المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. أبو عامر الهوزني عبد الله بن لحي، عن معاوية
ابوعامر ہوزنی، عبداللہ بن لحی، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 16933
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أُخْبِرَ بِقَاصٍّ يَقُصُّ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، مَوْلًى لِبَنِي مَخْزُومَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أُمِرْتَ بِهَذَا الْقَصَصِ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَقُصَّ بِغَيْرِ إِذْنٍ؟، قَالَ: نَنْشُرُ عِلْمًا عَلَّمْنَاهُ اللهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ قَبْلَ مُدَّتِي هَذِهِ لَقَطَعْتُ مِنْكَ طَائِفًا، ثُمَّ قَامَ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرُقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، يَعْنِي الْأَهْوَاءَ، وَكُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ» ، وَقَالَ: «إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَتَجَارَى بِهِمُ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ، فَلَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ» ، وَاللهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَيْرُكُمْ مِنَ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِ
ابوعامر ہوزنی عبداللہ بن لحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، جب ہم مکہ پہنچے تو انہیں ایک قصہ گو کے بارے میں بتایا گیا جو اہل مکہ کو قصے سناتا تھا، وہ بنو مخزوم کا آزاد کردہ غلام تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے بلوایا اور فرمایا: کیا تمہیں ان قصوں کا حکم دیا گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: تو تمہیں اجازت کے بغیر قصے سنانے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: ہم وہ علم پھیلاتے ہیں جو اللہ نے ہمیں سکھایا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں اپنی اس مدت سے پہلے تمہیں تنبیہ کر چکا ہوتا تو تمہارا ایک حصہ کاٹ ڈالتا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ مکہ میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (73) فرقوں میں بٹے گی“، یعنی خواہشات کی بنا پر، ”اور یہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، اور وہ جماعت ہے۔“ اور فرمایا: ”بے شک میری امت میں سے کچھ لوگ نکلیں گے جن میں خواہشات اس طرح دوڑیں گی جیسے کتے میں باؤلاپن دوڑتا ہے، یہاں تک کہ کوئی رگ یا جوڑ ایسا نہیں رہے گا جس میں یہ داخل نہ ہو جائے۔“ اللہ کی قسم اے عرب کے لوگو! اگر تم اس دین پر قائم نہ رہے جسے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو تمہارے علاوہ لوگوں کا اس پر قائم نہ رہنا زیادہ یقینی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16933]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 376، حدیث 884»
حدیث نمبر: 16934
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا فِي كِتَابِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، يَعْنِي الْأَهْوَاءَ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تُجَارِي بِهِمُ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ لِصَاحِبِهِ، وَلَا يَبْقَى عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ»
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب اپنی کتاب کے بارے میں بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر (73) فرقوں میں بٹے گی“، یعنی خواہشات کی بنا پر، ”یہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، اور وہ جماعت ہے، اور بے شک میری امت میں کچھ لوگ نکلیں گے جن میں یہ خواہشات اس طرح دوڑیں گی جیسے کتے میں باؤلاپن دوڑتا ہے، اور کوئی رگ یا جوڑ ایسا نہیں رہے گا جس میں یہ داخل نہ ہو جائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16934]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 377، حدیث 885»