سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : في الخلوق للمحرم
باب: محرم کے لیے خلوق (خوشبو) کے استعمال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2711
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى فَقَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو (زعفران سے) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2711]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جبکہ آپ جعرانہ میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اپنی داڑھی اور سر کو زرد رنگ کی خوشبو لگا رکھی تھی۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جبہ اتار دے اور رنگ دار خوشبو دھو دے اور جس طرح تو حج (کے احرام) میں کرتا تھا، اسی طرح عمرے (کے احرام) میں کر۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2669 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2710
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا أَصْنَعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ" قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِي هَذَا وَأَغْسِلُهُ، فَقَالَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی کرو جو حج میں کرتے ہو“، اس نے کہا: میں (حج میں) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2710]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا لیکن اس نے سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور «الْخَلُوقُ» (خوشبو) لگا رکھی تھی۔ اس نے آپ سے کہا: میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو حج میں کیا کرتا تھا؟“ اس نے کہا: میں اس (سلے ہوئے کپڑے) سے بچتا تھا اور اس (خوشبو) کو دھو دیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”جو تو حج میں کرتا تھا، وہی عمرے میں کر۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2669 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”خلوق“ ایک معروف خوشبو ہے جو زعفران ملا کر بنائی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن