🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب أيصلي الرجل وهو حاقن
باب: کیا آدمی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھ سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمُّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصُّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَنْظُرُ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يُصَلِّي وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں: ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے، جب تک کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین کام کسی کو روا نہیں ہیں۔ یعنی کوئی شخص کسی قوم کی امامت کرائے تو اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا نہ کرے۔ اگر ایسا کیا تو ان سے خیانت کی۔ اجازت ملنے سے پہلے ہی کسی کے گھر کے اندر نہ جھانکے۔ اگر ایسا کیا تو گویا (بغیر اجازت) اندر داخل ہوا۔ کوئی شخص پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ فراغت حاصل کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 90]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 148 (357)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 31 (923)، (تحفة الأشراف: 2089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کا ایک راوی یزید ضعیف ہے، نیز وہ سند میں مضطرب بھی ہوا ہے، ہاں اس کے دوسرے ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1070)
اسماعيل بن عياش صرح بالسماع من شيخ الشامي عند الترمذي (357) وروايته عن الشاميين مقبولة عند الجمهور ويزيد بن شريح: حسن الحديث وثقه ابن حبان والترمذي وغيرھما، وانظر الحديث الآتي وابن ماجه (619، 923)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا، فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ".
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم (قاسم بن محمد) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں (پاخانہ و پیشاب) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 89]
جناب عبداللہ بن محمد بن ابی بکر (قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق کے بھائی) سے روایت ہے کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے کہ اس اثنا میں ان کا کھانا آ گیا، تو جناب قاسم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: جب کھانا حاضر ہو تو نماز نہ پڑھی جائے نیز ایسی حالت میں بھی کہ آدمی پیشاب پاخانے کو روک رہا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 16 (560)، (تحفة الأشراف: 16269، 16288)، مسند احمد (6/43، 54) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (560)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يُصَلِّيَ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ، قَالَ: وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ وَلَا يَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الشَّامِ لَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ (وہ فارغ ہو کر) ہلکا نہ ہو جائے۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ پیشاب پاخانہ روکے ہوئے نماز پڑھے، حتیٰ کہ فارغ ہو جائے۔ پھر جناب ثور نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اور کہا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے حلال نہیں کہ بغیر اجازت کے کسی قوم کی امامت کرائے اور نہ اہل جماعت کو چھوڑ کر خاص اپنے ہی لیے دعا کرے۔ اگر ایسا کرے تو ان سے خیانت کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ سند اہل شام کی اسانید میں سے ہے، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں (سوائے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14879) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”یزید“ ضعیف ہے، ہاں شواہد کے سبب یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، البتہ دعاء والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی شاہد نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الدعوة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (90)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں