المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
141. جبلة بن الأزرق
سیدنا جبلہ بن ازرق رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى جَنْبِ جِدَارٍ كَثِيرِ الْأَحْجِرَةِ صَلَّى ظَهْرًا أَوْ عَصْرًا، فَلَمَّا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ خَرَجَتْ عَقْرَبٌ فَلَدَغَتْهُ فَغُشِيَ عَلَيْهِ فَرَقَاهُ النَّاسُ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «اللهُ شَفَانِي وَلَيْسَ بِرُقْيَتِكُمْ»
سیدنا جبلہ بن ازرق رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی دیوار کے پاس نماز پڑھی جس میں بہت سے سوراخ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی، جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھے تو ایک بچھو نکلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈس لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو فرمایا: ”اللہ نے مجھے شفا دی ہے، تمہارے دم سے نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 287، حدیث 2196»