🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

100. كدير الضبي " كان ينزل الكوفة، وقد اختلف في صحبته "
سیدنا کدیر ضبی رضی اللہ عنہ، جو کوفہ میں رہائش رکھتے تھے، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16471
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أبِي إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنِي كُدَيْرٌ الضَّبِّيُّ: أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَهُمَا أَهَمَّتَاكَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تَقُولُ الْعَدْلَ وَتُعْطِي الْفَضْلَ» ، قَالَ: وَاللهِ مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ فَضْلَ مَالِي، قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُفْشِي السَّلَامَ» ، قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ، فَقَالَ: «فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ ثُمَّ اعْمِدْ إِلَى أَهْلَ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسِقِهِمْ، فَلَعَلَّكَ لَا تُهْلِكُ بَعِيرَكَ وَلَا تَخْرِقُ سِقَاءَكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ» ، فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ وَلَا هَلَكَ بَعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا
سیدنا کدیر ضبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے یہی دونوں باتیں فکرمند کیے ہوئے ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاف کی بات کہو اور اپنے مال کا زائد حصہ دو۔“ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں ہر وقت انصاف کی بات نہیں کہہ سکتا، اور نہ اپنے مال کا زائد حصہ دے سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانا کھلاؤ اور سلام عام کرو۔“ اس نے کہا: یہ بھی مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اور ایک مشک لے، پھر کسی ایسے گھرانے کا رخ کر جو وقفے وقفے سے پانی پیتے ہوں، اور انہیں پلا دے، شاید تیرا اونٹ نہ مرے اور نہ تیری مشک پھٹے یہاں تک کہ تیرے لیے جنت واجب ہو جائے۔“ تو وہ اعرابی تکبیر کہتا ہوا چل دیا، اور نہ اس کی مشک پھٹی نہ اونٹ مرا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الكاف/حدیث: 16471]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 187، حدیث 422»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں