صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب صفة الشمس والقمر:
باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3204
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3204]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کے مرنے یا کسی کے پیدا ہونے کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں اس حالت میں دیکھو تو نماز پڑھو۔“ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَاهُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، تَابَعَهُ جَرِيرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1941]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (شام کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو آفتاب کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتر کر میرے لیے ستو گھول۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تک سورج کی روشنی باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔“ چنانچہ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو تیار کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوش کیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔“ جریر اور ابو بکر عیاش نے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے، وہ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة