🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

142. القاسم أبو عبد الرحمن، عن معاوية
قاسم، ابوعبدالرحمن، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16928
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: مَا أَحَادِيثُ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا؟، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْفِيَكَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا إِنَاثٌ مَا أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ بِهَا سَاعَةً، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا حَدِيثٌ تُحَدِّثُ بِهِ فِي الطِّلَا؟، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ مَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ تَقَوَّلَ عَلِيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخَمْرِ: «مَنْ وَضَعَهَا عَلَى كَفِّهِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ دَعْوَةٌ، وَمَنْ أَدْمَنَ عَلَى شُرْبِهَا سُقِيَ مِنَ الْخَبَالِ» ، وَالْخَبَالُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ، فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ سَمِعْتَ مِثْلَ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ: فَهَمَّ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُصَدِّقَهُ ثُمَّ سَكَتَ
قاسم ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو بلوا بھیجا اور فرمایا: یہ کیسی حدیثیں ہیں جن کے بارے میں مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم انہیں بیان کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں شام سے جلا وطن کر دوں۔ انہوں نے کہا: سنیے! اللہ کی قسم! اگر (میرے گھر کی) عورتیں نہ ہوتیں تو میں ایک گھڑی بھی یہاں رہنا پسند نہ کرتا۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ان سے) پوچھا: تم ”طِلاء“ (پکائی ہوئی انگور کی شیرہ) کے بارے میں کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سنیے! میرے لیے یہ حلال نہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص مجھ پر وہ بات گھڑے جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اسے اپنی ہتھیلی پر رکھے، اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی، اور جو اس کے پینے پر ہمیشگی اختیار کرے اسے خبال پلایا جائے گا۔“ اور خبال جہنم کی ایک وادی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: اے معاویہ! میرا خیال ہے کہ آپ نے بھی وہی کچھ سنا ہے جو میں نے سنا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تصدیق کرنے کا ارادہ کیا پھر خاموش ہو گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16928]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 374، حدیث 879»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16929
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّاطَرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَبْلَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَيَقُولُ: «إِنَّ الصِّيَامَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا، وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَقَدَّمَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتْرُكَ فَلْيَتْرُكْ»
قاسم ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے ایک دن پہلے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کرتے تھے: ”روزہ فلاں فلاں دن سے ہے، اور ہم پہلے سے روزہ رکھ لیتے ہیں، تو جو چاہے پہلے سے رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16929]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 375، حدیث 880»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں