صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2050. إن بين يدي الساعة الهرج: القتل ما هو قتل الكفار ....
بیشک قیامت سے پہلے الْهَرْجُ یعنی بکثرت قتل و غارت ....
حدیث نمبر: 2047
«إن بين يدي الساعة الهرج: القتل ما هو قتل الكفار ولكن قتل الأمة بعضها بعضا حتى أن الرجل يلقاه أخوه فيقتله ينتزع عقول أهل ذلك الزمان ويخلف لها هباء من الناس يحسب أكثرهم أنهم على شيء وليسوا على شيء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» یعنی بکثرت قتل و غارت گری ہوگی، یہ کفار کا قتل نہیں ہوگا بلکہ امت کا ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا، یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے بھائی سے ملے گا اور اسے قتل کر دے گا، اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی اور ان کی جگہ ایسے بے وقوف اور بے وقعت لوگ رہ جائیں گے جن میں سے اکثر کا یہ گمان ہوگا کہ وہ کسی درست راہ پر ہیں، حالانکہ وہ کسی بھی حق بات پر نہیں ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2047]
”بیشک قیامت سے پہلے «الْهَرْجُ» یعنی بکثرت قتل و غارت گری ہوگی، یہ کفار کا قتل نہیں ہوگا بلکہ امت کا ایک دوسرے کو قتل کرنا ہوگا، یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے بھائی سے ملے گا اور اسے قتل کر دے گا، اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں سلب کر لی جائیں گی اور ان کی جگہ ایسے بے وقوف اور بے وقعت لوگ رہ جائیں گے جن میں سے اکثر کا یہ گمان ہوگا کہ وہ کسی درست راہ پر ہیں، حالانکہ وہ کسی بھی حق بات پر نہیں ہوں گے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم هـ] عن أبي موسى. الصحيحة 1628.»
قال الشيخ الألباني: صحيح