🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

50. عبد الله بن معقل بن مقرن المزني، عن كعب
عبداللہ بن معقل بن مقرن مزنی کی سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16349
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابَ، قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْقِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] ، قَالَ: حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ كَذَا وَكَذَا مِسْكِينًا، كُلُّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ حِنْطَةً»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے بارے میں کہتے ہیں: ”پھر روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ ہے“ [سورۃ البقرہ: 196] ، وہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لے جایا گیا، جبکہ میرے چہرے پر جوئیں گر رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تکلیف تمہیں اس حد تک پہنچ گئی ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، کیا تمہارے پاس بکری ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تین دن روزے رکھو، یا اتنے اتنے مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو آدھا صاع گندم۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16349]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 136، حدیث 299»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16350
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْنَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ شَأْنُكَ؟، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَوَقَعَ الْقَمْلُ فِي رَأْسِي وَلِحْيَتِي وَشَارِبِي حَتَّى وَقَعَ فِي حَاجِبَيَّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى بَلَغَ بِكَ هَذَا، ادْعُ الْحَلَّاقَ» ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «هَلْ تَجِدُ نَسِيكَةً؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ» ، فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَلِلنَّاسِ عَامَّةً.
عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس پر روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ ہے“ [سورۃ البقرہ: 196] ۔ میں نے پوچھا: آپ کا کیا معاملہ تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالتِ احرام میں نکلے، تو میرے سر، داڑھی اور مونچھوں میں جوئیں پڑ گئیں یہاں تک کہ میری بھنووں میں بھی آ گئیں، تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم تھا کہ تجھے اس حد تک تکلیف پہنچی ہے، حجام کو بلاؤ۔“ چنانچہ حجام کو بلایا گیا اور اس نے میرا سر منڈوا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قربانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تین دن روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر دو مسکینوں کے درمیان ایک صاع۔“ چنانچہ یہ آیت خاص طور پر میرے بارے میں اور عام طور پر لوگوں کے لیے نازل ہوئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16350]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 136، حدیث 300»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16351
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16351]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 136، حدیث 301»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16352
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْقِلٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟» ، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ صَاعٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} [البقرة: ١٩٦] ، ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالتِ احرام میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑ گئیں، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کسی کو بھیجا اور حجام کو بلایا جس نے ان کا سر منڈوا دیا، پھر فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قربانی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میری استطاعت نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین دن روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا، ہر مسکین کو ایک صاع۔ تو اللہ عزوجل نے خاص طور پر ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس پر روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ ہے“ [سورۃ البقرہ: 196] ، پھر یہ حکم عام طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہو گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16352]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 137، حدیث 302»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16353
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: أَحْرَمْتُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَلِيَّ وَفْرَةٌ مِنْ شَعَرٍ، فَقَمِلْتُ وَأَخَذَنِي الصِّئْبَانُ، فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «احْلِقِ احْلِقْ» ، فَحَلَقْتُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟» ، قُلْتُ: مَا أَجِدُهُ، قَالَ: «إِنَّهُ مَا اسْتَيْسَرَ» ، قُلْتُ: مَا أَجِدُهُ، قَالَ: «فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ» ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ} [البقرة: ١٩٦] . «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حدیبیہ سے احرام باندھا، اس وقت میرے سر پر گھنے بال تھے، تو مجھے جوئیں پڑ گئیں اور نتیں (جوؤں کے انڈے) بھی چمٹ گئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور فرمایا: ”منڈوا لو، منڈوا لو۔“ تو میں نے سر منڈوا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ہدی (قربانی کا جانور) ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میسر ہو۔“ میں نے عرض کیا: میرے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تین دن روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع گندم کھلاؤ۔“ کہتے ہیں: میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو“ [سورۃ البقرہ: 196] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16353]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 138، حدیث 303»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16354
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَخْرَمُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ، فَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا، فَقَالَ: «فَإِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللهِ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اذان سنتا ہوں، مگر ہو سکتا ہے مجھے راستہ دکھانے والا کوئی نہ ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو اللہ کے بلانے والے کی پکار پر لبیک کہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16354]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 138، حدیث 304»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16355
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَة، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ، فَلَعَلِّي لَا أَجِدُ قَائِدًا وَيَشُقُّ عَلَيَّ، أَفَأَتَّخِذُ مَسْجِدًا فِي دَارِي؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَبْلُغُكَ النِّدَاءُ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَاخْرُجْ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میں اذان سنتا ہوں، مگر ہو سکتا ہے مجھے راستہ دکھانے والا کوئی نہ ملے اور یہ میرے لیے مشکل ہو، تو کیا میں اپنے گھر میں نماز کی جگہ بنا لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اذان کی آواز پہنچتی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جب اذان سنو تو نکل آؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16355]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 139، حدیث 305»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں