صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
امور حکومت کا بیان
13. باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِيرِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ:
13. باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
حدیث نمبر: 4784
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني محمد بن المثنى ، حدثنا الوليد بن مسلم ، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، حدثني بسر بن عبيد الله الحضرمي ، انه سمع ابا إدريس الخولاني ، يقول: سمعت حذيفة بن اليمان ، يقول: " كان الناس يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير، وكنت اساله عن الشر مخافة ان يدركني، فقلت: يا رسول الله، إنا كنا في جاهلية، وشر فجاءنا الله بهذا الخير فهل بعد هذا الخير شر؟، قال: نعم، فقلت: هل بعد ذلك الشر من خير؟، قال: نعم وفيه دخن، قلت: وما دخنه؟، قال: قوم يستنون بغير سنتي، ويهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر، فقلت: هل بعد ذلك الخير من شر؟، قال: نعم دعاة على ابواب جهنم من اجابهم إليها قذفوه فيها، فقلت: يا رسول الله، صفهم لنا، قال: نعم، قوم من جلدتنا ويتكلمون بالسنتنا، قلت: يا رسول الله، فما ترى إن ادركني ذلك؟، قال: تلزم جماعة المسلمين وإمامهم، فقلت: فإن لم تكن لهم جماعة ولا إمام؟، قال: فاعتزل تلك الفرق كلها، ولو ان تعض على اصل شجرة حتى يدركك الموت وانت على ذلك ".حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ: " كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟، قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، فَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ".
4784. ابو ادریس خولانی نے کہا: میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں اس خوف سے کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر (اسلام) عطا کی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر سے شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اس (خیر) میں کچھ دھندلاہٹ ہو گی۔ میں نے عرض کی: اس کی دھندلاہٹ کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسرا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور میرے نمونہ عمل کے بجائے دوسرے طریقوں پر چلیں گے، تم ان میں اچھائی بھی دیکھو گے اور برائی بھی دیکھو گے۔ میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد، پھر کوئی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے والے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے سامنے ان کی (بری) صفات بیان کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ لوگ بظاہر ہماری طرح کے ہوں گے اور ہماری ہی طرح گفتگو کریں گے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر وہ زمانہ میری زندگی میں آ جائے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور مسلمانوں کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کی: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان تمام فرقوں (بٹے ہوئے گروہوں) سے الگ رہنا، چاہے تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم اسی حال میں ہو۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ سے شر کے بارے میں اس خوف سے سوال کرتا تھا کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، تو میں نے آپ سے پوچھا، یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ ہمارے پاس (اسلام کی صورت میں) یہ خیر لے آیا، تو کیا اس خیر کے بعد شر (بے دینی) ہو گی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو میں نے پوچھا، کیا اس شر (بے دینی) کے بعد خیر ہو گی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، اس میں کدورت ہو گی پھر میں نے پوچھا: اس میں کدورت کیا ہو گی؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت (طریقہ) کے سوا راہ اختیار کریں گے اور میری سیرت کے سوا طرز عمل اپنائیں گے، ان میں معروف و منکر دونوں پاؤ گے۔ میں نے پوچھا، کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ان کی اس دعوت کو قبول کر لیں گے تو وہ انہیں اس جہنم میں پھینک دیں گے۔ تو میں نے کہا، یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! ہمیں ان کی صفت بتائیے، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری بولی بولیں گے۔ میں نے کہا، یا رسول اللہ! اگر یہ دور مجھے پا لے تو آپ کے خیال میں میں کیا کروں، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مسلمانوں کی جمعیت اور ان کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کیا، اگر ان کی جمعیت اور امام نہ ہو؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ رہو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کے تنے کو چبانا پڑے، حتیٰ کہ تمہیں موت آئے اور تم اسی حالت پر ہو۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1847
   صحيح البخاري3606حذيفة بن حسيلهل بعد هذا الخير من شر قال نعم قلت وهل بعد ذلك الشر من خير قال نعم فيه دخن قلت وما دخنه قال قوم يهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر دعاة إلى أبواب جهنم
   صحيح البخاري7084حذيفة بن حسيلهل بعد هذا الخير من شر قال نعم هل بعد ذلك الشر من خير قال نعم وفيه دخن قلت وما دخنه قال قوم يهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر فهل بعد ذلك الخير من شر قال نعم دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها صفهم لنا قال هم من جلدتنا ويتكلمون بألسنتنا قلت فما
   صحيح مسلم4785حذيفة بن حسيلهل من وراء هذا الخير شر قال نعم هل وراء ذلك الشر خير قال نعم هل وراء ذلك الخير شر قال نعم كيف قال يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس كيف أصنع يا رسول الله إن أدركت ذلك قال تسمع وتطيع للأمير و
   صحيح مسلم4784حذيفة بن حسيلهل بعد هذا الخير شر قال نعم فقلت هل بعد ذلك الشر من خير قال نعم فيه دخن
   سنن أبي داود4244حذيفة بن حسيلأيكون بعده شر كما كان قبله قال نعم السيف إن كان لله خليفة في الأرض فضرب ظهرك وأخذ مالك فأطعه وإلا فمت وأنت عاض بجذل شجرة يخرج الدجال معه نهر ونار فمن وقع في ناره وجب أجره وحط وزره ومن وقع في نهره وجب وزره وحط أجره قيام الساعة
   سنن ابن ماجه3979حذيفة بن حسيلدعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها صفهم لنا قال هم قوم من جلدتنا يتكلمون بألسنتنا قلت فما تأمرني إن أدركني ذلك قال فالزم جماعة المسلمين وإمامهم فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام فاعتزل تلك الفرق كلها ولو أن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت وأنت كذ
   سنن ابن ماجه3981حذيفة بن حسيلتكون فتن على أبوابها دعاة إلى النار فأن تموت وأنت عاض على جذل شجرة خير لك من أن تتبع أحدا منهم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3979  
´(فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان۔`
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3979]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبیﷺ کے بعد ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں جو باطل کی طرف دعوت دینے والے تھے اور عام لوگ ان کی چرب زبانی سے متاثر ہوکر ان کی بات مان لیتے تھے۔

(2)
خارجی معتزلہ شیعہ اور جہیمیہ وغیرہ فرقے صحابہ وتابعین کے دور میں پیدا ہوئے۔
صحابہ و تابعین نے ان کی تردید کی اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا۔

(3)
اختلافات کے اس دور میں صحیح راستہ وہی تھا جس پر صحابہ کرام اور تابعین قائم تھے۔
بعد میں پيدا ہونے والے اختلافات میں بھی صحابہ وتابعین کا طرز عمل ہی قابل اتباع ہے۔

(4)
جماعت المسلمین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو ان فرقوں سے الگ ہیں مثلاً:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک فرقہ ان کی محبت میں غلو کا شکار ہوا جیسے:
کیسانیہ اور دوسرے شیعہ فرقے۔
ایک فرقہ ان کی مخالفت میں حد سے بڑھ گیا مثلاً:
خارجی اور ناصبی۔
عام مسلمانوں ان دونوں سے الگ رہے انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوخلیفہ راشد تسلیم کیا لیکن انھیں معصوم نہیں مانا ان کے لیے الله کے نور میں سے نور ہونے کا عقیدہ نہیں رکھا۔
یہی عام مسلمانوں جماعت المسلمین (مسلمانوں کی جماعت)
ہیں۔
علاوہ ازیں خروج و بغاوت کے زمانے میں خلیفہ وقت کے ساتھ رہنا بھی اسی کے مفہوم میں شامل ہے۔

(5)
مسلمانوں کے امام سے مراد وہ حکمران اور خلیفہ ہے جو اسلامی شریعت کی روشنی میں ان کے معاملات کا انتظام کرتا اور دوسرے فرائض انجام دیتا ہے مثلاً:
اسلامی سلطنت کی سر زمین کی حفاظت دشمن ملکوں کے خلاف جہاد زکاۃ وغیرہ کی وصولی اور تقسیم بیت المال کا دوسرا انتظام مجرموں کی گرفتاری اور سزا، مسلمانوں کے جھگڑوں میں فیصلے کرنا اور اس مقصد کے لیے قاضی او جج مقرر کرنا وغیرہ۔

(6)
بعض لوگوں نے مسلمانوں کی جماعت کا مصداق ایک خودساختہ جماعت کو قراردینے کی کوشش کی ہےحالانکہ جماعۃ المسلمین کا لفظ اسم علم کے طور پر استعمال نہیں ہوا۔
ورنہ نہ اِمَامَهم (ان کے امام)
کے بجائےاِمَامَها (اس جماعت کا امام)
فرمایا جاتا۔
جو امام مسلمانوں کا دفاع نہیں کرسکتا اور ان پر اسلامی شریعت نافذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے ساتھ پیوستگی کا حکم ناقابل فہم ہے۔

(7)
فتنوں کے زمانے میں کسی پارٹی کے ساتھ مل کر دوسرے مسلمانوں کے جان ومال کو نقصان پہنچانا جائز نہیں البتہ خلیفۃ المسلمین کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف جنگ کرنا اسلامی سلطنت کے دفاع اور قوت کے لیے ضروری ہے۔

(8)
دور حاضر میں مختلف مذہبی تنظیمیں صرف تعاون علي البر کی بنیاد پر قائم ہیں۔
ان کے ساتھ وابستگی یا عدم وابستگی کا تعلق اسلام کے بنیادی احکام سے نہیں۔
ان میں سی کسی ایک جماعت یا بیک وقت متعدد جماعتوں سے تعاون درست ہے جب تک وہ کوئی غلط کام نہ کریں۔
جو کام غلط ہو اس میں تعاون جائز نہیں۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3979   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4244  
´فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔`
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو ل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]
فوائد ومسائل:
1) اللہ عزوجل کی عجیب حکمت ہے کہ وہ اپنے بندوں کے دلوں میں مختلف میلانات پیدا فرما دیتا ہے جس میں ان کے لیئے خیر اور برکت ہوتی ہے۔
عام صحابہ خیر کے متعلق سوال کرتے تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ شر کے متعلق دریافت کرتے تھے اس سے ان کے علاوہ اُمت کو بھی بہت فائدہ ہو ا۔

2) رسول اللہﷺ حالات کے مطابق ہر ایک کواسکے مناسبِ حال جواب ارشاد فرماتے تھے۔

3) جس شخص کو جس چیز کی رغبت ہو تی ہے وہ اس میں دوسروں سے فائق ہو جاتا ہے۔
چناچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول ا للہ ﷺ کے رازدان اور آیندہ کے بہت سے امور سے آگاہ تھے۔

4) فتنے میں تحفظ کے لیئے تلوار کا استعمال اسی صورت میں ہوگا جب خلیفۃ المسلمین یا مومن مخلص قائد جہاد کرے گا۔
اس صورت میں اہلِ ایمان پر لازم ہو گا کہ اسکا ساتھ دیں۔

5) اگر زمین میں مسلمان خلیفہ نہ ہو تو اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیئے جنگل میں اکیلے پڑے رہنا اور فتنہ پردازوں سے الگ رہنا واجب ہو گا خواہ کسی قدر مشقت آئے۔

6) دجال کی ظاہری آسائشیں درحقیقت ہلاکت ہون گی اور ظاہری ہلاکت آفرینیاں اہلِ ایمان کے لیئے باعثِ نجات ہونگی۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 4244   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4784  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ:
کیا اسلام کی صورت میں جو خیر اور امن وسلامتی ہوئی ہے،
اس کے بعد شر فتنہ وفساد ہو گا،
اس سے مراد وہ فتنہ وفساد ہے،
جو حضرت عثمان کی شہادت کے بعد رونما ہوا اور مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور شر کے بعد خیر،
حضرت علی اور معاویہ اور حسن ومعاویہ کی صلح اور حضرت معاویہ پر اتفاق ہے اور اس میں دخن کدورت یہ تھی کہ پہلے جیسا باہمی اتحاد واتفاق اور پیارومحبت نہ رہا تھا،
جیسا کہ حدیث میں ہےلاترجع قلوب قوم علي ماكانت عليهلوگوں کے دل پہلی حالت کی طرف نہیں آئیں گے اور بعض بدعتی فرقوں شیعہ اور خوارج کا ظہور ہوگیا تھا اور بعض امراء ایسے تھے،
جن میں بعض قابل اعتراض اور منکر باتیں پیدا ہوگئی تھیں،
اس آمیزش والی خیر کے بعد،
بدعتی فرقوں کی بدعتوں کو فروغ ملا اور بعض سلاطین وخلفاء نے ان کی سرپرستی کی،
تویہ لوگ جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوکر لوگوں کو ان بدعتوں کی دعوت دیتے تھے،
اور ان کا پرچار کرتے تھے،
لیکن وہ تھے،
من جلدتنا:
وہ اسلام کے نام لیوا اور مسلمانوں میں سے تھے اور مسلمانوں والی بولی بولتے تھے،
اپنے آپ کو اسلام کے داعی قرار دیتے تھے۔
(2)
تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ:
جس امیر اور امام کی امارت وامامت پر مسلمانوں کی اکثریت جمع ہوگئی ہے،
اس کی امارت اور امامت کو مان کر مسلمانوں کی جمعیت سے وابستہ رہنا،
اس کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرنا یا تحریک نہ چلانا اور اگر مسلمان کسی کی امامت یا امارت پر جمع نہ ہوں،
ہر ایک اپنا اپنا الگ راگ الاپے اور الگ الگ ڈفلی بجائے اور طوائف الملوکی ہو،
تو پھر کسی گروہ کا ساتھ نہ دینا،
سب سے الگ تھلگ ہوجانا۔
(3)
وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ:
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا قَالَ نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ اگر امام بیضادی کے بقول،
زمین میں کوئی ایسا خلیفہ نہ رہے،
جس پر لوگ جمع ہوں تو پھر الگ تھلگ رہنا اور اس کی خاطر جنگل میں رہنا پڑے،
تو اس سے بھی گریز نہ کرنا،
بلکہ ہر قسم کے مصائب ومشکلات برداشت کرنا،
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جماعت المسلمین کے نام سے جو ڈرامہ رچایا گیا ہے،
اس کا اس حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے،
کیونکہ اس حدیث میں وہ امام مراد ہے،
جس کو اختیار واقتدار حاصل ہو،
اس لیے حافظ ابن حجر نے معنی کیا،
ہے،
هوكناية عن لزوم جماعة المسلمين وطاعة سلاطينهم ولو عصوا،
اس حدیث سے مراد مسلمانوں کی جمعیت سے وابستہ رہنا اور ان کے سلاطین کی اطاعت کرنا ہے،
اگرچہ وہ معصیت کے بھی مرتکب ہوں اور امام بیضادی نے وامام کا معنی کیا ہے،
اذالم يكن في الارض خليفه،
اگر زمین میں کوئی خلیفہ نہ ہو،
تکملہ ج3ص343،
صحیح مسلم،
ج 2،
مع نووی،
ص 127۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 4784   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.