المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب: ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله
ابوذر رضی اللہ عنہ کی مسند کی نادر روایات
حدیث نمبر: 1629
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زَيْنَبَ، مَوْلَى حَازِمٍ الْغِفَارِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرًّ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرًّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، بِأَبِي وَأُمِّي، قَالَ: «قُلْ لَا حَوْلَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
ابوزینب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر، کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، فرمایا: ”کہو: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 154، حدیث 1642»
حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زَيْنَبَ، مَوْلَى حَازِمٍ الْغِفَارِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرًّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرًّ تَقُولُ كَثْرَةُ الْمَالِ الْغِنَى؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «تَقُولُ قِلَّةُ الْمَالِ الْفَقْرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِنَى فِي الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فِي الْقَلْبِ، مَنْ كَانَ الْغِنَى فِي قَلْبِهِ لَا يَضُرُّهُ، مَا لَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَنْ كَانَ الْفَقْرُ فِي قَلْبِهِ، فَلَا يُغْنِيهِ مَا أَكْثَرَ لَهُ فِي الدُّنْيَا، وَإِنَّمَا يَضُرُّ نَفْسَهُ شُحُّها»
ابوزینب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر، کیا تم مال کی کثرت کو غنا سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کیا تم مال کی کمی کو فقر سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غنا دل میں ہے اور فقر بھی دل میں ہے، جس کے دل میں غنا ہو اسے دنیا کی کوئی بھی تنگی نقصان نہیں پہنچاتی، اور جس کے دل میں فقر ہو تو دنیا میں اس کے لیے مال کی کتنی ہی کثرت ہو اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی، اور آدمی کو اصل نقصان اس کے نفس کی بخیلی سے پہنچتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 154، حدیث 1643»
حدیث نمبر: 1631
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، أَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا ذَرًّ بِالرَّبَذَةِ يَسُوقُ بَعِيرًا لَهُ، عَلَيْهِ مُزَادَتَانِ فِي عُنُقِ الْبَعِيرِ قِرْبَةٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرًّ مَالَكَ؟ قَالَ: لِي عَمَلِي، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةٌ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ»
قَالَ: قُلْتُ زِدْنِي رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» ، قُلْتُ: زَوْجَيْنِ مَاذَا؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ صَاحِبَ خَيْلٍ فَفَرَسَيْنِ، وَصَاحِبَ إِبِلٍ فَبَعِيرَيْنِ، وَصَاحِبَ بَقَرٍ فَبَقَرَتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ أَصْنَافَ هَذَا الضَّرْبِ»
قَالَ: قُلْتُ زِدْنِي رَحِمَكَ اللهُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْفَقَ مِنْ مَالِهِ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» ، قُلْتُ: زَوْجَيْنِ مَاذَا؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ صَاحِبَ خَيْلٍ فَفَرَسَيْنِ، وَصَاحِبَ إِبِلٍ فَبَعِيرَيْنِ، وَصَاحِبَ بَقَرٍ فَبَقَرَتَيْنِ، حَتَّى عَدَّ أَصْنَافَ هَذَا الضَّرْبِ»
صعصعہ بن معاویہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی ملاقات ربذہ کے مقام پر ابوذر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، وہ اپنے اونٹ کو ہانک رہے تھے، اس پر دو بڑے مشکیزے تھے اور اونٹ کی گردن پر ایک چھوٹا مشکیزہ بھی، تو انہوں نے پوچھا: اے ابوذر، تمہارا کیا حال ہے؟ فرمایا: میرا تو بس میرا عمل ہے۔ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے۔ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جن بھی دو مسلمانوں (ماں باپ) کے تین بچے فوت ہوجائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں، تو اللہ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو بخش دیتا ہے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مزید بیان کیجیے۔ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو جنت کے دربان اس کا استقبال کرتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے جو اس کے پاس ہے۔“ میں نے کہا: جوڑے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”اگر وہ گھوڑوں والا ہے تو دو گھوڑے، اونٹوں والا ہے تو دو اونٹ، گائے بیل والا ہے تو دو گائیں“، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی مزید اقسام گنائیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 154، حدیث 1644»
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَهْوَازِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْعُصْفُرِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحَبِيبٍ، وَيُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، بَعِيرَيْنِ فَرَسَيْنِ، شَاتَيْنِ دِرْهَمَيْنِ، خُفَّيْنِ نَعْلَيْنِ»
صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال میں سے کوئی جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے، تو جنت کے دربان اس کی طرف لپکتے ہیں: دو اونٹ ہوں یا دو گھوڑے، دو بکریاں ہوں یا دو درہم، دو موزے ہوں یا دو جوتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 155، حدیث 1645»
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرًّ الْغِفَارِيَّ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللهِ شِبْرًا، تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، تَقَرَّبَ اللهُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَمَنْ أَقْبَلَ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَاشِيًا، أَقْبَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مُهَرْوِلًا، وَاللهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، وَاللهُ أَعْلَى، وَأَجَلُّ، وَاللهُ أَعْلَى، وَأَجَلُّ»
زیاد بن نعیم بیان کرتے ہیں: میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ کی طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے، اللہ اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، اور جو اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، اللہ اس کی طرف ایک باع قریب ہوتا ہے، اور جو چل کر اللہ عزوجل کی طرف آتا ہے، اللہ عزوجل دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے، اور اللہ سب سے بلند و بالا ہے، اللہ سب سے بلند و بالا ہے، اللہ سب سے بلند و بالا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 155، حدیث 1646»
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: تَرَكْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا طَائِرٌ يُقَلِّبُ جَنَاحَيْهِ فِي الْهَوَاءِ، إِلَّا وَهُوَ يُذَكِّرُنَا مِنْهُ عِلْمًا، قَالَ: فَقَالَ: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ، ويُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ، إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑا کہ ہوا میں پر پھڑپھڑاتا کوئی پرندہ ایسا نہ تھا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ علم کی بات نہ بتائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی چیز باقی نہیں بچی جو جنت کے قریب کرتی ہو یا جہنم سے دور کرتی ہو مگر وہ تمہارے لیے بیان کر دی گئی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 155، حدیث 1647»
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا الْغَسَّانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ أَصِلَ رَحِمِي، وَإِنْ أَدْبَرْتُ، وَأَنْ أَقُولَ الْحَقَّ، وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَنْ لَا تَأْخُذَنِي فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَنْ أُحِبَّ الْمَسَاكِينَ، وَأُجَالِسَهُمْ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي، وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے منہ موڑیں، اور یہ کہ میں سچ بات کہوں اگرچہ وہ کڑوی ہو، اور یہ کہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھ پر اثر انداز نہ ہو، اور یہ کہ میں مسکینوں سے محبت رکھوں اور ان کے ساتھ بیٹھوں، اور یہ کہ میں اپنے سے کم تر کی طرف دیکھوں اور اپنے سے بلند تر کی طرف نہ دیکھوں، اور یہ کہ میں کثرت سے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 156، حدیث 1648»
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ - وَرُبَّمَا، قَالَ إِسْمَاعِيلَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا -، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْهُمْ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنِّي، وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِي، وَإِنْ جَفَانِي، وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَأَنْ أَتَكَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِّ، وَلَا تَأْخُذُنِي فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا»
عامر بیان کرتے ہیں - یا اسماعیل کبھی کہتے کہ ہمارے کسی ساتھی نے بیان کیا - سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے، کہ انہوں نے فرمایا: ”میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات باتوں کی وصیت فرمائی: مسکینوں سے محبت رکھوں اور ان کے قریب رہوں، اپنے سے کم تر کی طرف دیکھوں اور اپنے سے بلند تر کی طرف نہ دیکھوں، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے بے رخی برتیں، کثرت سے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہوں، کڑوا سچ بولوں اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے نہ روکے، اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہ مانگوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 156، حدیث 1649»
حدیث نمبر: 1637
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمِلٌ، قَالَ: «يُرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا، لَا يَجِدُ مَا يُرْضَخُ بِهِ؟ قَالَ: «يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: «يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا؟ قَالَ: «يُعِينُ مَغْلُوبًا» ، قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَظْلُومًا؟ فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ، مِنْ خَيْرٍ تُمْسِكُ الْأَذَى، عَنِ النَّاسِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ، إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ»
مالک بن مرثد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ، بندے کو جہنم سے کیا چیز نجات دیتی ہے؟ فرمایا: ”اللہ پر ایمان۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی، کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے؟ فرمایا: ”اللہ نے اسے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ فقیر ہو اور اسے خرچ کرنے کے لیے کچھ نہ ملے تو؟ فرمایا: ”نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ ایسا کمزور بیان والا ہو کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ فرمایا: ”کسی نااہل کی مدد کرے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود ایسا نااہل ہو کہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو؟ فرمایا: ”کسی مظلوم کی مدد کرے۔“ میں نے کہا: اگر وہ خود اتنا کمزور ہو کہ کسی مظلوم کی مدد نہ کر سکے تو؟ فرمایا: ”تم اپنے ساتھی میں کیا خوبی باقی چھوڑنا چاہتے ہو؟ لوگوں کو تکلیف دینے سے رک جائے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، اگر وہ یہ کر لے تو جنت میں داخل ہوجائے گا؟ فرمایا: ”جو مسلمان بھی ان خصلتوں میں سے کوئی ایک خصلت اپنائے تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے جنت میں داخل کر دے گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 156، حدیث 1650»
حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمُقْرِئُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِنِي قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فَإِنَّهَا رَأْسُ أَمْرِكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَكَ نُورٌ فِي السَّمَاوَاتِ وَنَورٌ فِي الْأَرْضِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «لَا تُكْثِرِ الضَّحِكِ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّهُ مَرَدَّةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «انْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكَ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرِي نِعْمَةَ اللهِ عِنْدَكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «صِلْ قَرَابَتَكَ وَإِنْ قَطَعُوكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «لَا تَخَفْ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زِدْنِي قَالَ: «تُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرًّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ وَلَا حَسَبَ كَحُسْرِ الْخُلُقِ»
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: یا رسول اللہ، مجھے نصیحت کیجیے۔ فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے ہر معاملے کی اصل ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ آسمانوں میں تمہارے لیے نور اور زمین میں بھی نور ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”زیادہ ہنسنے سے بچو، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کر دیتا ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”جہاد کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”خیر کے سوا خاموشی اختیار کرو، کیونکہ یہ تم سے شیطان کو دور رکھنے اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہاری مدد کا ذریعہ ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اس کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہے اور اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے بلند تر ہے، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم اللہ کی نعمت کو حقیر نہ جانو جو تمہارے پاس ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اگرچہ وہ تم سے قطع تعلق کریں۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ، مزید فرمائیے۔ فرمایا: ”لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابوذر، تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں، بچاؤ جیسا کوئی تقویٰ نہیں، اور اچھے اخلاق جیسا کوئی حسب نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 157، حدیث 1651»