🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب في صوم شوال
باب: شوال کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ، فَقَالَ:" إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ، فَإِذَا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ زَيْدٌ الْعُكْلِيُّ وَخَالَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ. قَالَ: مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
مسلم قرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پورے سال کے روزوں کے متعلق پوچھا، یا آپ سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر تمہارے اہل کا بھی حق ہے، لہٰذا رمضان اور اس کے بعد (والے ماہ میں) روزے رکھو، اور ہر بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھو تو گویا تم نے پورے سال کا روزہ رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2432]
عبیداللہ بن مسلم قرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ «صِيَامُ الدَّهْرِ» ہمیشہ روزے رکھنے کے متعلق میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا کسی اور نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے، رمضان میں روزے رکھو اور اس کے ساتھ والے مہینے میں (شوال میں) اور ہر بدھ اور جمعرات کو (بھی) تو اس طرح تم زمانہ بھر روزے رکھنے والے ہو گے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا (راویِ حدیث عبیداللہ بن مسلم کے نام میں) زید بن حباب عکلی نے عبیداللہ بن موسیٰ کی تائید کی ہے اور ابونعیم نے مخالفت کی ہے۔ (بعض مسلم بن عبیداللہ کہتے ہیں اور کچھ نے مسلم بن عبداللہ کہا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 45 (748)، (تحفة الأشراف: 9740)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 4/78) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (صحیح مسلم بن عبیداللہ ہے اور یہ لین الحدیث ہیں، ان کے والد کا نام عبیداللہ بن مسلم اور یہ صحابی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (748)
عبيداللّٰه بن مسلم: مجهول،انظر التحرير (6636)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2427
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُلْتُ ذَاكَ. قَالَ: قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ دَاوُدَ. قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا مجھ سے یہ نہیں بیان کیا گیا ہے کہ تم کہتے ہو: میں ضرور رات میں قیام کروں گا اور دن میں روزہ رکھوں گا؟ کہا: میرا خیال ہے اس پر انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! میں نے یہ بات کہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیام اللیل کرو اور سوؤ بھی، روزہ رکھو اور کھاؤ پیو بھی، ہر مہینے تین دن روزے رکھو، یہ ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو وہ کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک دن روزہ رکھو، اور ایک دن افطار کرو، یہ عمدہ روزہ ہے، اور داود علیہ السلام کا روزہ ہے میں نے کہا: مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے افضل کوئی روزہ نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2427]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں رات بھر قیام اور دن کو روزہ ہی رکھا کروں گا؟ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رات کو) قیام کرو اور آرام بھی کرو، روزے رکھو اور افطار بھی کرو (بلکہ) ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو، یہ «صِيَامُ الدَّهْرِ» کی مانند ہو گے۔ (گویا زمانہ بھر روزے رکھے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھا کر دو دن افطار کر لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا: تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کر لیا کرو، یہ روزے رکھنے کی معتدل صورت ہے اور یہ «صِيَامُ دَاوُدَ» ہے۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے بڑھ کر کچھ افضل نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 56 (1976)، وأحادیث الأنبیاء 38 (3418)، /النکاح 90 (5199)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8645، 8960)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 57 (770)، سنن النسائی/الصوم 45 (2394)، سنن ابن ماجہ/الصیام 31 (1721)، مسند احمد (2/160، 164)، سنن الدارمی/الصوم 42 (1793) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1976) صحيح مسلم (1159)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں