المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
289. عبد الله بن شداد بن الهاد، عن معاذ
عبداللہ بن شداد بن ہاد کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17442
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْلُبُهُ، فَقِيلَ لِي: خَرَجَ، فَجَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِأَحَدٍ إِلَّا قَالَ: مَرَّ قَبْلُ، فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قُلْتُ: لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلَاةً طَوِيلَةً قَالَ: «إِنِّي صَلَّيْتُ رَغْبَةً وَرَهْبَةً، سَأَلْتُ اللهَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِيَ اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا لَيْسَ مِنْهُمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ»
عبداللہ بن شداد بن الہاد رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو مجھے بتایا گیا: وہ نکل چکے ہیں۔ چنانچہ میں جس کسی کے پاس سے بھی گزرتا وہ کہتا: وہ پہلے یہاں سے گزر چکے۔ پھر میں نے انہیں کھڑے نماز پڑھتے پایا۔ جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کی تو میں نے عرض کیا: آپ نے بہت لمبی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رغبت اور رہبت (کی بنا پر یہ) نماز پڑھی، میں نے اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے مجھے روک دیا: میں نے اس سے یہ مانگا کہ وہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان پر کسی ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان کی آپس کی لڑائی نہ رکھے، تو اس نے یہ مجھے نہ دی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17442]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 148، حدیث 306»
حدیث نمبر: 17443
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: «إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، وَسَأَلْتُ اللهَ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِيَ اثْنَتَيْنِ وَرَدَّ وَاحِدَةً، سَأَلْتُ أَنْ لَا يُسَلَّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّ عَلَيَّ»
عبداللہ بن شداد بن الہاد رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایسی نماز پڑھی جس میں طوالت اختیار کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج آپ نے نماز میں بہت طوالت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے رغبت اور رہبت (کی بنا پر یہ) نماز پڑھی، اور میں نے اپنی امت کے لیے اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے روک دیا: میں نے مانگا کہ ان پر کسی ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے مانگا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے مانگا کہ ان کی آپس کی لڑائی نہ رکھے، تو اس نے یہ مجھے نہ دی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17443]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 148، حدیث 307»