المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. أبو رفاعة العدوي واسمه تميم بن أسيد
سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ، ان کا نام تمیم بن اسید ہے
حدیث نمبر: 1269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: «كَانَ أَبُو رِفَاعَةَ يُسَخِّنُ الْمَاءَ لِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ يَقُولُ أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ مِنْ هَذَا، فَسَأُحْسِنُ مِنْ هَذَا فَيَتَوَضَّأُ، بِالْمَاءِ الْبَارِدِ»
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ”ابورفاعہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے لیے پانی گرم کرتے، پھر کہتے: اس سے اچھی طرح وضو کرو، اور میں اس (دوسرے پانی) سے اچھی طرح وضو کروں گا، پھر وہ خود ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1282»
حدیث نمبر: 1270
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو ظُفُرَ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ صِلَةُ بْنُ أَشْيَمٍ: «أُصِيبَ أَبُو رِفَاعَةَ، وَكُنَّا فِي غَزَاةٍ فَرَأَيْتُ كَأَنِّي أَرَى أَبَا رِفَاعَةَ عَلَى نَاقَةٍ سَرِيعَةٍ، وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ قَطُوفٍ، وَأَنَا عَلَى أَثَرِهِ فَيُعَرِّجُها، حَتَّى أَقُولَ الْآنَ أُسْمِعُهُ الصَّوْتَ، ثُمَّ يُسَرِّحُها فَتَنْطَلِقُ، وَأَتْبَعُهُ، فَأُوِّلَتْ رُؤْيَاي أَنَّهُ طَرِيقُ أَبِي رِفَاعَةَ آخُذُهُ، وَأَنَا أَكَدُّ الْعَمَلَ بَعْدَهُ كَدًّا»
صلہ بن اشیم بیان کرتے ہیں: ”ابورفاعہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، اور ہم ایک غزوے میں تھے، تو میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ابورفاعہ کو ایک تیز رفتار اونٹنی پر دیکھ رہا ہوں، اور میں ایک سست رفتار اونٹ پر ہوں، اور میں ان کے پیچھے ہوں، تو وہ اسے موڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ میں کہتا ہوں کہ اب میں اسے آواز سنا دوں گا، پھر وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو وہ آگے نکل جاتی ہے، اور میں ان کا پیچھا کرتا رہتا ہوں، تو میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر کی کہ یہ ابورفاعہ کا راستہ ہے جو میں اختیار کرتا ہوں، اور میں ان کے بعد سخت محنت کرتا ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1270]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1283»
حدیث نمبر: 1271
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ الْعَدَوِيُّ:" انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ، ثُمَّ أَتَى بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا، فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّهَا"
سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک اجنبی آدمی آیا ہے جو اپنے دین کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا خطبہ چھوڑ دیا، پھر ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے میرے خیال میں لوہے کے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے، اور مجھے وہ چیزیں سکھانے لگے جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی تھیں، پھر اپنا خطبہ جاری رکھا اور اسے پورا کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب التاء/حدیث: 1271]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 59، حدیث 1284»