سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
The Book of Agriculture
2. بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
2. باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Chapter: Mentioning The Differing Hadiths Regarding The Prohibition Of Leasing Out Land In Return For One Third, Or One Quarter Of The Harvest And The Different Wordings Reported By The Narrators
حدیث نمبر: 3936
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
اخبرني محمد بن خالد بن خلي، قال: حدثنا بشر بن شعيب، عن ابيه، عن الزهري، قال: بلغنا ان رافع بن خديج كان يحدث , ان عميه , وكانا يزعم شهدا بدرا، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم:" نهى عن كراء الارض". رواه عثمان بن سعيد، عن شعيب ولم يذكر عميه.
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ عَمَّيْهِ , وَكَانَا يَزْعُمُ شَهِدَا بَدْرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ". رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَمَّيْهِ.
زہری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 3934(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
   صحيح البخاري4013رافع بن خديجكراء المزارع
   صحيح البخاري2332رافع بن خديجكنا أكثر أهل المدينة حقلا وكان أحدنا يكري أرضه
   صحيح البخاري2722رافع بن خديجكنا أكثر الأنصار حقلا فكنا نكري الأرض فربما أخرجت
   صحيح البخاري2347رافع بن خديجيكرون الأرض على عهد النبي بما ينبت على الأربعاء أو شيء يستثنيه صاحب الأرض فنهى النبي عن ذلك
   صحيح مسلم3945رافع بن خديجنحاقل بالأرض فنكريها على الثلث والربع والطعام المسمى أمر رب الأرض أن يزرعها أو يزرعها كره كراءها وما سوى ذلك
   صحيح مسلم3944رافع بن خديجكراء الأرض
   صحيح مسلم3942رافع بن خديجكراء الأرض
   صحيح مسلم3940رافع بن خديجكراء المزارع
   صحيح مسلم3938رافع بن خديجكراء المزارع
   صحيح مسلم3935رافع بن خديجكنا لا نرى بالخبر بأسا حتى كان عام أول فزعم رافع أن نبي الله نهى عنه
   سنن أبي داود3394رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن أبي داود3401رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3942رافع بن خديجكراء المزارع
   سنن النسائى الصغرى3940رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3936رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3933رافع بن خديجكراء أرضنا ولم يكن يومئذ ذهب ولا فضة
   سنن النسائى الصغرى3930رافع بن خديجيؤاجرون على الماذيانات وأقبال الجداول فيسلم هذا ويهلك هذا ويسلم هذا ويهلك هذا فلم يكن للناس كراء إلا هذا فلذلك زجر عنه فأما شيء معلوم مضمون فلا بأس به
   سنن النسائى الصغرى3929رافع بن خديجكانوا يكرون الأرض على عهد رسول الله فنهانا رسول الله عن ذلك
   سنن النسائى الصغرى3941رافع بن خديجكراء الأرض فتركها بعد
   سنن النسائى الصغرى3899رافع بن خديجنهانا أن نتقبل الأرض ببعض خرجها
   سنن النسائى الصغرى3901رافع بن خديجالحقل
   سنن النسائى الصغرى3938رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3926رافع بن خديجنحاقل بالأرض ونكريها بالثلث والربع والطعام المسمى أمر رب الأرض أن يزرعها أو يزرعها كره كراءها
   سنن النسائى الصغرى3917رافع بن خديجالمحاقلة المزابنة
   سنن النسائى الصغرى3918رافع بن خديجالمحاقلة المزابنة
   سنن النسائى الصغرى3919رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3946رافع بن خديجلا تكروا الأرض بشيء
   سنن النسائى الصغرى3947رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3948رافع بن خديجنهى عن المخابرة
   سنن النسائى الصغرى3949رافع بن خديجنهى عن الخبر
   سنن النسائى الصغرى3945رافع بن خديجكراء المزارع
   سنن النسائى الصغرى4539رافع بن خديجالمحاقلة المزابنة
   سنن النسائى الصغرى3958رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3935رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن النسائى الصغرى3950رافع بن خديجكنا لا نرى بالخبر بأسا حتى كان عام الأول فزعم رافع أن نبي الله نهى عنه
   سنن النسائى الصغرى3943رافع بن خديجكراء المزارع
   سنن النسائى الصغرى3944رافع بن خديجكراء الأرض
   سنن ابن ماجه2450رافع بن خديجكنا نخابر ولا نرى بذلك بأسا حتى سمعنا رافع بن خديج يقول نهى رسول الله عنه فتركناه
   سنن ابن ماجه2453رافع بن خديجكراء المزارع
   سنن ابن ماجه2449رافع بن خديجالمحاقلة المزابنة يزرع ثلاثة رجل له أرض
   سنن ابن ماجه2267رافع بن خديجالمحاقلة المزابنة
   صحيح البخاري2346رافع بن خديجانهم كانوا يكرون الارض على عهد النبي بما ينبت على الاربعاء
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم503رافع بن خديج كراء الارض

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ ابويحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 2346  
´زمین کو کرایہ، یعنی ٹھیکہ پر دینا`
«. . . عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ . . .»
. . . رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا (ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر (کے قریب کی پیداوار) کی شرط پر دیا کرتے۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین (اپنے لیے) چھانٹ لیتا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ: 2346]

فقہ الحدیث
دنیاوی معاملات میں چونکہ اصل اباحت ہے اور حرمت کا ثبوت کسی صحیح و صریح دلیل کا محتاج ہوتا ہے، لہٰذا اس اصول کے تحت زمین کو کرایہ، یعنی ٹھیکہ پر دینا بالکل جائز و درست ہے۔ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں۔

رہا سیدنا رافع بن خدیج اور دوسرے کئی صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کو ٹھیکے پر دینے کی ممانعت کرنا تو اس سے مراد حرمت نہیں، بلکہ محض نرمی کی ہدایت ہے۔ اگر کوئی خود زمین کاشت نہیں کرتا تو کسی دوسرے مسلمان کو بغیر عوض کے زمین دے دینا اس کے لیے بہتر اور کار ثواب ہے۔ رہا ٹھیکے پر دینے کا عمل تو اس میں سے صرف ظلم و زیادتی والی صورتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے، ہرطرح کے ٹھیکے کو نہیں، کیونکہ:

➊ اس ممانعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے والے صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج خود خالی زمین کو کرائے پر دینے کے قائل تھے۔ چنانچہ:
❀ حنظلہ بن قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«سألت رافع بن خديج عن كراء الأرض بالذهب والورق، فقال: لا بأس به، إنما كان الناس يؤاجرون على عهد جرون على عهد النبى صلى الله عليه وسلم على الماذيانات، و أقبال الجداول، وأشياء من الزرع، فيهلك هذا ويسلم هذا، ويسلم هذا و يهلك هذا، فلم يكن للناس كراء إلا هذا، فلذلك زجر عنه، فأماشيء معلوم مضمون، فلا بأس به۔»
میں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (رہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع فرمانے کی تو اصل بات یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں لوگ ٹھیکے پر زمین اس شرط پر دیتے تھے کہ پانی کے قریب والی زمین، نالوں کے کناروں پر واقع زمین اور کئی طرح کا (متعین) غلہ ان کا ہو گا۔ اس صورت میں کبھی یہ ہلاک ہو جاتا (نقصان اٹھاتا) اور وہ سلامت رہ جاتا (نفع مند رہتا) اور کبھی یہ سلامت رہ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔ ان دنوں میں لوگوں کے پاس زمین کو ٹھیکے پر دینے کی صرف یہی صورت تھی، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ رہا ٹھیکے کا وہ معاملہ جو معلوم و متعین ہو (نقدی کی صورت میں ہو) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري: 2346، صحيح مسلم: 166/1547، واللفظ له]

❀ صحیح مسلم [117/1547] کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
«كنا أكثر الأرنصار حقلا، قال: كنا نكري الأرض على أن لنا هذه، ولهم هذه، فربما أخرجت هذه، ولم تخرج هذه، فنهانا عن ذلك، و أما الورق فلم ينهنا»
ہم سب انصار سے بڑھ کر کاشتکاری کرنے والے تھے۔ ہم زمین کو اس شرط پر ٹھیکے پر حاصل کرتے تھے کہ زمین کا یہ حصہ ہمارے لیے اور یہ حصہ، ان (ملکوں) کے لیے ہے۔ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ زمین کا ایک خطہ اچھا غلہ اگاتا اور دوسرا خطہ نہ اگاتا۔ اس طریقے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا۔ رہی چاندی (نقدی کے عوص ٹھیکے کا معاملہ کرنا) تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا۔

❀ صحیح بخاری کی ایک روایت میں سیدنا رافع خدیج رضی اللہ عنہ یوں بیان فرماتے ہیں:
«و أما الذهب والورق، فلم يكن يومئذ»
رہا سونے اور چاندی کے عوض ٹھیکے کا معاملہ تو یہ ان دنوں میں تھا ہی نہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري: 2327]

◈ امام بغوی رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«فيه دليل على جواز إجارة الأراضي، و ذهب عامة أهل العلم إلي جوازها بالدراهم و الدنانيز، و غيرها من صنوف الأموال، سواء كانت مما تنبت الأرض، أولا تنبت، إذا كان معلوما بالعيان، إو بالوصف، كما يجوز إجارة غير الأراضي من العبيد و الدواب و غيرها، و جملته إن ما جاز بيعه، جاز أن يجعل أجرة فى الإجازة۔»
اس حدیث میں زمین کو ٹھیکے پر لینے دینے کی دلیل ہے۔ اکثر اہل علم سونے، چاندی (نقدی) اور مال کی دوسری اقسام کے عوض زمین کے ٹھیکے کے جواز کے قائل ہیں، خواہ وہ چیز زمین سے اگتی ہو یا نہ اگتی ہو، بشرطیکہ اس کی مقدار اور کیفیت معلوم ہو۔ یہ (زمین کا کرایہ پر لینا دینا) اسی طرح جائز ہے، جیسے زمین کے علاوہ دوسری چیزیں، مثلا غلام، جانور وغیرہ کو کرائے پر لینا دینا جائز ہے۔ خلاصہ یہ کہ جس چیز کی خرید و فروخت جائز ہے، اس کو اجرت کے بدلے کرائے پر لینا دینا بھی جائز ہے۔۔۔ [شرح السنة للبغوي: 263/8]

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«و ذهب جميع فقهاء الحديث الجامعون لطرقه كلهم، كأحمد بن حنبل و أصحابه كلهم من المتقدمين، والمتأخرين، وإسحاق بن راهويه، وأبي بكر أبي شبية، وسليمان بن داود الهاشمي، و أبي خيثمة زهير بن حرب، و أكثر فقهاء الكوفيين، كسفيان الثوري، و محمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي، و أبي داوٗد، وجماهير فقهاء الحديث من المتأخرين: كابن المنذر، وابن خزيمة، والخطابي، وغيرهم، و أهل الظاهر، و أكثر أصحاب أبي حنيفة إلي جواز المزراعة والمؤعة و نحو ذلك اتباعا لسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنة خلفائه و أصحابه و ما عليه السلف و عمل جمهور المسلمين»
سنت رسول، خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل، سلف صالحین اور اکثر مسلمانوں کی روش کی پیروی میں اس حدیث کی ساری روایات کو جمع کرنے والے فقہائے حدیث، مثلا امام احمد بن حنبل، آپ رحمہ اللہ کے تمام متقدین و متاخرین اصحاب، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابوبکر بن ابی شیبہ، امام سلیمان بن داؤد ہاشمی، امام ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اکثر فقہائے کوفہ، جیساکہ امام سفیان ثوری، محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی، امام ابوحنیفہ کے دونوں شاگرد ابویوسف و محمد، امام بخاری، امام ابوداؤد اور جمہور متاخرین فقہائے حدیث، مثلا امام ابن منذر، امام ابن خزیمہ، خطابی اور اہل ظاہر، امام ابوحنیفہ کے اکثر پیروکاروں کا مذہب ہے کہ مزارع اور ٹھیکہ وغیرہ جائزہ ہے۔۔۔۔ [مجموع الفتاوي لابن تيمية: 95-94/29، القواعد النوانية الفقهية: 163]

◈ شیخ اسلام ثانی، عالم ربانی، امام ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«و قال ابن المنذر: قد جائت الأخبار عن رافع بعلل، تدل على أن النهي كان بتلك العلل»
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے آنے والی (ٹھیکے کی ممانعت والی) روایات میں کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹھیکے کی ممانعت انہی وجوہات کی وجہ سے تھی (مطلق طور پر ٹھیکے کا معاملہ حرام نہ تھا)۔ [حاشية ابن القيم على سنن ابي داود: 186/9]

◈ نیز لکھتے ہیں:
«المخابرة التى نهاهم عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم هي التى كانوا يفعلونها من المخابرة الظالمة الجائزة، و هي التى جائت مفسرة فى أحاديثهم» ۔
زمین کے جس معاملے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، وہ اس معاملے کی وہ صورتیں ہیں، جو ظلم و زیادتی پر منبی تھیں، ان کی وضاحت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ احادیث میں آ گئی ہے۔۔ [حاشية ابن القيم على سنن ابي داوٗد: 193/9]

◈ امام ابن دقیق العید رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
«فيه دليل على جواز كراء الأرض بالذهب والورق، وقد جاءت أحاديث مطلقة فى النهي عن كرائها، وهذا مفسر لذلك الإطلاق»
اس حدیث میں زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے کا جواز موجود ہے۔ کچھ مطلق احادیث زمین کے ٹھیکے سے ممانعت کے بارے میں آئی ہیں، یہ حدیث اس اطلاق کی تفسیر و تقیید کرتی ہے (یعنی بتاتی ہے کہ ٹھیکہ نا جائز نہیں)۔۔۔۔ [احكام الاحكام شرح عمدة الاحكام لابن دقيق العيد: ص 380]
↰ معلوم ہوا کہ ٹھیکے کی غلط صورتوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، نہ کہ مطلق ٹھیکے سے، کیونکہ خود راویٔ حدیث سیدنا رافع خدیج رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرما دی ہے کہ انصار ٹھیکے کے وقت جگہ مقرر کر لیتے تھے کہ زمین کے اس ٹکڑے کی پیدوار ٹھیکے والے کو اور اس ٹکڑے کی مالک کو ملے گی، یوں کبھی ٹھیکے والے کو نقصان ہو جاتا کبھی مالک کو۔ اسی طرح معاملہ یوں طے پاتا کہ زمین سے پیداوار کم ہو یا زیادہ، مالک نے مقررہ مقدار غلہ لینا ہے۔ اس صورت میں بھی ایک فریق کو نقصان کا خدشہ ہوتا تھا، اس لیے اسے بھی شریعت نے ممنوع ٹھہرایا۔ رہی نقدی کے عوض ٹھیکے کی صورت تو یہ اس دور میں تھی ہی نہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا یہ ممنوع کیسے ہو سکتی ہے؟ فقہائے کرام اور محدثین عظام کا فہم بھی یہی ہے۔

اس بارے میں حدیث رسول بھی ملاحظہ فرمائیں:
➋ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إنما يزرع ثلاثة: رجل منح أرضا فهو يزرع ما منح، و رجل له أرض فهو يزرعها، و رجل استكرٰي أرضا بذهب أو فضة۔»
تین آدمی ہی زمین کاشت کرنے کے اہل ہیں، ایک وہ جس کو کوئی زمین تخفۃ دے دی گئی ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور دوسرا وہ شخص، جس کے پاس اپنی زمین ہو اور وہ اس میں کاشت کرے اور تیسرا وہ شخص، جو زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر حاصل کرتا ہے اور اس میں کاشت کرتا ہے۔ [سنن النسائي: 3890، مصنف ابن ابي شيبة: 85/7، ح: 22872، السنن الكبرٰي للنسائي: 4617، سنن الدارقطني: 96/3، ح: 145، وسنده حسن]
↰ یہ حدیث ممانعت والی احادیث کے مطلق نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے اور صراحت سے بتاتی ہے کہ نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل جائز و درست ہے۔

➌ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«يغفر الله لرافع بن خديج! أنا والله أعلم بالحديث منه، إنما أتي رجلان قد اقتتلا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع، قال فسمع رافع قوله: لا تكروا المزارع»
اللہ تعالیٰ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے۔ میں اس (زمین کے ٹھیکے کی ممانعت والی) حدیث کو ان سے بہتر جانتا ہوں۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، جو (ٹھیکے والے معاملے میں) لڑ پڑے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تمہاری یہی صورت حال ہے تو پھر زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا فرمان ہی سنا تھا کہ زمینوں میں ٹھیکے کا معاملہ نہ کیا کرو (ممانعت کی وجہ نہیں سن سکے)۔ [مسند الامام احمد: 187/5، سنن ابي داود: 3390، سنن ابن ماجه: 2461، سنن النسائي: 3927، السنن الكبرٰي: 106/3، وسنده حسن]
↰ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یہ خیال کرتے تھے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کے کرائے والی حدیث میں ممانعت کو مطلق سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز ہے، اسی لیے ان سے حدیث سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ٹھیکے کو ترک کر دیا تھا، لیکن ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بھی اس حدیث کی ممانعت کو ظلم و زیادتی والی صورتوں کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کو وہ بھی جائز سمجھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نزدیک بھی یہ حدیث مطلق نہیں اور ہر طرح کا ٹھیکہ ناجائز نہیں۔

➍ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
«كنت أعلم فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم أن الأرض تكري، ثم خشي عبدالله أن يكون النبى صلى الله عليه وسلم قد أحدث فى ذلك شيئا لم يكن يعلمه، فترك كراء الأرض»
میں جانتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زمین ٹھیکے پر لی دی جاتی تھی۔ (سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ) پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (سیدنا رافع بن خدیج کی حدیث سن کر) اس بات سے ڈر گئے کہ شاید اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نیا حکم کردیا ہو، لہٰذا انہوں نے زمین کے ٹھیکے کا معاملہ چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري: 2345، صحيح مسلم: 122/1547]
↰ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زمین کے ٹھیکے کا معاملہ ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عہد تک ہوتا رہا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد بھی یہ معاملہ کرتے رہے، لیکن جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث ان تک پہنچی تو انہوں نے اسے مطلق سمجھ کر ٹھیکہ چھوڑ دیا، حالانکہ یہ بات بالصراحت گزر چکی ہے کہ اس سے مطلق ممانعت مراد نہیں تھی، بلکہ صرف کچھ خرابی والی صورتوں سے منع کیا گیا تھا۔

➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«إن أمثل ما أنتم صانعون تستأجروالأرض البيصاء بالذهب والورق»
سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ تم خالی زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر حاصل کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 87/7، مصنف عبدالرزاق: 492/4، السنن الكبيٰري للبيهقي: 133/6، صحيح البخاري: قبل 2346، تعليقا، وسنده صحيح]

➏ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے امام سالم رحمہ اللہ سے زمین کو نقدی کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: «لا بأس بها بالذهب والورق» سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [الموطا للامام مالك: 1392، وسندہ صحيح]

➐ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
میں نے امام سعید بن مسیب تابعی سے زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ [الموطا للامام مالك: 1391، وسندہ صحيح]

➑ امام عبیداللہ بن العمری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
امام سالم بن عبداللہ بن عمر، امام سعید بن مسیب، امام عروہ زبیر اور امام زہری رحمہ اللہ سب زمین کو سونے، چاندی (نقدی) کے عوض ٹھیکے پر لینے دینے کو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 22877، وسنده صحيح]

➒ حجاج بن دینار، امام محمد بن علی بن حسین بن علی ابی طالب، المعروف ابوجعفر الباقر رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
میں نے امام ابوجعفر الباقر رحمہ اللہ سے ایسی خالی زمین کے بارے میں پوچھا:، جس میں کوئی درخت نہ ہو، کیا ہم اسے درہم و دینار کے عوض کرائے پر حاصل کر سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ بہت اچھا کام ہے، ہم مدینہ میں اس طرح کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 22881، وسنده حسن]

➓ معاویہ بن ابی اسحاق بیان کرتے ہیں:
«سألت سعيد بن جبير عن إجارة الأرض، فقال: لا بأس بها»
میں نے امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے زمین کو ٹھیکے پر لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 22883، وسندہ حسن]

الحاصل:
نقدی کے عوض زمین کے ٹھیکے کا معاملہ بالکل درست ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حدیث رسول، فہم صحابہ، عمل تابعین اور جمہورامت کے تعامل سے یہی ثابت ہوتا ہے۔
   ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 22، حدیث\صفحہ نمبر: 34   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 503  
´زمین کو رقم کے بدلے میں کرائے پر دینا جائز ہے`
«. . . عن حنظلة بن قيس الزرقي انه سال رافع بن خديج عن كراء الارض، فقال رافع: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها، قال: فقلت: بالذهب والورق؟ فقال رافع: اما بالذهب والورق فلا باس به . . .»
. . . حنظہ بن قیس الزرقی (رحمہ اللہ) نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کے کرائے کے بارے میں پوچھا: تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے؟ تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونے اور چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 503]

تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 1547/115 بعد 1548، من حديث مالك مثله و رواه البخاري 2346، 2347، من حديث ربيعة به]
تفقہ:
➊ زمین کو رقم کے بدلے میں کرائے پر دینا جائز ہے۔
➋ سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے زمین کے کرائے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: سونے چاندی کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [موطأ امام مالك 2/711 ح1454، وسنده صحيح]
➌ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ اپنی زمین کو سونے چاندی کے بدلے میں کرائے پر دیتے تھے۔ [موطأ امام مالك 2/712 ح1456، وسنده صحيح]
➍ زمین کا ایک خاص حصہ اپنے لئے مقرر کرکے اس کی فصل کے بدلے میں زمین کو کرائے پر دینا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے ح: 158
➎ زمین کو آدھ (نصف) یا چوتھائی وغیرہ حصے پر کاشت کے لئے دینا جائز ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 162   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2449  
´تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ بیع و مزابنہ سے منع کیا، اور فرمایا: کھیتی تین آدمی کریں: ایک وہ جس کی خود زمین ہو، وہ اپنی زمین میں کھیتی کرے، دوسرے وہ جس کو زمین (ہبہ یا مستعار) دی گئی ہو، تو وہ اس دی گئی زمین میں کھیتی کرے، تیسرے وہ جو سونا یا چاندی (نقد) دے کر زمین ٹھیکے پر لے لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2449]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
محاقلہ اورمزابنہ کی تشریح کےلیےدیکھیےحدیث: 2265 کا فائدہ نمبر: 2۔

(2)
جس طرح غریب آدمی کی مدد کےلیے نقد رقم دی جاسکتی ہے اسی طرح اسے زمین کا ٹکڑا بھی دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ کاشت کر کے رزق حلال حاصل کرے اوریہ اس کےلیے آمدنی کا مستقل ذریعہ بن جائے۔

(3)
زمین بٹائی پرلینا یا دینا جائز ہے اس میں رقم اورمدت کا تعین وضاحت سے ہو جانا چاہیے تاکہ بعد میں اختلاف نہ ہو۔

(4)
سونے چاندی سے مراد نقد رقم ہے کیونکہ اُس دورمیں سونے کا سکہ (دینار)
اورچاندی کا سکہ(درہم)
رائج تھے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 2449   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3394  
´بٹائی کی ممانعت کا بیان۔`
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3394]
فوائد ومسائل:

حق یہی ہے کہ دور نبوت خلافت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایام عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں یہودیوں کو خیبر سے نکالے جانے کے وقت تک خیبر کی زمینیں اور باٖغات بٹائی پر ان یہودیوں ہی کو دیے جاتے رہے تھے۔


مزارعت سے ممانعت کی احادیث تنزیہ اور استحباب پر محمول ہیں۔
یا ان ممنوعہ صورتوں سے متعلق ہیں۔
جن کا ذکر پیچھے ہوا ہے۔
علی الاطلاق مزارعت ممنوع ہوتی تو جلیل لقدر معروف صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمیعن یہ معاملہ ہرگز نہ کرتے۔


حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن سے مزارعت کی اجمالی ممانعت مروی ہے۔
خود انہی سے یہ وضاحت بھی مروی ہے۔
کہ نقدی کے عوض زمین کرائے پر دینے کی ممانعت نہیں۔


حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس عمل سے باز آجانا احتیاط وتقویٰ کی بنا پر تھا۔
اور انہیں حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجمل حدیث کا علم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ہوا تھا۔


بعض محدثین کا ان روایات کو مضطرب کہنا محل نظر ہے۔
احادیث واضح کردیتی ہیں کہ یہ اضطراب نہیں محض اجمال اورتفصیل کا فرق ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(إرواء الغلیل، بحث، حدیث: 1478)
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3394   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.