🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المطالب العالية
”المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیہ“ (تعارفی جائزہ)
علمِ حدیث کا شاہکار: ”المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیہ“ (تعارفی جائزہ)
تمہید:
اسلامی علوم میں علمِ حدیث کو ایک مرکزی اور بنیادی مقام حاصل ہے۔ قرونِ اولیٰ کے محدثین اور ائمہ نے احادیثِ نبویہ کی تدوین، ترتیب اور تحفظ کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں۔ بعد کے ادوار میں جب بنیادی کتبِ حدیث مرتب ہو چکیں، تو علما نے ان کتب میں موجود احادیث کو یکجا کرنے اور ایسے متون کو نمایاں کرنے پر توجہ دی جو مشہور کتب میں موجود نہیں تھے۔
انہی جلیل القدر محدثین میں نویں صدی ہجری کے امام، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی 852ھ) کا نام سرِفہرست ہے۔ آپ نے حدیث کے عظیم ذخیرے کو آسان اور فائدے مند بنانے کے لیے”المطالب العاليَة بزوائد المسانيد الثمانية“ نامی بلند پایہ کتاب تصنیف فرمائی، جو فنِ زوائد میں ایک نمایاں سنگِ میل تسلیم کی جاتی ہے۔
کتاب کا پس منظر اور بنیادی مقصد:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنی اس تصنیف کے مقدمے میں بیان فرمایا ہے کہ علمِ حدیث میں مشغولیت انسان کے لیے عظیم ترین سعادت اور باعثِ برکت عمل ہے۔ متقدمین ائمہ نے احادیث کو مسانید اور ابواب کی شکل میں جمع کیا تھا۔ ابتدا میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا ارادہ تھا کہ تمام دستیاب کتبِ حدیث کو ایک جگہ جمع کر دیں تاکہ طلبہ کے لیے احادیث کی تلاش آسان ہو جائے، لیکن بعد میں انہوں نے ایک حکمتِ عملی اپنائی: "فنِ زوائد"۔
زوائد سے مراد ایسی احادیث کا انتخاب ہے جو کتبِ اصول (بنیادی کتب) میں موجود نہ ہوں اور دیگر نادر و نایاب مسانید میں پائی جاتی ہوں۔
کتاب کے بنیادی مآخذ اور منبع:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کتاب کی بنیاد درج ذیل بنیادی کتب اور مسانید پر رکھی:
کتبِ اصول (الأصول السبعة):
ان سے مراد صحاحِ ستہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) اور مسندِ احمد ہیں۔
بنیادی آٹھ مسانید (المسانيد الثمانية):
آپ نے ان آٹھ مسانید کے انفرادی و اضافی احادیث (زوائد) کو چنا:
مسند ابو داؤد طیالسی
مسند حمیدی
مسند ابن ابی عمر
مسند مسدد بن مسرہد
مسند احمد بن منیع
مسند ابو بكر بن ابی شیبہ
مسند عبد بن حمید
مسند حارث بن ابی اسامہ
دیگر مسانید کا شمول:
اس کے علاوہ آپ نے مسندِ اسحاق بن راہویہ (جس کا نصف حصہ آپ کو ملا تھا) اور مسندِ ابو یعلیٰ کی ان روایات کا تعاقب کیا جو علامہ الہیثمی رحمہ اللہ سے ان کی کتاب "مجمع الزوائد" میں رہ گئی تھیں۔ یوں یہ کتاب مجموعی طور پر 10 اہم مسانید کے زوائد پر مشتمل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی شرط اور منهج
اس کتاب کی ترتیب میں حافظ صاحب نے ایک خاص علمی شرط کو ملحوظِ خاطر رکھا:
شرطِ روایت: ہر وہ حدیث ذکر کی جائے گی جو کسی صحابی سے مروی ہو اور وہ حدیث کتبِ اصول (ساتوں بنیادی کتب) میں اس صحابی کی مسند میں موجود نہ ہو۔
اگر وہ حدیث کسی دوسرے صحابی کے طریق سے اصولِ سبعہ میں موجود بھی ہو، تب بھی اس صحابی کی روایت کے ناطے اسے زوائد میں شامل کیا گیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں علمی تنبیہ بھی فرمائی۔
کتاب کی فقهی اور موضوعاتی ترتیب:
کتاب کو طلبہ اور فقہاء کی سہولت کے لیے الفقہی ترتیب (ابوابِ فقہ) پر مرتب کیا گیا ہے:
احکام و فقهی ابواب: طہارت، نماز، جنائز، زکوۃ، روزہ، حج، بیوع (خرید و فروخت)، نکاح و طلاق، حدود و قصاص، جہاد، امارت و خلافت، قضاء، لباس، ذبائح و شکار، اور طعام و شراب وغیرہ۔
ایمانی و اخلاقی ابواب: تخلیقِ کائنات (بدء الخلق)، ایمان و توحید، اتباعِ سنت، زہد و رقائق، اذکار و دعائیں، سیرتِ نبوی اور قصص الانبیاء، فضائلِ قرآن، فتن اور علاماتِ قیامت۔
کتاب کی علمی اہمیت و افادیت:
نادر احادیث کی حفاظت: اس کتاب کے ذریعے ایسی سینکڑوں احادیث محفوظ ہو گئیں جو دیگر عام کتب میں دستیاب نہیں تھیں۔
اسانیدِ متصل کا بیان: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمے میں اپنے شیوخ کے واسطے سے ان تمام مسانید تک پہنچنے والی اپنی روایتی اسانید (سندِ متصل) بھی درج فرمائی ہیں، جو حدیث کی علمی سندیت کا ثبوت ہے۔
محققین اور فقہاء کے لیے آسان مرجع: فقهی ابواب پر ترتیب ہونے کی وجہ سے فقہی مسائل اور دلائل کی تلاش میں یہ کتاب ایک بہترین رہنما ہے۔
حرفِ آخر
کتاب "المطالب العاليَة بزوائد المسانيد الثمانية" نہ صرف حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی ژرف نگاہی اور علمی بصيرت کا منہ بولتا ثبوت ہے، بلکہ یہ اسلامی دنیا کے لیے علمِ حدیث کا ایک گرانقدر تحفہ ہے۔ یہ کتاب ہر اس طالبِ علم اور محقق کے لیے مشعلِ راہ ہے جو حدیثِ نبوی کی تحقیق اور فہم میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔