المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. محمد بن سيرين عن الحسن بن علي رضي الله عنه
محمد بن سیرین کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2730
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا جَالِسَيْنِ، فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ، فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَلَمْ يَقُمِ الْآخَرُ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «أَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» فَقَالَ الْآخَرُ: «بَلَى، ثُمَّ قَعَدَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ گزرا، تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے اور دوسرے کھڑے نہ ہوئے، تو ایک نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوتے تھے؟“ دوسرے نے کہا: ”کیوں نہیں، پھر بیٹھ گئے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 86، حدیث 2743»
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَرَّتْ جِنَازَةٌ بِابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ: «أَلَيْسَ قَدْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ أَوْ يَهُودِيَّةٍ مَرَّتْ بِهِ؟» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «بَلَى، وَجَلَسَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو سیدنا حسن کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس بیٹھے رہے، تو سیدنا حسن نے فرمایا: ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی یہودی مرد یا عورت کے جنازے کے لیے نہیں کھڑے ہوئے تھے جو آپ کے پاس سے گزرا؟“ سیدنا ابن عباس نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اور پھر بیٹھ گئے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 86، حدیث 2744»
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ جِنَازَةً مَرَّتْ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَامَ أَحَدُهُمَا، وَقَعَدَ الْآخَرُ، فَقَالَ الْقَائِمُ لِلْقَاعِدِ: «أَلَيْسَ قَدْ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالَ: «بَلَى، ثُمَّ قَعَدَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے اور دوسرے بیٹھے رہے، تو کھڑے ہونے والے نے بیٹھنے والے سے کہا: ”کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوتے تھے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، پھر بیٹھ گئے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2745»
حدیث نمبر: 2733
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، وَأَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَابْنَ عَبَّاسٍ مَرَّتْ عَلَيْهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَجَلَسَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: «أَلَمْ تَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ؟» قَالَ: «بَلَى، وَقَدْ جَلَسَ»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے بتایا گیا کہ سیدنا حسن بن علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو سیدنا حسن کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس بیٹھ گئے، تو سیدنا حسن نے سیدنا ابن عباس سے کہا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوئے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اور پھر بیٹھ گئے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2733]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2746»
حدیث نمبر: 2734
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا جَالِسَيْنِ، فَمَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ، فَقَامَ الْحَسَنُ، وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ وَجَلَسَ؟»
محمد بن سیرین کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو سیدنا حسن کھڑے ہو گئے اور سیدنا ابن عباس بیٹھے رہے، تو فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہوتے اور کبھی بیٹھے رہتے تھے؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2734]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2747»
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَوْ نَظَرْتُمْ مَا بَيْنَ جَابَرْسَ إِلَى جَابَلْقَ مَا وَجَدْتُمْ رَجُلًا جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي وَأَخِي، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْتَمِعُوا عَلَى مُعَاوِيَةَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١] ". قَالَ مَعْمَرٌ:" جَابَرْسُ وَجَابَلْقُ: الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ"
ابن سیرین کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم جابرس سے جابلق تک دیکھو تو مجھے اور میرے بھائی کے سوا کوئی ایسا شخص نہ پاؤ گے جس کا نانا نبی ہو، اور میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر متفق ہو جاؤ، ”اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مدت تک کے لیے فائدہ اٹھانا ہو“ [سورۃ الانبیاء: 111] ۔“ معمر کہتے ہیں: ”جابرس اور جابلق سے مراد مشرق اور مغرب ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 87، حدیث 2748»