🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

32. أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي أسيد
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16638
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» . قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ:" لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ: خُلِقْنَا فَكُنَّا أَهَمَّ الْأَرْبَعَةِ، أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ: أَتَذْهَبُ تَرُدُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ، وَاللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ؟، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر بنو نجار کے گھرانے ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر حارث بن خزرج کا گھرانہ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ، اور انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی ہے۔“ ابواسید نے کہا: ”اگر میں جھوٹ بولنے والا ہوتا تو اپنی قوم بنو ساعدہ سے شروع کرتا۔“ یہ بات سعد بن عبادہ تک پہنچی تو انہیں اس پر ناگواری محسوس ہوئی اور کہا: ہم پیدا ہوئے تو چار قبیلوں میں سب سے زیادہ اہم تھے، میرے لیے میرا گدھا تیار کرو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں۔ اس پر ان کے بھتیجے سہل نے ان سے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں؟ چنانچہ انہوں نے اپنے گدھے کو کھولنے کا حکم دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16638]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 266، حدیث 589»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16639
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ، ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ»
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میں سب سے بہتر بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو ساعدہ، پھر بنو حارث بن خزرج۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16639]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 266، حدیث 590»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں