سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سوانح حیات امام نسائی رحمہ اللہ
عقیدہ:​
فضائل صحابہ اور مشاجرات صحابہ میں زبان بندی:
اسی طرح سے فضائل صحابہ کا اعتراف اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں «كف لسان» سلف کا عقیدہ ہے اسی لیے عقائد کی کتابوں کے علاوہ حدیث کی کتابوں میں صحابہ کرام کے مناقب و فضائل کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔

امام نسائی نے بھی اس باب کو اپنی کتابوں میں جگہ دی، یہی نہیں بلکہ بعض صحابہ کے خلاف موقف رکھنے والے لوگوں کی اصلاح کی طرف عملی اقدام بھی کیا، چنانچہ دمشق پہنچنے پر علی رضی اللہ عنہ سے منحرف لوگوں کو صحیح عقیدہ سمجھانے کے لیے آپ نے «خصائص علي» نامی کتاب لکھی، جس سے وہاں کے منحرفین کے عتاب کا شکار ہوئے، بلکہ زد و کوب اور ایذا رسانی کی شدت نہ برداشت کر سکے، اور اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا، اللہ رب العزت آپ کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، آمین۔

شروع ہی سے عقائد کے باب میں انحراف کی روش رکھنے والوں کی کج فکری اور اعتقادی گمراہیوں پر نقد و نظر ائمہ دین کے یہاں بہت معروف و مشہور بات ہے، بلکہ راہ اعتدال سے ہٹ جانے والے حضرات پر تنقید سلف صالحین کا شعار اور منہج رہا ہے، بلکہ ان کے نزدیک عقیدہ اور منہج کے مخالفین کا رد و ابطال ایک اہم اصول رہا ہے، بالخصوص محدثین عظام نے یہ کام بڑی ذمہ داری سے انجام دیا، گمراہ فرقوں اور ان کے ائمہ اور ان کے مقالات و اعتقادات پر کھل کر تنقید کی، سلفی عقائد و اصول اور اتباع سنت کے مضامین کو خوب اچھی طرح سے بیان کیا، خوارج، روافض، نواصب، معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، جبریہ وغیرہ، گمراہ فرقوں کے خلاف ائمہ حدیث کے مقدس گروہ نے شروع ہی سے جنگ چھیڑی، معتزلہ اور جہمیہ کے رد کے نام سے مستقل کتابیں لکھیں اور عقائدکی کتابوں میں ان گمراہ عقائد پر کھل کر تنقید کی، امام احمد بن حنبل تو مسئلہ خلق قرآن کے خلاف فتوے پر ڈٹے رہنے کی بنا پر «امام اهل سنت و الجماعت» کے لقب سے مشہور ہوئے، ان کے شاگرد رشید امام بخاری نے «خلق أفعال العباد» نامی مستقل رسالہ لکھا، اور صحیح بخاری میں کتاب العلم، کتاب الإیمان، کتاب التوحید والرد علی الجہمیہ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ وغیرہ وغیرہ کتب میں اتباع سنت اور عقیدہ سلف کی خوب خوب وضاحت کی، اور غیر سلفی عقائد اور ان کے حاملین کا رد و ابطال کیا، اور امام احمد کے تلامذہ میں امام ابوداود نے اپنی سنن میں کتاب السنہ کے نام سے یہ خدمت انجام دی۔ اور یہ کام امام ابن ماجہ نے سنن کے مقدمہ میں کیا۔