صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب قوله: {وإن كنتن تردن الله ورسوله والدار الآخرة فإن الله أعد للمحسنات منكن أجرا عظيما} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی کی بیویو! اگر تم اللہ کو، اس کے رسول کو اور عالم آخرت کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار رکھا ہے“۔
حدیث نمبر: 4786
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ:" إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ"، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ، قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا إِلَى أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَفِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ. تَابَعَهُ مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو سُفْيَانَ الْمَعْمَرِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہ آیت جس میں یہ حکم تھا) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے «أجرا عظيما» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4786]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں تو (سب سے) پہلے آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”میں تم سے ایک معاملے کے متعلق کہنے آیا ہوں، اس معاملے میں جلد بازی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دینا۔“ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے علیحدگی اختیار کرنے کا مشورہ کبھی نہیں دیں گے، چنانچہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا... أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 28، 29] ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیں، اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتی ہو۔۔ بہت بڑا اجر ہے۔“ میں نے کہا: ”میں اس معاملے میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ، اس کے رسول اور عالم آخرت کی خواہاں ہوں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے کہا: ”مجھے ابوسلمہ نے خبر دی ہے۔“ عبدالرزاق اور ابو سفیان معمری نے معمر سے، انہوں نے امام زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت عروہ رحمہ اللہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7420
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ وَأَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ"، قَالَ أَنَسٌ: لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ، قَالَ: فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولْ: زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيكُنَّ وَزَوَّجَنِي اللَّهُ تَعَالَى مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، وَعَنْ ثَابِتٍ، وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ سورة الأحزاب آية 37 نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ بیان کیا چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے۔“ زینب اور زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7420]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی کی) شکایت کرتے ہوئے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات (لوگوں سے) چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔“ (راوی حدیث کہتے ہیں:) ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات کے سامنے بطور فخر کہا کرتی تھیں: ”تمہارے نکاح تمہارے گھر والوں نے کیے ہیں جبکہ میری شادی اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔“ حضرت ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آیت ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”اور آپ اپنے دل میں جو بات چھپا رہے تھے اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے۔“ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7420]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة