صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2056. إن جبريل أتاني حين رأيت فناداني فأخفاه منك فأجبته فأخفيته ....
بیشک جبریل میرے پاس آئے تھے جس وقت تم نے ....
حدیث نمبر: 2053
«إن جبريل أتاني حين رأيت فناداني فأخفاه منك فأجبته فأخفيته منك ولم يكن يدخل عليك وقد وضعت ثيابك وظننت أن قد رقدت فكرهت أن أوقظك وخشيت أن تستوحشي فقال: إن ربك يأمرك أن تأتي أهل البقيع فتستغفر لهم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بیشک جبریل میرے پاس آئے تھے جس وقت تم نے دیکھا تھا، انہوں نے مجھے پکارا تو اسے تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی انہیں جواب دیا اور اسے تم سے پوشیدہ رکھا، وہ تمہارے پاس داخل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ تم نے اپنے کپڑے اتار رکھے تھے، اور میں نے سمجھا کہ تم سو گئی ہو، اس لیے میں نے تمہیں جگانا پسند نہ کیا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا کہ (میرے جانے سے) تم وحشت محسوس کرو گی۔ پس انہوں نے (جبریل نے) کہا: بیشک آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2053]
”بیشک جبریل میرے پاس آئے تھے جس وقت تم نے دیکھا تھا، انہوں نے مجھے پکارا تو اسے تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی انہیں جواب دیا اور اسے تم سے پوشیدہ رکھا، وہ تمہارے پاس داخل نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ تم نے اپنے کپڑے اتار رکھے تھے، اور میں نے سمجھا کہ تم سو گئی ہو، اس لیے میں نے تمہیں جگانا پسند نہ کیا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہوا کہ (میرے جانے سے) تم وحشت محسوس کرو گی۔ پس انہوں نے (جبریل نے) کہا: بیشک آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/[حَرْفُ الْأَلِفِ] -- إِنْ ب/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [م] عن عائشة.»
قال الشيخ الألباني: صحيح