🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب درجات المجاهدين فى سبيل الله:
باب: مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2791
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، قَالَا: أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے ‘ کہا ہم سے ابورجاء نے ‘ ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے رات میں دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے پھر وہ مجھے لے کر ایک درخت پر چڑھے اور اس کے بعد مجھے ایک ایسے مکان میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بڑا پاکیزہ تھا، ایسا خوبصورت مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ گھر شہیدوں کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2791]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دو آدمیوں کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے ایک درخت پر لے گئے۔ پھر انہوں نے مجھے ایسے مکان میں داخل کیا جو بہت ہی خوبصورت تھا۔ میں نے اس عمدہ اور خوبصورت مکان کو آج تک نہیں دیکھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ مکان اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز (فرض) پڑھا چکتے تو ہماری طرف منہ کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 845]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّؤْيَا , قَالَ:" أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفِضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1143]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خواب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس شخص کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ، وہ ہے جو قرآن پڑھتا تھا اور اسے یاد نہ رکھتا تھا، نیز وہ فرض نماز کے وقت سویا رہتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: مَنْ رَأَى مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ , قَالَ: فَإِنْ رَأَى أَحَدٌ قَصَّهَا، فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ، فَسَأَلَنَا يَوْمًا , فَقَالَ: , هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ , قُلْنَا: لَا، قَالَ: لَكِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، فَأَخَذَا بِيَدِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: عَنْ مُوسَى، إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الْكَلُّوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الْآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَلْتَئِمُ شِدْقُهُ هَذَا فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، قُلْتُ: مَا هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ أَوْ صَخْرَةٍ فَيَشْدَخُ بِهِ رَأْسَهُ، فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهْدَهَ الْحَجَرُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَئِمَ رَأْسُهُ، وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ , فَعَادَ إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّورِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ , وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا، فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسَطِ النَّهَرِ، قَالَ يَزِيدُ: وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَفِي أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوقِدُهَا، فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ , وَشَبَابٌ , وَنِسَاءٌ , وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ، قُلْتُ: طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ، قَالَا: نَعَمْ، أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالْكَذْبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ فَارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا فَوْقِي مِثْلُ السَّحَابِ، قَالَا: ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ: دَعَانِي أَدْخُلْ مَنْزِلِي، قَالَا: إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (فجر) پڑھنے کے بعد (عموماً) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرو۔ راوی نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے وہ بیان کر دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر اللہ کو جو منظور ہوتی بیان فرماتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کی کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔ (اور وہاں سے عالم بالا کی مجھ کو سیر کرائی) وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہمارے بعض اصحاب نے (غالباً عباس بن فضیل اسقاطی نے موسیٰ بن اسماعیل سے یوں روایت کیا ہے) لوہے کا آنکس تھا جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں ڈال کر اس کے سر کے پیچھے تک چیر دیتا پھر دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی اسی طرح کرتا تھا۔ اس دوران میں اس کا پہلا جبڑا صحیح اور اپنی اصلی حالت پر آ جاتا اور پھر پہلے کی طرح وہ اسے دوبارہ چیرتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک تنور جیسے گڑھے کی طرف چلے۔ جس کے اوپر کا حصہ تو تنگ تھا لیکن نیچے سے خوب فراخ۔ نیچے آگ بھڑک رہی تھی۔ جب آگ کے شعلے بھڑک کر اوپر کو اٹھتے تو اس میں جلنے والے لوگ بھی اوپر اٹھ آتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اب وہ باہر نکل جائیں گے لیکن جب شعلے دب جاتے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے۔ اس تنور میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں۔ میں نے اس موقع پر بھی پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لیکن اس مرتبہ بھی جواب یہی ملا کہا کہ ابھی اور آگے چلیں ‘ ہم آگے چلے۔ اب ہم خون کی ایک نہر کے اوپر تھے نہر کے اندر ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے بیچ میں (یزید بن ہارون اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم کے واسطہ سے «وسطه النهر» کے بجائے «شط النهر» نہر کے کنارے کے الفاظ نقل کئے ہیں) ایک شخص تھا۔ جس کے سامنے پتھر رکھا ہوا تھا۔ نہر کا آدمی جب باہر نکلنا چاہتا تو پتھر والا شخص اس کے منہ پر اتنی زور سے پتھر مارتا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر چلا جاتا اور اسی طرح جب بھی وہ نکلنے کی کوشش کرتا وہ شخص اس کے منہ پر پتھر اتنی ہی زور سے پھر مارتا کہ وہ اپنی اصلی جگہ پر نہر میں چلا جاتا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم اور آگے بڑھے اور ایک ہرے بھرے باغ میں آئے۔ جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا اس درخت کی جڑ میں ایک بڑی عمر والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ بچے بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ درخت سے قریب ہی ایک شخص اپنے آگے آگ سلگا رہا تھا۔ وہ میرے دونوں ساتھی مجھے لے کر اس درخت پر چڑھے۔ اس طرح وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے گئے کہ اس سے زیادہ حسین و خوبصورت اور بابرکت گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر میں بوڑھے، جوان ‘ عورتیں اور بچے (سب ہی قسم کے لوگ) تھے۔ میرے ساتھی مجھے اس گھر سے نکال کر پھر ایک اور درخت پر چڑھا کر مجھے ایک اور دوسرے گھر میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بہتر تھا۔ اس میں بھی بہت سے بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگوں نے مجھے رات بھر خوب سیر کرائی۔ کیا جو کچھ میں نے دیکھا اس کی تفصیل بھی کچھ بتلاؤ گے؟ انہوں نے کہا ہاں وہ جو آپ نے دیکھا تھا اس آدمی کا جبڑا لوہے کے آنکس سے پھاڑا جا رہا تھا تو وہ جھوٹا آدمی تھا جو جھوٹی باتیں بیان کیا کرتا تھا۔ اس سے وہ جھوٹی باتیں دوسرے لوگ سنتے۔ اس طرح ایک جھوٹی بات دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی۔ اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ جس شخص کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا تھا تو وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اسے بھی یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا اور جنہیں آپ نے تنور میں دیکھا تو وہ زنا کار تھے۔ اور جس کو آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار تھا اور وہ بزرگ جو درخت کی جڑ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد والے بچے ‘ لوگوں کی نابالغ اولاد تھی اور جو شخص آگ جلا رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ تھا اور وہ گھر جس میں آپ پہلے داخل ہوئے جنت میں عام مومنوں کا گھر تھا اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں ‘ یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں۔ اچھا اب اپنا سر اٹھاؤ میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1386]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز (فجر) سے فارغ ہوتے تو ہماری طرف منہ کرکے فرماتے: تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کر دیتا، پھر جو کچھ اللہ چاہتا آپ اس کی تعبیر بیان کرتے، چنانچہ اسی طرح ایک دن آپ نے ہم سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: مگر میں نے آج رات دو آدمیوں کو خواب میں دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک مقدس زمین پر لے گئے۔ وہاں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی بیٹھا اور دوسرا کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے جسے وہ بیٹھے ہوئے آدمی کے جبڑے میں داخل کرتا ہے جو اس طرف کو چیرتا ہوا، اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس کے دوسرے جبڑے میں بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ اس عرصے میں پہلا جبڑا ٹھیک ہو جاتا ہے، پھر یہ دوبارہ ایسے ہی کر دیتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان دونوں نے مجھے کہا: آگے چلیے۔ ہم چلے تو ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو بالکل چت لیٹا ہوا ہے اور ایک آدمی اس کے سرہانے ایک پتھر لیے کھڑا ہے۔ وہ اس پتھر سے اس کا سر پھوڑ رہا ہے۔ جب پتھر مارتا ہے تو وہ لڑھک کر دور چلا جاتا ہے، پھر وہ اسے جا کر اٹھا لاتا ہے اور جب اس لیٹے ہوئے شخص کے پاس لوٹ کر آتا ہے تو اس وقت تک اس کا سر جڑ کر اچھا ہو جاتا ہے اور جیسے پہلے تھا اسی طرح ہو جاتا ہے، پھر اسے دوبارہ مارتا ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا: آگے چلیے، چنانچہ ہم ایک گڑھے کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا، اس کا منہ تنگ اور پیندا چوڑا تھا۔ اس میں آگ جل رہی تھی اور اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں جب آگ بھڑکتی تو وہ (برہنہ لوگ) شعلوں کے ساتھ اچھل پڑتے اور نکلنے کے قریب ہو جاتے، پھر جب آگ دھیمی ہو جاتی تو وہ بھی دھڑام سے نیچے گر پڑتے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا: آگے چلیے، چنانچہ ہم چلے اور ایک خونی نہر پر پہنچے۔ اس میں ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے کنارے پر دوسرا آدمی تھا جس کے سامنے بہت سے پتھر پڑے تھے، نہر کے اندر والا آدمی جب باہر آنا چاہتا تو کنارے والا آدمی اس کے منہ پر اس زور سے پتھر مارتا کہ وہ پھر اپنی جگہ پر لوٹ جاتا، پھر ایسا ہی کرتا رہا۔ جب بھی وہ نکلنا چاہتا تو دوسرا اس زور سے اس کے منہ پر پتھر مارتا کہ اسے اپنی جگہ پر لوٹا دیتا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ ان دونوں نے کہا: آگے چلیے۔ ہم چل دیے۔ چلتے چلتے ہم ایک سرسبز باغ میں پہنچے جس میں ایک بڑا سا درخت تھا۔ اس کی جڑ کے قریب ایک بوڑھا آدمی اور کچھ بچے بیٹھے تھے۔ اب اچانک میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس درخت کے پاس ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ ہے اور وہ اسے سلگا رہا ہے۔ پھر وہ دونوں مجھے اس درخت پر چڑھا لے گئے اور وہاں انہوں نے مجھے ایک ایسے مکان میں داخل کیا جس سے بہتر مکان میں نے کبھی نہیں دیکھا، اس میں کچھ بوڑھے، کچھ جوان، کچھ عورتیں اور کچھ بچے تھے۔ پھر وہ دونوں مجھ کو وہاں سے نکال لائے اور درخت پر چڑھایا، وہاں بھی ایک مکان تھا جس میں مجھے داخل کیا۔ یہ مکان پہلے سے بھی زیادہ عمدہ اور شاندار تھا۔ اس میں بھی کچھ بوڑھے اور جوان آدمی موجود تھے۔ تب میں نے ان دونوں سے کہا: تم نے مجھے رات بھر پھرایا ہے، اب میں نے جو کچھ دیکھا ہے اس کی حقیقت بتاؤ؟ انہوں نے جواب دیا: اچھا۔ وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بہت جھوٹا آدمی تھا اور جھوٹی باتیں کیا کرتا تھا جو اس سے نقل ہو کر تمام اطراف عالم میں پہنچ جاتی تھیں، اس لیے قیامت تک اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوتا رہے گا اور وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا ہے، یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا مگر وہ قرآن کو چھوڑ کر رات بھر سوتا رہتا اور دن میں بھی اس پر عمل نہیں کرتا تھا، روز قیامت تک اس کے سر پر یہی عمل ہوتا رہے گا۔ اور وہ لوگ جنہیں آپ نے گڑھے میں دیکھا، وہ زانی ہیں۔ اور جسے آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خور ہیں۔ وہ بوڑھا انسان جو درخت کی جڑ کے قریب بیٹھا ہوا تھا، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور چھوٹے بچے جو ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے، وہ لوگوں کے وہ بچے تھے جو (بلوغ سے پہلے) مر گئے۔ اور جو آدمی آگ تیز کر رہا تھا وہ مالک، جہنم کا داروغہ تھا۔ اور وہ پہلا مکان جس میں آپ تشریف لے گئے تھے عام مسلمانوں کا گھر ہے اور یہ دوسرا شہیدوں کے لیے ہے۔ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ اب آپ اپنا سر اٹھائیں۔ میں نے سر اٹھایا تو یکایک دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر ابر کی طرح کوئی چیز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کی اقامت گاہ ہے۔ میں نے کہا: مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ تو انہوں نے کہا: ابھی آپ کی کچھ عمر باقی ہے، اگر آپ اسے پورا کر چکے ہوتے تو اپنی رہائش گاہ میں جا سکتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2085
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ، وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ، رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ، فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ، فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ، آكِلُ الرِّبَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات (خواب میں) میں نے دو آدمی دیکھے، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے، وہاں (نہر کے کنارے) ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اور نہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا۔ (نہر کے کنارے پر) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا۔ میں نے (اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے) پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2085]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات خواب میں دو مرد دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس کی طرف لے گئے، ہم چلتے رہے حتیٰ کہ خون کی نہر پر آئے جس میں ایک آدمی کھڑا تھا اور نہر کے درمیان میں ایک آدمی تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے، جب دوسرا آدمی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے وہیں واپس کر دیتا جہاں وہ تھا، میں نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے؟ تو ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ جس شخص کو آپ نے خونی نہر میں دیکھا ہے وہ سود خور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3236
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي، قَالَا: الَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَأَنَا جِبْرِيلُ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ابورجاء نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج رات (خواب میں) دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے۔ ان دونوں نے مجھے بتایا کہ وہ جو آگ جلا رہا ہے۔ وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے۔ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3236]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دو آدمی دیکھے جو میرے پاس آئے۔ انہوں نے (مجھ سے) کہا: جو شخص آگ روشن کر رہا تھا وہ مالک، جہنم کا داروغہ تھا۔ میں جبرئیل ہوں اور یہ حضرت میکائیل ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3236]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3354
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ طَوِيلٍ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا وَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے مؤمل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے، کہا ہم سے ابورجاء نے، کہا ہم سے سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کی رات میرے پاس (خواب میں) دو فرشتے (جبرائیل و میکائیل علیہما السلام) آئے۔ پھر یہ دونوں فرشتے مجھے ساتھ لے کر ایک لمبے قد کے بزرگ کے پاس گئے، وہ اتنے لمبے تھے کہ ان کا سر میں نہیں دیکھ پاتا تھا اور یہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3354]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے پاس دو آدمی آئے (اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔) پھر ہم ایک آدمی کے پاس آئے جس کا قد بہت لمبا تھا۔ میں اس کے دراز قد ہونے کی وجہ سے اس کا سر نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4674
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ هُوَ ابْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، فَابْتَعَثَانِي، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ، وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَتَلَقَّانَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَا لَهُمْ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهْرِ، فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا، قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَا: أَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ، وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ، فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا، وَآخَرَ سَيِّئًا، تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے سمرہ بن جندب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ رات (خواب میں) میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھے اٹھا کر ایک شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا، وہاں ہمیں ایسے لوگ ملے جن کا آدھا بدن نہایت خوبصورت، اتنا کہ کسی دیکھنے والے نے ایسا حسن نہ دیکھا ہو گا اور بدن کا دوسرا آدھا حصہ نہایت بدصورت تھا، اتنا کہ کسی نے بھی ایسی بدصورتی نہیں دیکھی ہو گی۔ دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا جاؤ اور اس نہر میں غوطہٰ لگاؤ۔ وہ گئے اور نہر میں غوطہٰ لگا آئے۔ جب وہ ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی جاتی رہی اور اب وہ نہایت خوبصورت نظر آتے تھے پھر فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور آپ کا مکان یہیں ہے۔ جن لوگوں کو ابھی آپ نے دیکھا کہ جسم کا آدھا حصہ خوبصورت تھا اور آدھا بدصورت، تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا میں اچھے اور برے سب کام کئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4674]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور مجھے اٹھا کر ایک ایسے شہر کی طرف لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔ وہاں ہمیں ایسے لوگ ملے جن کا آدھا بدن انتہائی خوبصورت کہ تو نے ایسا حسن کبھی نہ دیکھا ہو گا اور آدھا بدن نہایت بدصورت جو تو نے کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ ان دونوں نے ان سے کہا: جاؤ اور اس نہر میں غوطہ لگاؤ۔ وہ نہر میں گھس گئے۔ پھر جب وہ ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی جاتی رہی اور وہ انتہائی خوبصورت ہو گئے۔ پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ «جَنَّةُ عَدْنٍ» جنت عدن ہے اور آپ کا مکان یہیں ہے اور جن لوگوں کو ابھی آپ نے دیکھا تھا کہ ان کا آدھا جسم انتہائی خوبصورت تھا اور آدھا نہایت بدصورت تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے برے ملے جلے عمل کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں معاف کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4674]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6096
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي قَالَا: الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ فَكَذَّابٌ يَكْذِبُ بِالْكَذْبَةِ تُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الْآفَاقَ فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس گذشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6096]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس (گزشتہ رات خواب میں) دو آدمی آئے۔ انہوں نے کہا: جسے آپ نے دیکھا کہ اس کے جبڑے چیرے جا رہے تھے، وہ بہت جھوٹ بکنے والا تھا، اس کی جھوٹی باتیں اس حد تک نقل کی جاتیں کہ پوری دنیا میں پھیل جاتی تھیں، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6096]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7047
حَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ لِأَصْحَابِهِ:" هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا؟، قَالَ: فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ غَدَاةٍ: إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي: انْطَلِقْ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ رَأْسَهُ، فَيَتَهَدْهَدُ الْحَجَرُ هَهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ فَيَأْخُذُهُ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، قَالَ، قُلْتُ لَهُمَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ، فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: فَيَشُقُّ، قَالَ: ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ ذَلِكَ الْجَانِبُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ التَّنُّورِ، قَالَ: فَأَحْسِبُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ، قَالَ: فَاطَّلَعْنَا فِيهِ، فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهَبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ، وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ سَابِحٌ يَسْبَحُ، وَإِذَا عَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الَّذِي قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ الْحِجَارَةَ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا فَيَنْطَلِقُ يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ فَأَلْقَمَهُ حَجَرًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَانِ؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً، وَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْتَمَّةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ لَوْنِ الرَّبِيعِ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا، مَا هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ، قَالَ: قَالَا لِي: ارْقَ فِيهَا، قَالَ: فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَدَخَلْنَاهَا، فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَ: قَالَا لَهُمْ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ، قَالَ: وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوا، فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ: قَالَا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَ: قَالَا لِي: هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي فَأَدْخُلَهُ، قَالَا: أَمَّا الْآنَ فَلَا، وَأَنْتَ دَاخِلَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟، قَالَ: قَالَا لِي: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ، أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ، وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ، وَيُلْقَمُ الْحَجَرَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحًا، فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
مجھ سے ابوہشام مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے، ان سے ابورجاء نے، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ (عوف نے) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء (راوی حدیث) نے «فيشق» کہا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ (اس طرح برابر ہو رہا ہے) فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، (ابھی کچھ نہ پوچھو) چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو (بچپن ہی میں) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی (ان میں داخل ہیں) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7047]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت صحابہ کرام سے فرمایا کرتے تھے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ جس نے خواب دیکھا ہوتا وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح فرمایا: آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے، انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا: (ہمارے ساتھ) چلو۔ میں ان کے ساتھ چل دیا، چنانچہ ہم ایک آدمی کے پاس آئے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے پاس ایک پتھر لیے کھڑا تھا۔ اچانک وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو اس کا سر توڑ دیتا اور پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا۔ وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا۔ اس کے واپس آنے سے پہلے پہلے دوسرے کا سر صحیح ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا ہوا شخص پھر اسی طرح مارتا اور وہی صورت پیش آتی جو پہلے آئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان دونوں سے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» سبحان اللہ! کیا ماجرا ہے؟ یہ دونوں شخص کون ہیں؟ انہوں نے کہا: آگے چلو، آگے چلو۔ ہم چل دیے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا۔ وہ اس کے چہرے کے ایک طرف آتا اور اس کے جبڑے کو گدی تک، اس کے نتھنے کو گدی تک اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیر دیتا۔ پھر چہرے کے دوسری طرف جاتا تو ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی صحیح حالت میں آجاتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان سے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: آگے چلو، آگے چلو، چنانچہ ہم آگے چلے۔ پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ اس میں شوروغل کی آواز تھی۔ ہم نے جھانک کر دیکھا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں۔ جب ان کے پاس نیچے سے آگ کا شعلہ آتا تو وہ چلانے لگتے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: آگے چلو، آگے چلو، چنانچہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ وہ نہر خون کی طرح سرخ تھی۔ اس میں ایک تیرنے والا آدمی تیر رہا تھا۔ نہر کے کنارے ایک اور آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے۔ جب تیرنے والا آدمی اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے وہ اس کا منہ کھول دیتا اور زور سے پتھر مار کر اسے پیچھے دھکیل دیتا اور وہ پھر تیرنے لگتا۔ پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا جیسے پہلے آیا تھا تو وہ اس کا منہ کھول دیتا اور منہ پر زور سے پتھر مار کر اسے پیچھے دھکیل دیتا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: آگے چلو، آگے چلو، چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک انتہائی بدصورت آدمی کے پاس پہنچے، جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے وہ ان سب سے زیادہ بدصورت تھا۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے خوب تیز کررہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آگے چلو، آگے چلو، بڑھے تو ایک ایسے باغ میں پہنچے جو سرسبز و شاداب تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان ایک لمبے قد والا آدمی تھا، اتنا لمبا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا مشکل ہوگیا گویا وہ آسمان سے باتیں کررہا تھا۔ اس کے ارد گرد بہت سے بچے تھے۔ میں نے اتنے بچے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اور بچوں کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آگے چلیے۔ ہم آگے بڑھے تو ہم ایک عظیم الشان باغ میں پہنچے۔ میں نے اتنا بڑا اور اتنا خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا: اس پر چڑھیے۔ جب ہم اس پر چڑھے تو وہاں ایک ایسا شہر دکھائی دیا جس کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی تھی۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور ہم نے اسے کھلوایا تو وہ ہمارے لیے کھول دیا گیا۔ ہم اس میں داخل ہوئے تو ہمارا استقبال ایسے لوگوں نے کیا جن کے جسم کا نصف حصہ انتہائی خوبصورت اور دوسرا حصہ انتہائی بدصورت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں ساتھیوں نے لوگوں سے کہا: اس نہر میں کود جاؤ۔ وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی انتہائی سفید اور صاف شفاف تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں کود پڑے، پھر جب وہ ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی جاتی رہی تھی اور اب وہ نہایت خوبصورت ہوگئے تھے۔ ان دونوں نے مجھے کہا: یہ «جَنَّةُ عَدْنٍ» جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے، جب میری نظر اوپر اٹھی تو سفید بادل کی طرح وہاں مجھے ایک محل نظر آیا۔ انہوں نے مجھے کہا: اس جگہ آپ کا مقام ہے۔ میں نے ان سے کہا: «بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکُمَا» اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے! مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اس محل کے اندر داخل ہوجاؤں۔ انہوں نے کہا: اس وقت تو آپ نہیں جاسکتے لیکن آئندہ آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا: آج رات میں نے بہت عجیب وغریب چیزیں دیکھی ہیں، بہر حال جو کچھ میں نے دیکھا ہے ان کی حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: ہم ابھی آپ سے بیان کرتے ہیں؛ پہلا شخص جس کا سر پتھر سے کچلا جارہاتھا، یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا، پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جاتا تھا۔ اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور اس کا جبڑا گدی تک، اس کے نتھنے گدی تک اور اس کی آنکھیں گدی تک چیری جارہی تھیں، وہ ایسا شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور سارا دن جھوٹ بولتا رہتا حتیٰ کہ دور دراز تک اس کا جھوٹ پہنچ جاتا۔ اور وہ ننگے مرد اور ننگی عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں تھیں۔ اور آپ جس آدمی کے پاس آئے جو خونی نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر مارے جارہے تھے وہ سود خور تھا۔ اور وہ بدصورت شخص جو آگ بھڑکا رہا تھا اور اس کے ارد گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا داروغہ «مَالِك» مالک نامی فرشتہ ہے۔ اور باغ میں لمبے قد والے آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے ارد گرد وہ بچے تھے جو پیدا ہوکر فطرتِ اسلام پر فوت ہوگئے۔ اس پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں شامل ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں۔ اب رہے وہ لوگ جن کا نصف بدن خوبصورت اور نصف بدصورت تھا، تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے اور برے دونوں قسم کے عمل کیے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں معاف کردیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں