المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. ما أسند أبو رهم الغفاري
سیدنا ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 16464
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا، فَلَمَّا سِرْنَا لَيْلَةً سِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ فَأُلْقِيَ عَلِيَّ النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي، حَتَّى غَلَبَ عَلَى عَيْنِي بَعْضُ اللَّيْلِ فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسِّ» ، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «سِرْ» ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَخْبِرُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُنِي: «مَا فَعَلَ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثَّطَاطُ؟» ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ» ، أَوْ قَالَ: «الْقِصَارُ الْجِعَادُ الثَّطَاطُ الَّذِينَ لَهُمْ نِعَمٌ بِشَبَكَةٍ سُرُحٌ؟» ، قَالَ: فَذَكَرْتُ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ، حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ قَدْ تَخَلَّفُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا يَمْنَعُ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللهِ؟، فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلِيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ، مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ»
سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی، ایک رات جب ہم چل رہے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چل رہا تھا کہ مجھ پر اونگھ طاری ہو گئی، میں بار بار چونک کر جاگتا تو دیکھتا کہ میری سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہو گئی ہے، اس کا قریب ہونا مجھے گھبرا دیتا، اس ڈر سے کہ کہیں رکاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو نہ لگ جائے، تو میں اپنی سواری کو پیچھے کر لیتا، یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی اور میری سواری رکاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے ٹکرا گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو لگ گئی، تو مجھے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”حَس“ کہنے سے ہوش آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلتے رہو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بنو غفار میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو میں انہیں بتاتا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”لمبے، سرخ رنگ، کم داڑھی والے لوگوں کا کیا بنا؟“ تو میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کی بات بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کالے لوگوں کا کیا بنا“، یا فرمایا: ”چھوٹے قد، گھونگھریالے بالوں والے، کم داڑھی والے لوگوں کا، جن کے مویشی شبکہ میں چرتے ہیں؟“ میں نے بنو غفار میں انہیں یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آئے، یہاں تک کہ مجھے بنو اسلم کی ایک جماعت یاد آئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بنو اسلم کی ایک جماعت ہے جو پیچھے رہ گئی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان میں سے کسی کو کیا چیز روکتی تھی کہ پیچھے رہتے ہوئے بھی اپنے اونٹوں میں سے کسی ایک پر کسی پھرتیلے آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کر کے بھیج دیتا؟ کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ گراں بات یہ ہے کہ میرے اپنے لوگ، قریش کے مہاجرین، انصار، اسلم اور غفار، مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16464]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 183، حدیث 415»
حدیث نمبر: 16465
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّ لَيْلَةً فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ کے بھتیجے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابو رہم رضی اللہ عنہ کو، جو بیعتِ رضوان کے وقت درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے تھے، یہ کہتے سنا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے پر گیا، ایک رات میں نے قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چلنے لگا، پھر راوی نے (آگے) حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16465]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 184، حدیث 416»
حدیث نمبر: 16466
حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي رُهْمٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكٍ، فَلَمَّا قَفَلَ سَرَى لَيْلَةً بِالْأَخْضَرِ، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، وَأُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ فَأُؤَخِّرُ رَاحِلَتِي، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَرْزِ فَأَصَابَتْ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسِّ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: «سِرْ» ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ وَهُوَ يَسْأَلُنِي: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثَّطَاطُ؟» ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجَرَادُ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نِعَمٌ بِشَبَكَةٍ سُرُحٌ؟» ، قَالَ: فَتَذَكَّرْتُ فِي بَنِي غِفَارٍ فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللهِ؟، فَإِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلِيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ» . «فَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَبَيْنَ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ ابْنُ أُكَيْمَةَ»
سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو ایک رات اخضر کے مقام پر سفر فرمایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب چل رہا تھا، اور ہم پر اونگھ طاری ہو گئی، میں بار بار چونک کر جاگتا تو دیکھتا کہ میری سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہو گئی ہے، اس کا قریب ہونا مجھے گھبرا دیتا، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں رکاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو نہ لگ جائے، تو میں اپنی سواری کو پیچھے کر لیتا، یہاں تک کہ رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی اور میری سواری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے رکاب میں ٹکرا گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو لگ گئی، تو مجھے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”حَس“ کہنے سے ہوش آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلتے رہو۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بنو غفار میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں پوچھنے لگے، تو میں نے بتایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”لمبے، سرخ رنگ، کم داڑھی والے لوگوں کا کیا بنا؟“ تو میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کی بات بتائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کالے، ٹڈی جیسے، چھوٹے قد والوں کا کیا بنا، جن کے مویشی شبکہ میں چرتے ہیں؟“ میں نے بنو غفار میں انہیں یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آئے، یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ وہ بنو اسلم کی ایک جماعت ہے جو پیچھے رہ گئی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کسی کو کس چیز نے روکا کہ پیچھے رہتے ہوئے بھی اپنے اونٹوں میں سے کسی ایک پر کسی پھرتیلے آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کر کے بھیج دیتا؟ کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ گراں بات یہ ہے کہ میرے اپنے لوگ، قریش کے مہاجرین، انصار، اسلم اور غفار، مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“
(طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے، اور (زہری اور) ابو رہم کے بھتیجے کے درمیان ابن اُکیمہ کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16466]
(طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے، اور (زہری اور) ابو رہم کے بھتیجے کے درمیان ابن اُکیمہ کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16466]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 184، حدیث 417»
حدیث نمبر: 16467
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي رُهْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ، أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكٍ، فَسِرْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَهُ وَنَحْنُ بِالْأَخْضَرِ قَرِيبٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُلْقِيَ عَلَيْنَا النُّعَاسُ وَجَعَلْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَطَفِقْتُ أَحُوزُ رَاحِلَتِي عَنْهُ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ وَنَحْنُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَزَاحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَمَا اسْتَيْقَظْتُ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسِّ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ: «سِرْ» ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَأُخْبِرُهُ بِهِ، فَقَالَ وَهُوَ يَسْأَلُنِي: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمُرُ الطِّوَالُ الثَّطَاطُ؟» ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، قَالَ: «فَمَا فَعَلَ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِصَارُ؟» ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللهِ مَا أَعْرِفُ هَؤُلَاءِ مِنَّا، قَالَ: «بَلَى، الَّذِينَ لَهُمْ نِعَمٌ بِشَبَكَةٍ شُدُخٌ؟» ، فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارٍ وَلَمْ أَذْكُرْهُمْ، حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّهُمْ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَ فِينَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ كَانُوا حُلَفَاءَ فِينَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَ أَحَدَ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللهِ؟ إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلِيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارُ، وَغِفَارٌ، وَأَسْلَمُ»
سیدنا ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی، ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہم اخضر کے مقام پر تھے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا، ہم پر اونگھ طاری ہو گئی، میں بار بار چونک کر جاگتا تو دیکھتا کہ میری سواری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہو گئی ہے، اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا مجھے گھبرا دیتا، اس ڈر سے کہ کہیں رکاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو نہ لگ جائے، تو میں اپنی سواری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہٹانے لگتا، یہاں تک کہ راستے کے کسی حصے میں، رات کے وقت، میری آنکھ لگ گئی اور میری سواری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے ٹکرا گئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں رکاب میں تھا، تو مجھے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ”حَس“ کہنے سے ہوش آیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے استغفار کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلتے رہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بنو غفار میں سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں پوچھنے لگے، تو میں بتاتا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”لمبے، سرخ رنگ، کم داڑھی والے لوگوں کا کیا بنا؟“ تو میں نے ان کے پیچھے رہ جانے کی بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ان کالے، گھونگھریالے، چھوٹے قد والوں کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں ہم میں سے ان لوگوں کو نہیں پہچانتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، وہی جن کے مویشی شبکۂ شدخ میں ہیں۔“ تو میں نے انہیں بنو غفار میں یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آئے، یہاں تک کہ مجھے یاد آیا کہ وہ بنو اسلم کی ایک جماعت ہے جو ہمارے حلیف تھے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بنو اسلم کی جماعت ہے جو ہمارے حلیف تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کسی کو کس چیز نے روکا کہ پیچھے رہتے ہوئے بھی اپنے اونٹوں میں سے کسی ایک پر کسی پھرتیلے آدمی کو اللہ کی راہ میں سوار کر کے بھیج دیتا؟ میرے لیے سب سے زیادہ گراں بات یہ ہے کہ میرے اپنے لوگ، قریش کے مہاجرین، انصار، غفار اور اسلم، مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16467]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 185، حدیث 418»
حدیث نمبر: 16468
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، حَدَّثَنِي مَوْلَايَ أَبُو رُهْمٍ، قَالَ: «شَهِدْتُ أَنَا وَأَخِي خَيْبَرَ وَمَعَنَا فُرْسَانٌ،» فَقَسَمَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَسْهُمٍ، لِلْفَرَسَيْنِ أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ، وَلَنَا سَهْمََيْنِ، فَبِعْنَا سَهْمَيْنَا بِبِكْرَيْنِ"
سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ میرے آقا ابو رہم رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: میں اور میرا بھائی خیبر میں شریک ہوئے اور ہمارے ساتھ دو گھوڑے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے چھ حصے تقسیم کیے، دونوں گھوڑوں کے لیے چار حصے اور ہمارے لیے دو حصے، تو ہم نے اپنے دونوں حصے دو نوجوان اونٹنیوں کے بدلے بیچ دیے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16468]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 186، حدیث 419»
حدیث نمبر: 16469
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ، عَنْ أبِي رُهْمٍ، وَعَنْ أَخِيهِ،: «أَنَّهُمَا كَانَا فَارِسَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأُعْطَيَا سِتَّةَ أَسْهُمٍ، أَرْبَعَةٌ لِفَرَسَيْهِمَا وَسَهْمَانِ لَهُمَا، فَبَاعَا السَّهْمَيْنِ بِبِكْرَيْنِ»
سیدنا ابو رہم غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں خیبر کے دن گھوڑے سوار تھے، تو انہیں چھ حصے دیے گئے، چار ان کے دونوں گھوڑوں کے لیے اور دو حصے ان دونوں کے لیے، تو انہوں نے وہ دونوں حصے دو نوجوان اونٹنیوں کے بدلے بیچ دیے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16469]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 186، حدیث 420»