سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سوانح حیات امام نسائی رحمہ اللہ
سوانح حیات​:​
ورع و تقویٰ:
امام نسائی کی عملی زندگی کا اندازہ محمد بن المظفر کے اس قول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جسے علامہ ذہبی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
«سمعت مشايخنا بمصر يصفون اجتهاد النسائي فى العبادة بالليل والنهار وأنه خرج إلى الغزو ومع أمير مصر فوصف فى شهامته وإقامته السنن الماثورة فى فدآء المسلمين واحترازه عن مجالس السلطان الذى خرج معه» [تذكرة الحفاظ، تهذيب الكمال 1/334]
میں نے مصر میں اپنے شیوخ سے سنا ہے کہ وہ نسائی کے بارے میں کہتے تھے کہ آپ رات دن عبادت میں مشغول رہتے تھے، وہ جنگ میں امیر مصر کے ساتھ نکلے، اور اپنے وقار اور تیزی طبع اور مسلمانوں میں ماثور اور ثابت سنن پر عمل کرنے کرانے میں شہرت حاصل کی، اور نکلے تو سلطان کے ساتھ تھے، لیکن ان کی مجالس سے دور رہتے تھے۔

ابن الاثیر جامع الاصول میں فرماتے ہیں:
امام نسائی کے ورع و تقوی پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اپنے استاذ حارث بن مسکین سے انہوں نے جس حالت میں سماع کیا اس کو اسی انداز «قرأة عليه وأنا أسمع» سے بیان کیا، دیگر مشائخ سے اخذ کردہ روایات کی طرح «حدثنا وأخبرنا» کے الفاظ استعمال نہیں کئے، حارث بن مسکین مصر کے منصب قضاء پر فائز تھے، اور نسائی اور ان کے درمیان دوری تھی جس کی وجہ سے ان کی مجلس درس میں حاضر نہ ہو سکے، تو ایسی جگہ چھپ کر حدیث سنتے کہ حارث ان کو دیکھ نہ سکیں، اسی لیے ورع اور تحری کا راستہ اختیار کر کے ان سے روایت میں «حدثنا» اور «أخبرنا» کے صیغے استعمال نہ کیے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ حارث بن مسکین بعض سرکاری ذمہ داریوں میں مشغول تھے کہ نسائی ان کے پاس ایک نامانوس لباس میں آئے، لوگ کہتے ہیں کہ آپ لمبا جبہ اور لمبی ٹوپی پہنے ہوئے تھے، جس کو حارث نے ناپسند کیا، ان کو شبہ ہوا کہ شاید یہ آدمی بادشاہ کا جاسوس ہے، کیونکہ ان کے سر پر بڑی ٹوپی اور بدن پر لمبا جبہ تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے آپ کو اپنی مجلس میں نہ حاضر ہونے دیا، اس لیے نسائی دروازے پر آ کر بیٹھتے اور حارث پر جو لوگ پڑھا کرتے اسے باہر ہی سے سنتے اسی لیے ان سے روایت کے وقت «حدثنا» اور «أخبرنا» کا صیغہ استعمال نہیں کیا۔ [جامع الاصول 1/128]

واضح رہے کہ امام ابوداود نے بھی «قرئ على الحارث بن مسكين» کے صیغے کا استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: کتاب الطب کے آخری ابواب اور کتاب السنہ: «باب ذراري المشركين» ۔