المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
314. معاذ بن الحارث الأنصاري بدري " وهو ابن عفراء، وعفراء أمه "
سیدنا معاذ بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ، بدری صحابی (آپ ابن عفراء کے نام سے معروف ہیں، عفراء آپ کی والدہ تھیں)
حدیث نمبر: 17511
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ زِيَادٍ الْبَكَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ" فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا: مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ وَهُوَ مُعَاذُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ سَوْدَاءَ بْنِ مَالِكِ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ، وَعَفْرَاءُ أُمُّهُ، وَهِيَ أُمُّ عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ، كُلُّهُمْ شَهِدَ بَدْرًا، وَعَفْرَاءُ بِنْتُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ غَنْمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّجَّارِ"
ابن اسحاق بدر میں شریک ہونے والوں کے نام گنواتے ہوئے کہتے ہیں: معاذ بن عفراء، اور وہ معاذ بن حارث بن رفاعہ بن سوداء بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار ہیں، اور عفراء ان کی والدہ کا نام تھا، وہ عوف اور معوذ کی بھی والدہ تھیں، ان سب نے بدر میں شرکت کی۔ عفراء بنت عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار تھیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17511]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 176، حدیث 376»
حدیث نمبر: 17512
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهُ كَانَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَمْ يُصَلِّ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ - رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ -: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ: بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ"
سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انہوں نے عصر کے بعد طواف کیا مگر نماز نہیں پڑھی۔ ایک شخص - قریش سے تعلق رکھنے والا، جس کا نام بھی معاذ تھا - نے ان سے کہا: تمہیں نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو نمازوں کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے: فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، اور عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17512]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 176، حدیث 377»
حدیث نمبر: 17513
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاذٍ الْقُرَشِيِّ، أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، فَلَمْ يُصَلِّ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ: بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ"
نصر بن عبدالرحمٰن اپنے دادا معاذ قرشی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ عصر کے بعد اور صبح کے بعد بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے مگر نماز نہیں پڑھی، تو ان سے پوچھا گیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں: صبح کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، اور عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17513]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 176، حدیث 378»
حدیث نمبر: 17514
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ نَصْرَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاذٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمٍ - أَنَّهُ كَانَ يَطُوفُ بَعْدَ الْعَصْرِ مَعَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ وَلَمْ يُصَلِّ فَقُلْتُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟ فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ: بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ"
نصر بن عبدالرحمٰن اپنے دادا معاذ سے - جو بنو تیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص تھے - روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ عصر کے بعد طواف کر رہے تھے اور نماز نہیں پڑھی، تو میں نے پوچھا: تمہیں نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ تو انہوں نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: صبح کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، اور عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17514]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 177، حدیث 379»