المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
347. نافع بن أبي نافع، عن معقل بن يسار
نافع بن ابی نافع کی سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17671
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: أَعُوذُ بِالسَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَقَرَأَ ثَلَاثَ مِرَارٍ آخِرَ سُورَةِ الْحَشْرِ، وَكَّلَ اللهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِي، إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا، فَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ مِثْلُ ذَلِكَ"
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت تین بار کہے: 'میں سننے اور جاننے والے کی پناہ چاہتا ہوں مردود شیطان سے' اور سورۃ الحشر کی آخری آیات تین بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اگر وہ اسی دن مر جائے تو شہید کی موت مرتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ کہے تو بھی ایسا ہی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17671]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 229، حدیث 537»
حدیث نمبر: 17672
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: وَضَّأْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ لِي: «هَلْ لَكَ فِي فَاطِمَةَ» ؟ - يَعْنِي ابْنَتَهَ - قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَيَّ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَحْمِلُ الثِّقْلَ غَيْرُكَ وَيَكُونُ الْأَجْرُ لَكَ» ، فَكَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيَّ شَيْءٌ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ لَهَا: «كَيْفَ تَجِدِينَكَ؟» فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدِ اشْتَدَّ حُزْنِي، وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِي، وَطَالَ سُقْمِي، فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمًا، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا، وَأَحْلَمَهُمْ حِلْمًا» ؟
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف چلنا پسند ہے؟“ - یعنی اپنی بیٹی کی طرف - میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سہارے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”سنو! بوجھ تمہارے علاوہ کوئی اور اٹھائے گا، مگر اجر تمہیں ملے گا۔“ گویا مجھ پر بوجھ کا کچھ اثر ہی نہ رہا، یہاں تک کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے آپ کو کیسا پاتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میرا غم شدید ہو گیا ہے، اور میری تنگ دستی بڑھ گئی ہے، اور میری بیماری طویل ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تمہارا نکاح اپنی امت کے سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے زیادہ علم رکھنے والے، اور سب سے زیادہ بردبار شخص سے کیا؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17672]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 229، حدیث 538»
حدیث نمبر: 17673
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمِي، فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا»
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی قوم کے درمیان فیصلہ کروں، تو میں نے عرض کیا: مجھے فیصلہ کرنا اچھی طرح نہیں آتا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ناانصافی نہ کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17673]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 230، حدیث 539»
حدیث نمبر: 17674
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا حَمْزَةُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْمُعَلِّمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَ قَوْمِي فَقُلْتُ: مَا أُحْسِنُ الْقَضَاءَ، فَقَالَ: «اقْضِ بَيْنَهُمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا»
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی قوم کے درمیان فیصلہ کروں، تو میں نے عرض کیا: مجھے فیصلہ کرنا اچھی طرح نہیں آتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان فیصلہ کرو، کیونکہ اللہ عزوجل قاضی کے ساتھ ہے جب تک وہ جان بوجھ کر ناانصافی نہ کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17674]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 230، حدیث 540»