🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

279. عمرو بن ميمون الأودي، عن معاذ بن جبل
عمرو بن میمون اودی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ» ، فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ بِالنِّسَاءِ، فَلَمَّا بَلَغَ: {وَاتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا} [النساء: ١٢٥] " قَالَتِ امْرَأَةٌ: قَدْ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا، تو انہوں نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، اور سورۃ النساء کی تلاوت کی، جب اس آیت پر پہنچے: ﴿اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا﴾ [النساء: 125] ، تو ایک عورت نے کہا: ام ابراہیم کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17388]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 126، حدیث 252»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17389
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17389]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 126، حدیث 253»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17390
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي يَا مُعَاذُ مَا حَقُّ اللهِ عَلَى النَّاسِ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «حَقُّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، تَدْرِي يَا مُعَاذُ مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ يَعْمَلُونَ»
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر اس کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ ایسا کر لیں تو لوگوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے“، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، وہ عمل کرتے رہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17390]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 126، حدیث 254»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ؟ حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے، اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس حال میں مرے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17391]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 127، حدیث 255»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17392
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، فَقَالَ لِي: «يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ فَقَالَ: «لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا»
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ یہ کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو“، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں خوشخبری مت سناؤ، ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17392]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 127، حدیث 256»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17393
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ؟» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17393]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 127، حدیث 257»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں