نام کتاب:خلاصة التحقیق فی افضلیة الصدیق رضی اللہ عنہ
(سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت اور اولیت کا مدلل تحقیقاتی خلاصہ)
مصنف: علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر محدث امن پوری حفظہ اللہ
انبیاء کرام اور رسل عظام کے بعد کائنات کی افضل ترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اس پر صحابہ سے لے کر ہر دور کے اہل سنت والجماعت کا اجماع رہا ہے۔ یہی سبیل مومنین ہے۔ مومنوں مسلمانوں اور اہل علم کا اجتماعی شعور یہی ہے۔. قرآن و حدیث میں کے بے شمار دلائل اسی پر شاہد ہیں آپ کو ایسے منفرد خصائص و امتیازات حاصل ہیں جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئے انہی فضائل و مراتب کو دیکھتے ہوئے تمام صحابہ نے آپ کو خلیفہ بلا فصل منتخب کیا ۔عہدِ نبوی میں صحابہ کرام سیدنا ابوبکر کو ہی اول اور افضل سمجھتے تھے۔ سیدنا علی سے متواتر ثابت ہے کہ آپ نے سیدنا ابوبکر صدیق کو امت کا بہترین فرد قرار دیا اور دیگر اہل بیت کا بھی یہی عقیدہ تھا عہد نبوی سے لے کر اج تک دو مسلمانوں نے بھی اس میں اختلاف نہیں کیا۔
علامہ ابوبکر کلاباذی رح حنفی(380ھ)فرماتے ہیں:
اجمع اهل السنة والجماعة ان خير الناس بعد رسول الله ﷺ ابو بكر ثم عمر
اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین ہستی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں"۔
(اہل سنت کے 💯 اجماعی عقائد و اعمال صفحہ 125)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
"يَجِبُ أَنْ يُعْلَمَ أَوَّلًا أَنَّ التَّفْضِيلَ إِذَا ثَبَتَ لِلْفَاضِلِ مِنَ الخَصَائِصِ مَا لَا يُوجَدُ مِثْلُهُ لِلْمَفْضُولِ، فَإِذَا اسْتَوَيَا وَانْفَرَدَ أَحَدُهُمَا بِخَصَائِصَ كَانَ أَفْضَلَ، وَأَمَّا الأُمُورُ المُشْتَرَكَةُ فَلَا تُوجِبُ تَفْضِيلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَفَضَائِلُ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّتِي تَمَيَّزَ بِهَا لَمْ يُشَارِكْهُ فِيهَا غَيْرُهُ، وَفَضَائِلُ عَلِيٍّ مُشْتَرَكَةٌ".
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تفضیل اس وقت ہوتی ہے جب فاضل کے لیے ایسی خصوصیات ثابت ہوں جس طرح کی خصوصیات بفضول کے لیے ثابت نہ ہوں لہذا جب فضائل میں دونوں برابر ہوں اور دونوں میں سے ایک شخص بعض خصائص میں منفرد ہو تو وہ افضل قرار پائے گا مختلف فضائل میں سے کسی پر تفضیل ثابت نہیں ہوتی جب بات ایسے ہے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایسے فضائل ثابت ہیں جو صرف اپ کا ہی امتیاز ہیں ان میں کوئی دوسرا شریک ہو صحیح نہیں جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل دیگر صحابہ میں مشترک ہیں"
(کتاب ھٰذا صفحہ 15-16)
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا:
أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا؟ أَبُو بَكْرٍ. ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ عُمَرُ.
"میں آپ کو نبی کریمﷺ کے بعد امت کے بہترین شخص کے بارے میں خبر نہ دوں وہ ابوبکر ہیں پھر فرمایا کیا میں سیدنا ابوبکر کے بعد امت کے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں وہ سیدنا عمر ہیں"
محمد بن حنفیہ نے اپنے والد گرامی سیدنا علی سے پوچھا
أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ. فَقُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ. وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ. قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ المُسْلِمِينَ.
رسول اللہﷺ کے بعد بہترین ہستی کون ہے؟ فرمایا ابوبکر، عرض کیا پھر کون؟ فرمایا عمر پھر اس ڈر سے کہ مزید پوچھا تو آپ عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے میں نے کہا ابا جان پھر تو اپ ہیں نا فرمایا میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔ (صفحہ:27)
امام ابو حنیفہ رح سے منسوب کتاب "الوصیة" میں ہے:
نُقِرُّ بِأَنَّ أَفْضَلَ هَذِهِ الأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، ثُمَّ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ
"ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی محمدﷺ کے بعد اس امت کی سب سے افضل ہستی سیدنا ابوبکر صدیق ہیں پھر سیدنا عمر، ان کے بعد سیدنا عثمان اور پھر سیدنا علی افضل ہیں"(صفحہ:33)
"امام احمد بن حنبل رح سے پوچھا گیا آپ (صحابہ میں) کن کو افضل سمجھتے ہیں؟ فرمایا خلفائے راشدین میں سب سے افضل سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہم ہیں" (صفحہ:43)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"نبی کریمﷺ کے بعد اس امت میں کی بہترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق ہیں پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس کے بعد سیدنا عثمان بن عفان ہیں۔ ہمیں تین اصحاب کو (دیگر صحابہ) پر مقدم کرتے ہیں جیسا کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ نے انہیں مقدم کیا ہے وہ اس بارے میں اختلاف نہیں کرتے"(صفحہ:43)
امام ابو زرعہ رازی(264ھ) اور امام ابو حاتم رازی(277ھ) نے اہل سنت کا متفقہ عقیدہ یوں بیان کیا ہے:
"ہم نے حجاز عراق شام اور یمن میں تمام علاقوں کے اہل علم کو دیکھا ان کا مذہب تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کی بہترین شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق ہیں پھر عمر بن خطاب پھر عثمان بن عفان بن پھر علی بن ابی طالب علیہم السلام یہ سب ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ہیں"..(صفحہ:ا8)
علامہ ابن قیم فرماتے ہیں:
"سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ میں افضل سب سے اکمل سب سے زیادہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی معرفت رکھنے والے سب سے زیادہ دین محمدی کا علم رکھنے والے سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب، امور کو قائم کرنے والے اور سب سے زیادہ آپ ﷺ کی موافقت کرنے والے تھے"
(زاد المعاد 3/273.کتاب ھٰذا صفحہ 82)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"أَفْضَلُ الصَّحَابَةِ عَلَى الإِطْلَاقِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ"۔۔علی الاطلاق سب سے افضل صحابی سیدنا ابوبکر صدیق ہیں"(البدایہ والنہایہ 8/320،کتاب ھذا صفحہ:82)
نیز فرماتے ہیں:
"جو ہماری گزارشات پر غور کرے اس پر عیاں ہو جائے گا کہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کا سیدنا ابوبکر صدیق کی اولیت اور افضلیت پر اجماع تھا اور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی دلالت واضح ہو جائے گی اللہ اور مسلمان سوائے ابوبکر کے کسی کو تسلیم نہیں کریں گے".(صفحہ 83)
کتاب کی تصنیف میں شیخ محترم کی محنت اور عرق ریزی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہےکہ 147 صفحات کی اس کتاب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان کی اولیت اور افضلیت کے بارے میں ائمہ محدثین اور علمائے امت کے 271 حوالہ جات پیش کئے ہیں۔ فاضل مصنف کا انداز یہ ہے کہ کتاب کے شروع میں عنوان کے مطابق دعویٰ پیش کرنے کے بعد وضاحت،طوالت اور چونکہ چنانچہ کے تکلفات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس دعوی کی تائید میں دلائل ذکر کرتے ہیں ۔۔۔اور کرتے ہی جاتے ہیں۔
طلباء،علماء اور تحقیقی ذوق رکھنے والے احباب کیلئے "افضلیتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ"پر دلائل کا خوبصورت مرقع آپ کے سامنے ہے۔شیخ اس سے قبل "خلیفہ بلا فصل" کے نام سے ایک ضخیم کتاب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت کا اظہار کر چکے ہیں۔
اللہ تعالی ان دین جہود کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے لوگوں کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ اور فاضل مصنف کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے آمین ثم آمین