الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
(ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
Chapters: The Book of the Sunnah
35. بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
35. باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
Chapter: Concerning what the Jahmiyyah denied (i.e., seeing Allah in the Hereafter, etc.)
حدیث نمبر: 185
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا علي بن محمد ، حدثنا وكيع ، عن الاعمش ، عن خيثمة ، عن عدي بن حاتم ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" ما منكم من احد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان، فينظر عن ايمن منه فلا يرى إلا شيئا قدمه، ثم ينظر عن ايسر منه فلا يرى إلا شيئا قدمه، ثم ينظر امامه فتستقبله النار فمن استطاع منكم ان يتقي النار ولو بشق تمرة فليفعل".
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الزکاة 9 (1413)، 10 (1417)، المناقب 25 (3595)، الأدب 34 (6023)، الرقاق 49 (6539)، 51 (6563) التوحید 36 (7512)، صحیح مسلم/الزکاة 20 (1016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 1 (2415)، (تحفة الأشراف: 9852)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 63 (2554)، مسند احمد (4/256، 258، 259، 377) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جب جنت میں لوگ داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی حجاب (پردہ) نہ ہو گا، اس کی طرف نظر کرنے سے صرف اس ذات مقدس کی عظمت و کبریائی اور جلال و ہیبت ہی مانع ہو گا، پھر جب اللہ عزوجل ان پر اپنی رافت اور رحمت اور فضل و امتنان کا اظہار کرے گا تو وہ رکاوٹ دور ہو جائے گی، اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا شرف حاصل کر لیں گے۔

It was narrated that 'Adi bin Hatim said: "The Messenger of Allah said: 'There is no one among you but his Lord will speak to him without any intermediary between them. He will look to his right and will not see anything but that which he sent forth. He will look to his left and will not see anything but that which he sent forth. Then he will look in front of him and will be faced with the Fire. So whoever among you can protect himself from fire, even by means of half a date, let him do so.'"
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: بخاري ومسلم
   صحيح البخاري6539عدي بن حاتمما منكم من أحد إلا وسيكلمه الله يوم القيامة ليس بين الله وبينه ترجمان ثم ينظر فلا يرى شيئا قدامه ثم ينظر بين يديه فتستقبله النار من استطاع منكم أن يتقي النار ولو بشق تمرة
   صحيح البخاري7443عدي بن حاتمما منكم من أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان ولا حجاب يحجبه
   صحيح البخاري7512عدي بن حاتمما منكم أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى إلا ما قدم من عمله وينظر أشأم منه فلا يرى إلا ما قدم وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه اتقوا النار ولو بشق تمرة
   صحيح مسلم2348عدي بن حاتمما منكم من أحد إلا سيكلمه الله ليس بينه وبينه ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى إلا ما قدم وينظر أشأم منه فلا يرى إلا ما قدم وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه اتقوا النار ولو بشق تمرة
   جامع الترمذي2415عدي بن حاتمما منكم من رجل إلا سيكلمه ربه يوم القيامة وليس بينه وبينه ترجمان فينظر أيمن منه فلا يرى شيئا إلا شيئا قدمه ثم ينظر أشأم منه فلا يرى شيئا إلا شيئا قدمه ثم ينظر تلقاء وجهه فتستقبله النار من استطاع منكم أن يقي وجهه حر النار
   سنن ابن ماجه185عدي بن حاتمما منكم من أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر عن أيمن منه فلا يرى إلا شيئا قدمه ثم ينظر عن أيسر منه فلا يرى إلا شيئا قدمه ثم ينظر أمامه فتستقبله النار من استطاع منكم أن يتقي النار ولو بشق تمرة فليفعل
   سنن ابن ماجه1843عدي بن حاتمما منكم من أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر أمامه فتستقبله النار وينظر عن أيمن منه فلا يرى إلا شيئا قدمه وينظر عن أشأم منه فلا يرى إلا شيئا قدمه من استطاع منكم أن يتقي النار ولو بشق تمرة فليفعل
   المعجم الصغير للطبراني1045عدي بن حاتمكلكم يكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان فينظر إلى يمينه فيرى ما قدم وينظر إلى شماله فيرى ما قدم وإلى أمامه فإذا هو بالنار اتقوا النار ولو بشق تمرة
   مسندالحميدي940عدي بن حاتمكيف بك إذا أقبلت الظعينة من أقصى اليمن إلى قصور الحيرة لا تخاف إلا الله

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث185  
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 185]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کی صفت کلام کا ثبوت ہے۔ (بندے کو اپنے اعمال کا خود ہی حساب دینا پڑے گا، اس لیے کسی بزرگ کی سفارش وغیرہ پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
جہنم سے بچاؤ کے لیے نیک اعمال ضروری ہیں۔

(4)
صدقہ بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھنے والا نیک عمل ہے۔

(5)
اگر بڑا نیک عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو چھوٹا عمل کر لینا چاہیے، کچھ نہ کرنے سے چھوٹی نیکی بھی بہتر ہے۔

(6)
کسی نیکی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، خلوص کے ساتھ کی گئی چھوٹی سی نیکی بھی اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 185   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2415  
´قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان۔`
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کا رب اس سے قیامت کے روز کلام کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا، وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر بائیں جانب دیکھے گا تو اسے سوائے اپنے عمل کے کوئی چیز دکھائی نہ دے گی، پھر سامنے دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو جہنم کی گرمی سے اپنے چہرے کو بچانا چاہے تو اسے ایسا کرنا چاہیئے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2415]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جہنم سے بچاؤ کا راستہ اختیار کرے،
اس لیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرے،
اورنیک عمل کرتا رہے،
کیوں کہ یہ جہنم سے بچاؤ اور نجات کا ذریعہ ہیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2415   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.