صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
سلامتی اور صحت کا بیان
26. باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي:
26. باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 5747
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني بشر بن خالد ، حدثنا محمد يعني ابن جعفر ، عن شعبة ، قال: سمعت سليمان ، قال: سمعت ابا سفيان ، قال: سمعت جابر بن عبد الله ، قال: " رمي ابي يوم الاحزاب على اكحله فكواه رسول الله صلى الله عليه وسلم ".وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سلیمان نے کہا: میں نے ابو سفیان کو سنا، انھوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا۔کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں داغ لگوایا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، جنگ احزاب میں حضرت ابی کی اکحل یعنی رگ حیات میں تیر لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2207
   صحيح مسلم5745جابر بن عبد اللهبعث رسول الله إلى أبي بن كعب طبيبا فقطع منه عرقا ثم كواه عليه
   صحيح مسلم5747جابر بن عبد اللهفكواه رسول الله
   سنن أبي داود3864جابر بن عبد اللهبعث النبي إلى أبي طبيبا فقطع منه عرقا
   سنن أبي داود3866جابر بن عبد اللهكوى سعد بن معاذ من رميته
   سنن ابن ماجه3494جابر بن عبد اللهكوى سعد بن معاذ في أكحله مرتين
   سنن ابن ماجه3493جابر بن عبد اللهأرسل إليه النبي طبيبا فكواه على أكحله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3493  
´جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3493]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اکحل وہ رگ ہے جسکو ہفت اندام کہتے ہیں۔
یہ ہاتھ میں اکحل کہلاتی ہے۔
اور ران میں نسا، اگر یہ کٹ جائے تو خون بند نہیں ہوتا۔
نیز علاج کے لئے  اس سے فصد کے طریقے سے سر سینہ، پشت اور دست وپا کا خون نکالاجاتا ہے۔

(2)
طب کا پیشہ ایک جائز ذریعہ معاش ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3493   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3864  
´رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3864]
فوائد ومسائل:

یہ روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، لیکن ان میں ان الفاظ کا اضافہ ہےکہ رگ کاٹنے کے بعد اس جگہ کا داغا۔
دیکھئے (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 2207)
2. اسلامی معاشرے میں ایسے افراد مہیا کئے جانے ضروری ہیں جو ان کی بنیادی اہم ضروریات میں ان کے کام آئیں بالخصوص طبیب اور ڈاکٹر
3. معالج ماہرِفن کے علاج اور اسلوبِ علاج پراعتماد کیا جانا چا ہیئے۔

4. جب تک ممکن ہو خفیف درجے سے علاج شروع کرنا چا ہیے۔
فائدہ نہ ہو تو اس کے بعد کا درجہ اختیار کیا جائے۔
یعنی پہلے علاج بالغزا پھر دوا، پہلے مفرد پھر مرکب۔
پھر سینگی اور آخر میں رگ کاٹنا اور اس کے بعد ہے داغ دینا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3864   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.