير من مسنتين آذبحها قال نعم ثم لا تجزي عن أحد بعدك قال عامر هي خير نسيكتيه
   صحيح البخاري951براء بن عازبنصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل فقد أصاب سنتنا
   صحيح البخاري968براء بن عازباذبحها ولن تجزي جذعة عن أحد بعدك
   صحيح البخاري965براء بن عازبنصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن نحر قبل الصلاة فإنما هو لحم قدمه لأهله ليس من النسك في شيء
   صحيح البخاري976براء بن عازبنبدأ بالصلاة ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد وافق سنتنا ومن ذبح قبل ذلك فإنما هو شيء عجله لأهله ليس من النسك في شيء ذبحت وعندي جذعة
   صحيح البخاري983براء بن عازبمن صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد أصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم فقام أبو بردة بن نيار فقال يا رسول الله والله لقد نسكت قبل أن أخرج إلى الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب فتعجلت وأكلت وأطعمت أهلي وجيراني فقال رسول الله تلك شاة
   صحيح البخاري5545براء بن عازبنصلي ثم نرجع فننحر من فعله فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل فإنما هو لحم قدمه لأهله ليس من النسك في شيء
   صحيح مسلم5076براء بن عازبلا يضحين أحد حتى يصلي قال رجل عندي عناق لبن هي خير من شاتي لحم قال فضح بها ولا تجزي جذعة عن أحد بعدك
   صحيح مسلم5069براء بن عازبمن ضحى قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين
   صحيح مسلم5070براء بن عازبهي خير نسيكتيك ولا تجزي جذعة عن أحد بعدك
   صحيح مسلم5077براء بن عازباجعلها مكانها ولن تجزي عن أحد بعدك
   صحيح مسلم5073براء بن عازبنصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن ذبح فإنما هو لحم قدمه لأهله ليس من النسك في شيء عندي جذعة خير من مسنة فقال اذبحها ولن تجزي عن أحد بعدك
   صحيح مسلم5072براء بن عازبمن صلى صلاتنا ووجه قبلتنا ونسك نسكنا فلا يذبح حتى يصلي فقال خالي يا رسول الله قد نسكت عن ابن لي فقال ذاك شيء عجلته لأهلك فقال إن عندي شاة خير من شاتين قال ضح بها فإنها خير نسيكة
   جامع الترمذي1508براء بن عازبلا يذبحن أحدكم حتى يصلي قال فقام خالي فقال يا رسول الله هذا يوم اللحم فيه مكروه وإني عجلت نسكي لأطعم أهلي وأهل داري أو جيراني قال فأعد ذبحا آخر فقال يا رسول الله عندي عناق لبن وهي خير من شاتي لحم أفأذبحها قال نعم وهي خير نسيكتيك ولا تجزئ جذعة بعدك
   سنن أبي داود2801براء بن عازبشاتك شاة لحم فقال يا رسول الله إن عندي داجنا جذعة من المعز فقال اذبحها ولا تصلح لغيرك
   سنن أبي داود2800براء بن عازبمن صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد أصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم فقام أبو بردة بن نيار فقال يا رسول الله والله لقد نسكت قبل أن أخرج إلى الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب فتعجلت فأكلت وأطعمت أهلي وجيراني فقال رسول الله تلك شاة
   سنن النسائى الصغرى1582براء بن عازبمن صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد أصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم فقال أبو بردة بن نيار يا رسول الله والله لقد نسكت قبل أن أخرج إلى الصلاة عرفت أن اليوم يوم أكل وشرب فتعجلت فأكلت وأطعمت أهلي وجيراني فقال رسول الله تلك شاة لحم قا
   سنن النسائى الصغرى1564براء بن عازبنصلي ثم نذبح فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل ذلك فإنما هو لحم يقدمه لأهله عندي جذعة خير من مسنة قال اذبحها ولن توفي عن أحد بعدك
   سنن النسائى الصغرى4399براء بن عازبلا يذبح حتى يصلي أعد ذبحا آخر قال فإن عندي عناق لبن هي أحب إلي من شاتي لحم قال اذبحها فإنها خير نسيك
   سنن النسائى الصغرى4400براء بن عازبمن صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد أصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم فقال أبو بردة يا رسول الله والله لقد نسكت قبل أن أخرج إلى الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب فتعجلت فأكلت وأطعمت أهلي وجيراني فقال رسول الله تلك شاة لحم قال فإن
   المعجم الصغير للطبراني466براء بن عازب نهى أن يذبح الرجل أضحيته قبل أن يصلي

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1508  
´نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا، آپ نے خطبہ کے دوران فرمایا: جب تک نماز عید ادا نہ کر لے کوئی ہرگز قربانی نہ کرے۔‏‏‏‏ براء کہتے ہیں: میرے ماموں کھڑے ہوئے ۱؎، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں (زیادہ ہونے کی وجہ سے) گوشت قابل نفرت ہو جاتا ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی جلد کر دی تاکہ اپنے بال بچوں اور گھر والوں یا پڑوسیوں کو کھلا سکوں؟ آپ نے فرمایا: پھر دوسری قربانی کرو، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس دودھ پیتی پٹھیا ہے اور گوشت والی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1508]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ان کا نام ابوبردہ بن نیار تھا۔

2؎:
یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے کیوں کہ تمہارے لیے اس وقت مجبوری ہے ورنہ قربانی میں مسنہ (دانتایعنی دودانت والا) ہی جائز ہے،
بکری کا جذعہ وہ ہے جو سال پورا کرکے دوسرے سال میں قدم رکھ چکا ہواس کی بھی قربانی صرف ابوبردہ کے لیے جائز کی گئی تھی،
اس حدیث سے معلوم ہواکہ قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا صحیح وقت صلاۃ عید کے بعد ہے،
اگر کسی نے صلاۃ عید کی ادائیگی سے پہلے ہی جانور ذبح کردیا تو اس کی قربانی نہیں ہوئی،
اسے دوبارہ قربانی کرنی چاہیے۔

3؎:
بھیڑ کے جذعہ (چھ ماہ) کی قربانی عام مسلمانوں کے لیے دانتا میسر نہ ہونے کی صورت میں جائز ہے،
جب کہ بکری کے جذعہ (ایک سالہ) کی قربانی صرف ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے لیے جائز کی گئی تھی۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1508   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2801  
´کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2801]
فوائد ومسائل:
مذکورہ بالا احادیث 2798 اور 2799 کو اسی پر محمول کرنا راحج ہے۔
کہ بھیڑ کا ایک سالہ جانور جو دو دانتا نہ ہو جائزہے۔
مگر بکری کی قسم سے جائز نہیں۔
جیسا کہ تفصیل میں گزر چکا ہے۔
دیکھئے (فوائد ومسائل حدیث 2797)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 2801   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 968  
968. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: سب سے پہلے ہم جس کام سے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ نماز پڑھنا ہے، پھر واپس جا کر قربانی کرنا۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے، قربانی نہیں ہے۔ میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی قربانی کو قبل از نماز ذبح کر دیا ہے اور میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دو دانتے سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے پہلے کی جگہ پر کر دے۔۔ یا فرمایا۔۔ اس کی جگہ ذبح کر دے لیکن تیرے بعد کسی دوسرے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:968]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے یوں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس دن پہلے جو کام ہم کرتے ہیں وہ نماز ہے۔
اس سے یہ نکلا کہ عید کی نماز صبح سویرے پڑھنا چاہیے کیونکہ جو کوئی دیر کر کے پڑھے گا اور وہ نماز سے پہلے دوسرے کام کرے گا تو پہلا کام اس کا اس دن نماز نہ ہوگا۔
یہ استنباط حضرت امام بخاری ؒ کی گہر ی بصیرت کی دلیل ہے۔
(رحمه اللہ)
اس صورت میں آپ نے خاص ان ہی ابو بردہ بن نیار نامی صحابی کے لیے جذعہ کی قربانی کی اجازت بخشی، ساتھ ہی یہ بھی فر مادیا کہ تیرے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہوگی۔
یہاں جذعہ سے ایک سال کی بکری مراد ہے لفظ جذعہ ایک سال کی بھیڑ بکری پر بولا جاتا ہے۔
حضرت علامہ شوکانی ؒ فرماتے ہیں:
الجذعة من الضأن ماله سنة تامة ھذا ھو الأشھر عن أھل اللغة وجمهور أھل العلم من غیر ھم۔
یعنی جذعہ وہ ہے جس کی عمر پر پورا ایک سال گزر چکا ہو۔
اہل سنت اور جمہور اہل علم سے یہی منقول ہے۔
بعض چھ اور آٹھ اور دس ماہ کی بکری پر بھی لفظ جذعہ بولتے ہیں۔
دیوبندی تراجم بخاری میں اس مقام پر جگہ جگہ جذعہ کا ترجمہ چار مہینے کی بکری کا کیا گیا ہے۔
تفہیم البخاری میں ایک جگہ نہیں بلکہ متعدد مقامات پر چار مہینے کی بکری لکھا ہوا موجود ہے۔
علامہ شوکانی کی تصریح بالا کے مطابق یہ غلط ہے۔
اسی لیے اہل حدیث تراجم بخاری میں ہر جگہ ایک سال کی بکری کے ساتھ ترجمہ کیا گیا ہے۔
لفظ جذعہ کا اطلاق مسلک حنفی میں بھی چھ ماہ کی بکری پر کیا گیاہے دیکھو تسہیل القاری، پ: 4 ص: 400 مگر چار ماہ کی بکری پر لفظ جذعہ یہ خود مسلک حنفی کے بھی خلاف ہے۔
قسطلانی شرح بخاری، ص: 117 مطبوعہ نول کشور میں ہے (جذعة من المعز ذات سنة)
یعنی جذعہ ایک سال کی بکری کو کہا جاتا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 968   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:968  
968. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا: سب سے پہلے ہم جس کام سے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ نماز پڑھنا ہے، پھر واپس جا کر قربانی کرنا۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی تیار کر لیا ہے، قربانی نہیں ہے۔ میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی قربانی کو قبل از نماز ذبح کر دیا ہے اور میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دو دانتے سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے پہلے کی جگہ پر کر دے۔۔ یا فرمایا۔۔ اس کی جگہ ذبح کر دے لیکن تیرے بعد کسی دوسرے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:968]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ اس دن کے آغاز میں صرف نماز کی تیاری ہو کسی اور چیز میں مصروف نہیں ہونا چاہیے۔
تیاری کے بعد نماز پڑھنے کے لیے جلدی روانہ ہونا چاہیے۔
یہ اہتمام اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نماز عید کے لیے جلدی کی جائے۔
دوسری مصروفیات کی بنا پر اس میں تاخیر نہ کی جائے۔
(فتح الباري: 589/2) (2)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ نماز عید طلوع آفتاب سے پہلے نہیں پڑھی جا سکتی اور نہ عین طلوع کے وقت اسے پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کراہت کے اوقات ہیں۔
طلوع آفتاب کے بعد جب نوافل پڑھنے کا وقت ہوتا ہے تو نماز عید کے وقت کا آغاز ہو جاتا ہے۔
شارح بخاری ابن بطال ؒ نے اس پر فقہاء کا اجماع نقل کیا ہے۔
(3)
نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ زوال آفتاب کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:
تمام لوگ کل صبح نماز عید پڑھنے کے لیے عیدگاہ پہنچیں۔
(سنن ابن ماجة، الصیام، حدیث: 1853)
اگر اس وقت نماز عید پڑھنے کی گنجائش ہوتی تو آپ اسے اگلے دن تک مؤخر نہ کرتے۔
اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے۔
نماز عید کے متعلق صحابہ و تابعین کا طرز عمل حسب ذیل ہے:
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نماز فجر پڑھتے، پھر اسی حالت میں عیدگاہ چلے جاتے۔
حضرت سعید بن مسیب کا بھی یہی طرز عمل تھا۔
حضرت رافع بن خدیج ؓ اپنے بیٹوں سمیت کپڑے وغیرہ پہن کر تیاری کر کے مسجد کی طرف چلے جاتے، نماز فجر پڑھ کر وہیں بیٹھے رہتے، جب آفتاب طلوع ہو جاتا تو چاشت کے دو نفل پڑھ کر عیدگاہ چلے جاتے۔
حضرت عروہ بن زبیر دن چڑھے عیدگاہ جاتے۔
حضرت امام مالک ؒ بھی عید پڑھنے کے لیے اپنے گھر سے دن چڑھے روانہ ہوتے تھے۔
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ جب سورج خوب روشن ہو جائے تو عیدگاہ جانا چاہیے، البتہ عیدالاضحیٰ اس سے کچھ وقت پہلے پڑھ لی جائے۔
(عمدة القاري: 182/5)
نماز عید کے متعلق ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالفطر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج دو نیزوں کے برابر بلند ہو جاتا اور نماز عیدالاضحیٰ اس وقت پڑھتے جب سورج ایک نیزے کے برابر ہو جاتا۔
(التلخیص الحبیر: 172/2، رقم: 685)
لیکن اس کی سند میں معلیٰ بن ہلال نامی راوی کذاب ہے، اس لیے یہ روایت قابل حجت نہیں۔
(تمام المنة، ص: 347) (4)
ان روایات و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عید پڑھنے کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے اور وہ چاشت کا وقت ہے اور چاشت کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے پر ہو جاتا ہے، اس میں بلاوجہ تاخیر درست نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس تاخیر کا انکار کرتے تھے۔
عیدالاضحیٰ کے دن چونکہ قربانی کرنی ہوتی ہے، اس لیے اسے کچھ وقت پہلے پڑھنے میں چنداں حرج نہیں۔
آج کل چونکہ گھڑیوں کا دور ہے، اس لیے ہمیں دور حاضر کے مطابق گھڑیوں کا حساب لگانا ہو گا۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صبح کی اذان پانچ بجے ہو تو ساڑھے چھ بجے سورج طلوع ہو گا۔
چاشت کا وقت طلوع آفتاب کے تقریبا نصف گھنٹے بعد شروع ہو جاتا ہے۔
ضرورت کے پیش نظر اس میں چند منٹ تک مزید تاخیر کی جا سکتی ہے، اس لیے حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کی تصریحات کے مطابق نماز عید کا وقت چاشت کے وقت ہوتا ہے، اس لیے جہاں پانچ بجے اذان فجر ہو گی وہاں نماز عید کا وقت سات، ساڑھے سات بجے شروع ہو جائے گا۔
ہمیں چاہیے کہ اس کی تیاری پہلے سے کر رکھیں۔
اگر طلوع آفتاب کے بعد تیاری کا آغاز کیا تو نماز عید کے لیے وقت فضیلت نہیں مل سکے گا، البتہ جواز کا وقت زوال آفتاب تک ہے۔
واللہ أعلم۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 968   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.