🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

37. شهر بن حوشب، عن جندب
شہر بن حوشب کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ، رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللهُ سَرِيَّتَهُ وَبِفَتْحِ اللهِ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيْنَمَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ فَلَمَّا حَسَّ أَنَّ السَّيْفَ مُوَاقِعُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَيَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ: «فَقَتَلْتَهُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ قَالَ: «فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ؟» قَالَ: لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ؟ قَالَ: «لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ وَلَا لِسَانِهِ صَدَّقْتَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ: «لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ» قَالَ: فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزَوْا مِمَّا لَقِيَ فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ، جو قبیلہ بجیلہ کے ایک آدمی تھے، کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر سے ایک خوشخبری دینے والا آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نصرت کی خبر دی جو اللہ نے آپ کے لشکر کو عطا فرمائی تھی اور اس فتح کی جو اللہ نے انہیں دی تھی، اور کہا: یا رسول اللہ، ہم دشمن کا تعاقب کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی تھی کہ میں نے ایک آدمی کو تلوار سے جا لیا، تو جب اسے احساس ہوا کہ تلوار اسے لگنے والی ہے اور وہ بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا: میں مسلمان ہوں، میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسے قتل کر دیا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، اس نے تو صرف پناہ مانگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا؟“ اس نے کہا: اگر میں اس کا دل چیر بھی دیتا تو مجھے کیا پتا چلتا، اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو تجھے اس کے دل کا حال معلوم تھا اور نہ ہی تو نے اس کی زبان کی تصدیق کی۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، میرے لیے بخشش مانگیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیرے لیے بخشش نہیں مانگوں گا۔“ پھر وہ آدمی مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کیا، تو صبح وہ زمین کے اوپر پڑا ملا، پھر انہوں نے اسے دوبارہ دفن کیا تو پھر صبح وہ زمین کے اوپر پڑا ملا، ایسا تین بار ہوا، تو جب انہوں نے یہ دیکھا تو اس پر جو گزری اس سے شرمندہ اور رسوا ہوگئے، تو انہوں نے اسے اٹھا کر پہاڑی گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں ڈال دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 176، حدیث 1723»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينِ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَاحْمِلُوا ذِكْرِكُمْ» ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِنَا بَيْتَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُمْسِكْ بِيَدِهِ وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ، وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْقَاتِلَ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي فِئَةِ الْإِسْلَامِ، فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ، وَيَسْفِكُ دَمَهُ، ويَعْصِي رَبَّهُ، وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وتَجِبُ لَهُ النَّارُ»
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: مجھ سے سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد اندھیری رات کے حصوں کی طرح فتنے ہوں گے، آدمی ان میں صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو کافر ہوگا اور صبح مومن“، تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ہم اس وقت کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ اور اپنے آپ کو گمنام رکھو“، ایک آدمی نے کہا: اگر ہم میں سے کسی کے گھر میں گھس آیا جائے تو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ روک لے اور اللہ کا مقتول بندہ بنے، اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے، کیونکہ آدمی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوکر اپنے بھائی کا مال کھا لیتا ہے، اس کا خون بہا دیتا ہے، اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے، تو اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 177، حدیث 1724»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں