المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. الربيع بن كعب بن عجرة، عن أبيه
ربیع بن کعب بن عجرہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 16378
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ دِهْقَانَ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ تَزَوَّجْتَ؟» ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لِي: «تَزَوَّجْتَ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟» ، قُلْتُ: لَا، بَلْ ثَيِّبًا، فَقَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ»
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے ربیع بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک صحابی سے) فرمایا: ”اے فلاں! کیا تم نے شادی کی؟“ اس نے کہا: نہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا: ”کیا تم نے شادی کی؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے یا شوہر دیدہ سے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ شوہر دیدہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری سے شادی کیوں نہ کی، جس کے ساتھ تم چھیڑ چھاڑ کرتے اور وہ تمہارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16378]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 149، حدیث 328»