🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب صلاة الضحى فى السفر:
باب: سفر میں چاشت کی نماز پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1175
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ , قَالَ:" قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَتُصَلِّي الضُّحَى؟ , قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَعُمَرُ؟ , قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَأَبُو بَكْرٍ؟ , قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَ: لَا إِخَالُهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے توبہ بن کیسان نے، ان سے مورق بن مشمرج نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور عمر پڑھتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ؟ فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا نہیں۔ میرا خیال یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1175]
حضرت مورق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا آپ نمازِ اشراق پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میں نے دریافت کیا: کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کا اہتمام کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، پھر میں نے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ادا فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ:" عَقَلْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِي، وَأَنَا ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ مِنْ دَلْوٍ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ابومسہر نے، ان سے محمد بن حرب نے، ان سے زبیدی نے زہری کے واسطے سے بیان کیا، وہ محمود بن الربیع سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول سے منہ میں پانی لے کر میرے چہرے پر کلی فرمائی، اور میں اس وقت پانچ سال کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 77]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے (اب تک) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کلی یاد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول سے پانی لے کر میرے چہرے پر کی تھی، اس وقت میں پانچ برس کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں