سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wal-Hajj)
46. باب فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ
46. باب: خانہ کعبہ (بیت اللہ) کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
Chapter: Raising One’s Hand When Seeing The House.
حدیث نمبر: 1872
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا بهز بن اسد، وهاشم يعني ابن القاسم، قالا: حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي هريرة، قال:" اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل مكة، فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الحجر فاستلمه، ثم طاف بالبيت، ثم اتى الصفا فعلاه حيث ينظر إلى البيت، فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء ان يذكره ويدعوه"، قال: و الانصار تحته، قال هاشم: فدعا وحمد الله ودعا بما شاء ان يدعو.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَهَاشِمٌ يَعْنِيَ ابْنَ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ"، قَالَ: وَ الْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَدَعَا وَحَمِدَ اللَّهَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (1871)، (تحفة الأشراف: 13562) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث میں واقع جملہ «والأنصار تحته» پر کلام ہے)

Narrated Abu Hurairah: The Messenger of Allah ﷺ came an entered Makkah, and after the Messenger of Allah ﷺ had gone forward to the Stone, and touched it, he went round the House (the Kabah). He then went to as-Safa and mounted it so that he could look at the House. Then he raised his hands began to make mention of Allah as much as he wished and make supplication. The narrator said: The Ansar were beneath him. The narrator Hashim said: He prayed and praised Allah and asked Him for what he wished to ask.
USC-MSA web (English) Reference: Book 10 , Number 1867


قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله والأنصار تحته

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، صحيح مسلم (1780)
مشكوة المصابيح (2575)
   سنن أبي داود1872عبد الرحمن بن صخردخل مكة فأقبل رسول الله إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم أتى الصفا فعلاه حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء أن يذكره ويدعوه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1872  
´خانہ کعبہ (بیت اللہ) کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1872]
1872. اردو حاشیہ: صفا اور مروہ پر چڑھ کر بیت اللہ کی جانب رخ کرکے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا مسنون عمل ہے۔اور یہ ہاتھ اٹھانا بیت اللہ کو دیکھنے کی بناء پر نہیں بلکہ دعا کےلئے ہوتا ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 1872   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.